کوئی سرکلر پارلیمنٹ کا قانون یا اس کا شیڈول محدود نہیں کر سکتا :وفاقی آئینی عدالت
EOBIایکٹ 1976سے منسلک شیڈول قانون کا حصہ، چند ماہ کی کمی پر پنشن سے محروم کرنا انصاف، آئین کے منافی ای او بی آئی فلاحی ادارہ ، فلاحی قوانین کی تشریح ہمیشہ ایسے انداز میں کی جانی چاہیے جو ملازمین کے حق میں ہو:تحریری فیصلہ
اسلام آباد (اے پی پی)وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان نے اپنے ایک فیصلے میں قرار دیا ہے کہ کوئی بھی سرکلر پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قانون یا اس کے شیڈول کو محدود نہیں کر سکتا ۔وفاقی آئینی عدالت سے جاری تحریری فیصلہ کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے 14 سال 6 ماہ یا اس سے زائد سروس پر اولڈ ایج پنشن کا حق تسلیم کرتے ہوئے کہا وہ ملازمین جو لازمی مدت سے معمولی کم بیمہ شدہ ملازمت مکمل کر چکے ہوں انہیں ماہانہ اولڈ ایج پنشن سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس سید حسن اظہر رضوی اور جسٹس ارشد حسین شاہ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے ای او بی آئی کی متعدد اپیلیں مسترد کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلوں کو برقرار رکھا۔ عدالت نے فیصلے میں واضح کیا ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس ایکٹ 1976 کے ساتھ منسلک شیڈول قانون کا لازمی اور اٹوٹ حصہ ہے جس کے مطابق ملازم کی انشورایبل ملازمت کی مدت چھ ماہ یا اس سے زائد ہو تو اسے پورا ایک سال تصور کیا جائے گا۔
عدالت کے مطابق یہ اصول صرف پنشن کی رقم کے حساب تک محدود نہیں بلکہ اہلیت کے تعین پر بھی لاگو ہوتا ہے ۔ فیصلے میں کہا گیا ای او بی آئی ایک فلاحی ادارہ ہے اور فلاحی قوانین کی تشریح ہمیشہ ایسے انداز میں کی جانی چاہیے جو ملازمین کے حق میں ہو۔ چند ماہ یا دنوں کی کمی کی بنیاد پر کسی شخص کو زندگی بھر کی پنشن سے محروم کرنا انصاف، قانون اور آئین کے منافی ہے ۔ وفاقی آئینی عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ ای او بی آئی کے انتظامی سرکلرز قانون پر فوقیت نہیں رکھتے ۔
عدالت نے 2022 میں جاری ای او بی آئی سرکلر غیر موثر قرار دیتے ہوئے کہا اس کے ذریعے قانونی حقوق سلب نہیں کیے جا سکتے ۔ عدالت نے مزید کہا 2019 میں جاری ای او بی آئی کا سرکلر جس میں 6 ماہ یا کم کی کمی کو پورا سال تصور کرنے کی ہدایت دی گئی تھی قانون کے مطابق تھا اور اس سے متاثرہ ملازمین کے حقوق پہلے ہی مستحکم ہو چکے تھے جنہیں بعد میں ختم نہیں کیا جا سکتا۔ آئینی عدالت نے ای او بی آئی کی تمام اپیلیں خارج کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلوں کو برقرار رکھا اور ادارے کو ہدایت کی کہ متاثرہ ملازمین کو ماہانہ اولڈ ایج پنشن ادا کی جائے ۔