لکھنے کا تعلق دلچسپی سے ہوتا ہے ‘ کسی چیز میں دلچسپی ہو یا اُس کے بارے میں جنون ہو پھر ہی نشتر چلانے کا کوئی سواد آتاہے۔ موضوع پھیکا ہو اور اُس موضوع کے حوالے سے موڈ بنتا ہی نہ ہو تو کیا کوئی خاک الفاظ کی زور آزمائی کر ے گا؟ ساری صحافتی زندگی سیاست کے موضوعات پر گولہ باری کرتے آئے ہیں لیکن اب حالت یہ ہے کہ سیاست تقریباً آدھی دیس میں دفن ہو چکی ہے۔ کچھ عمر کا بھی تقاضا ہے کہ سیاست کے حوالے سے جو ایک زمانے میں جنون ہوا کرتا تھا اب رہا نہیں۔ایامِ جوانی میں کیا کیا خواب لے کر زندگی میں قدم رکھنے کا ارادہ نہیں باندھا تھا۔ آمریت کے دن ہوتے تو سمجھتے کہ جمہوریت کا سورج طلوع ہوگا تو سرسبز شاہرائیں کھل جائیں گی۔ اس جمہوریت کی آب و تاب بھی دیکھی اور ایک ایک کرکے جوانی کے سارے خواب بکھرتے گئے۔
صحافت بھی تھوڑا مشکل ہوگئی ہے۔ ایک تو اخبارات کی وہ وقعت نہیں رہی جو گزرے ایام میں ہوا کرتی تھی۔ مطالعہ لوگ کم کرتے ہیں‘ ٹی وی چینلوں کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے‘ زیادہ شورو غوغا سوشل میڈیا کا ہے۔ اُن نوجوان دوستوں کو داد دینی پڑتی ہے جو روز بیٹھ کر ایک پوڈکاسٹ نکال مارتے ہیں۔ ادھر اُدھر سے ہمیں بھی نصیحتیں آتی ہیں لیکن پوڈکاسٹ والا مزاج نہیں اور اس لیے معلوم ہے کہ ہمارے بس کی بات نہیں۔ لکھنے میں دشواری یہ ہے کہ احتیاط لازم ہو گئی ہے۔ بہت سے موضوعات شجرِممنوعہ ہو گئے ہیں۔ بہت سی کارروائیاں بہت سی مقدس ہستیاں ایسی ہیں جن کا ذکر اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ ہاں تعریف کے ڈونگرے برسانے ہوں وہ اور بات ہے لیکن جہاں خواب سب بکھر گئے بہت کچھ چلا گیا وہاں تعریف کرنے کیا بیٹھ جائیں۔ البتہ ماننا پڑے گا کہ کئی دوستوں نے تعریف کو ایک ہنر کی شکل عطا کر دی ہے۔
ایک اور مسئلہ پارسائی کا ہے۔ عالمِ شب کے بارے میں تھوڑی ہٹ کے بات ہو گی اور اُن کو لگا کہ قوم کی اجتماعی اخلاقیات خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ ویسے ہی یہاں کا ماحول دبا دبا ہے اوپر سے ایسے ناصح آ جائیں جن کی کوئی کمی نہیں تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس معاشرے کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ یہ نہیں کہ پارسائی پہ کوئی اعتراض ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ دنیا کی کوئی بے ایمانی نہیں جس کی روایت یہاں قائم نہ ہو چکی ہو لیکن جب دوست احباب نصیحت کرنے پر آتے ہیں تو تاثر ملتا ہے کہ اس سے زیادہ دودھ سے دھلی کوئی سرزمین نہیں۔ ایسے مہربان یہ بھی کہتے ہیں کہ فلاں چیز کی اجازت قانون میں نہیں ہے۔ ان حضرات سے پوچھا جائے کہ باقی جو بے ایمانیاں روا ہیں اُن کی اجازت کون سا قانون دیتا ہے؟کون سا دفتر یہاں رہ گیا ہے جہاں قائداعظم کی تصویر ہلائے بغیر کام ہو جائے۔ لیکن نصیحت کا ٹھیکہ اٹھایا ہو تو ایسی باتیں ہوتی ہیں۔
اخبار کے قاری کا اور کوئی بنیادی حق ہونہ ہو یہ ضرور ہے کہ جس چیز کو پڑھنا نہ چاہے اُسے نظر انداز کر سکتا ہے۔ اخبارات میں ساری تحریریں تو نہیں پڑھی جاتیں اور خاص طور پر قاری کالم وہ پڑھتا ہے جو اُس کے دل کو لگے۔ اخبارات پر تو سختی ہو سکتی ہے کہ فلاں کا نام نہ لیا جائے فلاں تذکرے سے گریز کیا جائے لیکن قاری پر تو کوئی زبردستی نہیں کہ وہ فلاں کالم ضرور پڑھے۔ البتہ عذرِ نصیحت یہ سامنے آتا ہے کہ ہم تو قانون کی بات کررہے ہیں جیسے اس ملک میں قانون کا بڑا احترام ہے۔ جیسے اوپر سے لے کر نیچے تک ہر ایک نے قانون کی حکمرانی کی قسم کھائی ہوئی ہے۔ کئی ایسے مہربان بھی ہیں جنہیں ہماری آخرت کی فکر لاحق رہتی ہے۔ ان دردمند دل رکھنے والوں سے کیسے عرض کی جائے کہ آخرت کے معاملات ہمارے اور ہمارے رب کے درمیان ہیں۔ یہیں تک رہنے دیجئے اور ہماری فکر چھوڑ دیجئے۔ ہمارے ایک پیارے دوست ہیں جو پولیس سروس میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز رہے اور دورانِ سروس بڑا نام کمایا۔ اب تو وقت بیت چکا ہے لیکن ایک وقفہ تھا جب اُنہیں ہماری آخرت کی بہت فکر لگ گئی تھی۔ ہماری اصلاح اور رہنمائی کیلئے اُنہوں نے مکرمی مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے کچھ پمفلٹ اور کتابچے بھیج دیے۔ اور ساتھ ہی یہ برملا کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ جب آخرت کا حساب کتاب ہو تو ہم جو گناہگار ٹھہرے ہمیں عذابِ عظیم یعنی دائمی آگ سے گزرنا پڑے۔ مکمل نیک نیتی سے کتابچے بھجوائے اور تلقین بھی کی لیکن سچ پوچھئے پہلے کتابچے کے چند اوراق سے آگے نہ بڑھ سکے۔ جس سے یہ احساس تو پیدا ہوتا ہے کہ غلط راستوں پر اتنے چلے کہ اصلاح کے قابل نہیں رہے۔ لیکن جیسا ہم کہتے ہیں دنیا امید پر قائم ہے‘ کتابچے کہیں رکھے ہوں گے اور کسی شام باہر ایسی سردی پڑ رہی ہو جیسے آج کل پڑ رہی ہے تو آگ کے سامنے بیٹھے اپنی اصلاح کی بھرپور کوشش کا آغاز کردیں گے۔
افسوس اتنا ہے کہ وہ وقت ابھی آیا نہیں۔ ہمارے ہاں موسمِ سرما کا تقریباً رواج بن چکا ہے کہ یورپ امریکہ میں زیادہ ٹھنڈ پڑتی ہے تو بہت سے وہاں مقیم پاکستانی وطن یاترا پر آ جاتے ہیں۔ شادیاں بھگتائی جاتی ہیں دوستوں سے میل ملاپ ہو جاتاہے۔ اس سیزن میں باہر کا رش اتنا ہوتا ہے کہ مال لاہور کی جس سرائے میں ہمارا قیام ہوتا ہے وہاں ان دنوں کوئی کمرہ نہیں ملتا۔ یہی حال ہماری اسلا م آباد والے سرائے کا ہے ‘ جنوری کے وسط تک کمرہ ملنا محال ہوتاہے۔ ہمارے لیے یہ یاترا البتہ ٹھیک رہتی ہیں کہ خاص کر انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ میں جو ہمارے مہربان ہیں وہ ہمارے لیے تحفے تحائف لے آتے ہیں۔ انگلینڈ کی چیزوں کی ویسے بھی ہم جو دیسی لوگ ہیں کو قدر کچھ زیادہ ہی ہوتی ہے۔ اس لیے مہربانوں کا شکریہ کہ ہم غریبوں کا بھی خیال رکھ لیتے ہیں۔
البتہ ان سب مسائل سے ہٹ کر اب جہاں سیاست گئی‘ صحافت برباد ہوئی ہم کہیں کے نہ رہے تو دل اب یہی کرتا ہے کہ گاؤں میں رہیں۔ ارادہ یہی باندھا ہے کہ باہر جو تھوڑا سا ٹکڑا ہے اُس پر ایک کمرہ تعمیر کیا جائے جس میں کوئی بھیڑیں یا کوئی گائے وغیرہ رکھی جائیں۔ بڑا سہانا منظر ہے اس جگہ کا‘ سردیوں میں خوب دھوپ پڑتی ہے اور موسم جب بدلتا ہے تو شام کو وہاں بیٹھے ہوں تو چاندنی کا ایک اپنا لطف ہوتاہے۔ کھیتی باڑی پارٹ ٹائم کرتے ہی آئے ہیں لیکن اب ارادہ بندھ رہا ہے کہ اس پر تھوری زیادہ توجہ دی جائے۔ مویشی اپنے ہوں اور روزِ ابر یا شبِ مہتاب کا جادو قائم رہے تو کس کمبخت کو سیاست یا صحافت کی کوئی پروا ہو۔ اب تو سچ پوچھئے صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ ہمارے اعصاب پر سوار ہونے لگے ہیں۔ امریکہ کی طرف سے نت نئے تماشے ہو رہے ہیں۔ نیویارک ٹائمز ہمارے پاس آتا ہے‘ ٹرمپ کی پالیسیوں پر اتنے ثقیل تبصرے۔ ہر بات جو کہی جاسکتی تھی کہی جا چکی ہے۔ کہنے کوکوئی نئی بات نہیں رہی۔ مسلمان دنیا کی جو حالت ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔ لاچاری اور بے کسی کے بارے میں بھی کتنا رویا جائے۔
جب اتنا پتا ہو کہ یہ سال بھی گزرے ہوئے سال جیسا ہی ہوگا تو کس بات پر سر کھپایا جائے۔ لہٰذا زاہد و ناصح لوگوں سے یہی التماس ہے کہ گناہگاروں کو اُن کے حال پر رہنے دیں۔ ہم اپنے حال میں مست ہیں تو آپ کو اِتنا دردِ سر لینے کی کیا ضرورت ہے؟