دہشتگردی :پی ٹی آئی کو فورسز کے پیچھے کھڑا ہونا چاہئے
پی ٹی آئی قیادت کا مؤقف موجودہ حالات میں اطمینان بخش قرار دیا جا سکتا
(تجزیہ:سلمان غنی)
پی ٹی آئی کی لیڈر شپ کی جانب سے دہشت گردوں کے سہولت کار ہونے کے الزام کو مسترد کرنے ، دہشت گردی کی مذمت اور دہشت گردی کے خلاف متفقہ بیانیہ کی ضرورت پر زور دینے کو موجودہ حالات میں اطمینان بخش قرار دیا جا سکتا ہے لہٰذا اس امر کا تجزیہ ضروری ہے کہ پی ٹی آئی کی لیڈر شپ کو پریس کانفرنس کی ضرورت کیونکر محسوس ہوئی ۔ دہشت گردی کا عمل ایک منظم عمل ہے اور اس کا مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا اور یہاں افراتفری پھیلانا ہے لہٰذا ایسی صورت میں ضرورت تو اس امر کی تھی اور ہے کہ دہشت گردی کے رجحان کے قلع قمع کے لئے سرگرم عمل اپنی افواج اور سکیورٹی فورسز کے پیچھے کھڑا ہوا جائے۔
پختونخوا حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس طرح سے اپنا کردار ادا نہیں کیا جیسے کرنا چاہئے تھا،اچھا ہوتا پی ٹی آئی ان حالات میں دہشت گردی کے خلاف اپنی افواج سے یکجہتی کا اظہار کرتی اور واضح کرتی کہ ملکی بقا اور خصوصاً دہشت گردی کی جنگ میں ہم ریاست کے ساتھ ہیں تاکہ وہ تاثر نہ ابھرتا جس کا پی ٹی آئی کو سامنا ہے اور ا سے وضاحتوں کی ضرورت پیش آئی ہے ۔جہاں تک پی ٹی آئی کے اس مؤقف کا سوال ہے دہشت گردی با رے آپریشن میں صوبائی حکومت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تو یہ سب کچھ نیشنل ایکشن پروگرام کے تحت ہے ۔پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف کارروائی کی مخالف نہیں لیکن وہ اس پر تحفظات ظاہر کرتی رہی ۔اس کا موقف تھا آپریشن میں عام لوگ بھی ٹارگٹ ہو رہے ہیں۔
دہشت گردی کے خلاف آپریشن ریاست کی مجبوری ہے، دہشت گردی پر ا بہام اور ریاست کی رٹ پر سمجھو تا دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کمزور کرتا ہے ۔پی ٹی آئی کی الجھن یہ ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف ہے مگر ریاستی بیانیہ سے بھی متصادم ہے یہی عمل یکجہتی کی فضا کو کمزور بنا رہا ہے ۔پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے وضاحت کسی حد تک اطمینان بخش تو ہے لیکن ابھی بھی اس حوالہ سے گنجائش ہے کہ وہ آپریشن کے حوالہ سے کنفیوژن ختم کرے ۔دہشت گردی سیاسی موضوع نہیں ریاستی بقا کا مسئلہ ہے ۔گیند اب پی ٹی آئی کے کورٹ میں ہے کہ کیا سیاست کے وقتی فائدے کے لئے وہ ریاستی جنگ کو کمزور کرے گی اور اگر ایسا نہیں تو پھر اسے ریاست کے مفادات کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا ۔ موجودہ حالات میں یہی وقت کی آواز ہے۔