بلوچستان : فورسز کے آپریشن، یونیورسٹی کے سابق ٹیچر سمیت 5 دہشتگرد گرفتار
ساجد احمد ، جہانزیب گاڑی پر پنجگور سے اسلحہ تربت لے جارہے تھے، تعلق بلوچ یکجہتی کمیٹی سے بھی رہا افسوسناک امر ہے تعلیم یافتہ لوگ بھی دہشت گردی کے راستے پر جا رہے : ڈی آئی جی ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ
کوئٹہ(دنیا نیوز،سٹاف رپورٹر)بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن ،تربت یونیورسٹی کے سابق ٹیچر سمیت 5دہشتگرد گرفتار کر لئے گئے، بھاری تعداد میں جدید اسلحہ، خودکش جیکٹس اور گولہ بارود برآمد کر لیا گیا۔اس حوالے سے کوئٹہ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقات کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سی ٹی ڈی بلوچستان کے ڈی آئی جی اعزاز گورایہ نے کہاہے کہ سکیورٹی فورسز نے پنجگور سے دہشتگرد ساجد احمد عرف شاویز اوراس کے ساتھی جہانزیب مہربان کو گرفتار کیا ، وہ گاڑی کے ذریعے بھاری مقدار میں اسلحہ تربت منتقل کر رہا تھا، اس کاسوشل میڈیا پر کالعدم تنظیموں کا مواد نشر کرنے میں مرکزی کردار تھا ۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کے مطابق ساجد احمد اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہے اوریونیورسٹی آف تربت میں بطوراستادپڑھاتابھی رہا ، اس کی بھاوج بھی بی وائی سی کی کارروائیوں میں ملوث تھی، مزید کارروائیوں میں دہشت گرد بیزل ، خاران کے رہائشی 18 سالہ سرفراز اور18 سالہ نوجوان بزین کو بھی حراست میں لیا گیا۔ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایہ نے کہا کہ تربت کا رہائشی ساجد احمد کاافغانستان میں کالعدم تنظیم کے کمانڈر دوستین سے بھی رابطہ رہا ،گاڑی سے برآمد اسلحہ پنجگور سے تربت منتقل کیا جا رہا تھا۔ اس کا تعلق بلوچ یکجہتی کمیٹی سے بھی رہا اور وہ نوجوانوں کو کالعدم تنظیموں میں بھرتی کا کام کرتا تھا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران سے سمگلنگ کے ذریعے اسلحہ پاکستان لایا جا رہا ہے ، افسوسناک امر یہ ہے نوجوانوں کی ذہن سازی کی جاتی ہے اورتعلیم یافتہ لوگ بھی دہشت گردی کے راستے پر جا رہے ہیں، بی ایس او اور بی وائے سی جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے نوجوانوں کو مسلح تنظیموں میں شامل کیا جاتا ہے ، کم عمر نوجوان دہشت گردوں کیلئے پیسے ، ادویات اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کرتے ہیں ، اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ گزشتہ برس بلوچستان بھر میں 90 ہزار سے زائد خفیہ اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 700 سے زائد دہشت گرد مارے گئے جبکہ 400 سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کی شہادتیں بڑا قومی نقصان ہیں ۔ 2025 ئکے آخری تین ماہ کے دوران دہشت گردانہ حملوں میں نمایاں کمی آئی جو سکیورٹی فورسز کی مؤثر حکمت عملی کا نتیجہ ہے ،صوبے میں ایک نیا ادارہ نیفٹیک قائم کیا ہے جسے مارچ تک تمام اضلاع میں فعال کر دیا جائے گا ۔