کراچی :جادو کے شبہ پر کرایہ دار خاتون اور اس کے 3بچے کئے:ملزم کا اعتراف
انیلہ کیساتھ ڈھائی سال سے دوستی تھی، مالی مدد بھی کرتا رہا ، مجھ پر تعویذ کراتی ،کئی بارکہا چھوڑ دونہ مانی:مسرور مائی کلاچی تعویذ جلانے کے بعد انیلہ کو قتل کیا اور گھر واپس جاکر بچوں کوساتھ لاکراسی جگہ مارڈالا:پولیس کو بیان
کراچی (سٹاف رپورٹر)کراچی کے علاقے مائی کلاچی میں مین ہول سے خاتون اور اس کے 3 بچوں کی لاشیں ملنے کا معاملہ، کیماڑی پولیس نے قتل میں ملوث مرکزی ملزم مسرور حسین کو گرفتار کرلیا۔ ایس ایس پی کیماڑی امجد شیخ کے مطابق گرفتار ملزم نے دوران تفتیش 35 سالہ انیلہ،13 سالہ کشور،12 سالہ حسین اور 10 سالہ کونین کو قتل کرنے کا اعتراف کرلیا۔ملزم مسرور نے اپنے بیان میں بتایا کہ مقتولہ انیلہ اس کی ہی بلڈنگ میں کرایہ پر رہائش پذیر تھی، جس سے ڈھائی سال قبل دوستی ہوئی تھی۔ ملزم نے بتایا کہ وہ اور اس کے گھر والے انیلہ کی مالی مدد بھی کیا کرتے تھے ۔ ملزم کا کہنا ہے کہ انیلہ اس پر تعویذ کررہی تھی جس سے وہ ذہنی اذیت اور کوفت کا شکار تھا، انیلہ کو کئی بار کہا کہ مجھے چھوڑ دو لیکن وہ نہ مانی، انیلہ اکثر اسے مائی کلاچی لے کر جاتی تھی اور مائی کلاچی میں تعویذ جلاتی تھی۔
ملزم نے اپنے بیان میں مزید بتایا کہ 5 روز قبل انیلہ اسے مائی کلاچی تعویز جلانے ساتھ لے کر گئی۔ انیلہ اور مسرور موٹر سائیکل پر ساتھ گئے ۔ انیلہ نے تعویذ جلائے ، اسی دوران اسے قتل کرنے کا ارادہ کرلیا۔ ملزم انیلہ کو قتل کرکے واپس گھر آیا، تینوں بچوں کو ساتھ لیا اور مائی کلاچی لے جاکر انہیں بھی قتل کردیا۔ ملزم نے چاروں کی لاشوں کو خشک مین ہول میں پھینک کر کمبل اور پتھر ڈال دئیے ۔ پولیس نے ملزم کا ایک ویڈیو بھی جاری کیا، جس میں اس نے کہا کہ وہ مقتولہ کا طویل عرصے سے دوست تھا۔ ملزم نے الزام لگایا کہ مقتولہ کالا جادو کرتی تھی اور اکثر اس سے مطالبات کرتی تھی، جس کی وجہ سے وہ ذہنی دباؤ میں تھااور تب اس نے فیصلہ کیا کہ یا تو میں خود کو ماروں یا اسے ۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے ۔دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے 4 افراد کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم کی گرفتاری پر ایس ایس پی کیماڑی امجد شیخ اور ان کی ٹیم کو شاباش دی۔ ان کا کہنا تھا ڈسٹرکٹ کیماڑی پولیس کی کارروائی قابل تحسین ہے ۔