2025 میں بجلی سستی، گردشی قرضہ،IPPs ٹیرف کم ہوا
آئی پی پیز مذاکرات سے 3400 ارب کا بوجھ ختم، صارفین کو 8.35 روپے ریلیف ملا گردشی قرضے میں 780 ارب کمی، صنعتی صارفین کیلئے بجلی 16.68 روپے سستی ہوئی
اسلام آباد (نامہ نگار) پاور ڈویژن نے سال 2025 کی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی ہے ، جس میں توانائی کے شعبے میں تاریخی اصلاحات، مالی نظم و ضبط، صارفین کو ریلیف اور پائیدار ترقی کی نمایاں کامیابیوں کو اجاگر کیا گیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق حکومت نے مؤثر پالیسیوں اور بروقت فیصلوں کے ذریعے بجلی کے شعبے کو درپیش دیرینہ مسائل پر قابو پانے میں نمایاں پیش رفت کی۔آئی پی پیز سے کامیاب اور شفاف مذاکرات کے نتیجے میں صارفین اور قومی خزانے پر مجموعی طور پر 3400 ارب روپے کے مالی بوجھ کا خاتمہ کیا گیا، جس سے گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں 8.35 روپے فی یونٹ اور صنعتی صارفین کے لیے 16.68 روپے فی یونٹ تک کمی ممکن ہوئی۔ناکارہ اور غیر مؤثر پاور پلانٹس کی بندش سے صارفین پر 7 ارب روپے کا اضافی بوجھ کم کیا گیا۔ صنعتی اور زرعی صارفین کے لیے 22.98 روپے فی یونٹ کا خصوصی ریلیف پیکیج متعارف کرایا گیا، جس سے پیداواری سرگرمیوں کو فروغ ملا۔
ساڑھے نو ہزار میگاواٹ کے غیر ضروری بجلی منصوبے ختم کر کے عوام کو 1 روپے فی یونٹ کا ریلیف دیا گیا جبکہ بغیر قرض کے گردشی قرضے میں 780 ارب روپے کی کمی ایک بڑی مالی کامیابی قرار دی گئی۔ بجلی کے بلوں سے پی ٹی وی فیس کی مد میں 35 روپے کی وصولی بھی ختم کر دی گئی۔سال 2025 کے دوران تین بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کا آغاز کیا گیا، جس سے نظام کی کارکردگی بہتر بنانے کی بنیاد رکھی گئی۔ الیکٹرک وہیکل چارجنگ سٹیشنز کے ٹیرف میں 44 فیصد کمی کر کے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کی حوصلہ افزائی کی گئی۔سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بجلی کے بل معاف کرنے اور ادائیگیوں میں رعایت دے کر متاثرہ عوام کو ریلیف فراہم کیا گیا۔ اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ ایپ کے ذریعے میٹر ریڈنگ کا اختیار صارفین کو دے کر شفافیت بڑھائی گئی جبکہ 118 ہیلپ لائن کے آغاز سے یکساں سروس اور سفارشی کلچر کے خاتمے کو یقینی بنایا گیا۔مسابقتی اور شفاف بولی کے نتیجے میں سمارٹ میٹرز کی قیمتوں میں 40 فیصد کمی ہوئی، جبکہ سمارٹ میٹرنگ نظام سے صارفین کو سالانہ 100 ارب روپے سے زائد کا فائدہ متوقع ہے ۔