جنوبی پنجاب میں سیلاب سے بچاؤ کیلئے 60ارب قرض کا فیصلہ
پنجاب کابینہ نے ایشیائی ترقیاتی بینک سے 20کروڑ ڈالر قرض لینے کی منظوری دی راجن پور اور ڈی جی خان میں جامع فلڈ مینجمنٹ ،حفاظتی انفراسٹرکچر تعمیر کیا جائیگا
لاہور(محمد حسن رضا سے )پنجاب حکومت کا ایشین ڈویلپمنٹ بینک سے 60ارب روپے قرضہ لینے کا فیصلہ، صوبائی کابینہ نے منظوری دیدی۔ اس سے جنوبی اضلاع کو بار بار آنے والے تباہ کن سیلاب سے محفوظ بنایا جائے گا۔اس مقصد کیلئے ایشیائی ترقیاتی بینک سے 20 کروڑ ڈالر کا قرض حاصل کیا جائے گا، حکومت پنجاب کے مطابق یہ قرض چچھر اور متھاون ہل ٹورنٹس مینجمنٹ پراجیکٹ کے تحت لیا جا رہا ہے ، جس پر راجن پور اور ڈیرہ غازی خان کے اضلاع میں جامع فلڈ مینجمنٹ اور حفاظتی انفراسٹرکچر تعمیر کیا جائے گا۔
پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی مجموعی لاگت 62 ارب 48 کروڑ روپے ہے ، جسے مکمل طور پر صوبائی وسائل سے پورا کرنا ممکن نہیں۔ اسی وجہ سے غیر ملکی مالی معاونت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ جنوبی پنجاب میں بار بار آنے والے سیلاب سے گزشتہ برسوں میں اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے ۔محکمہ آبپاشی نے صوبائی کابینہ کو بریفنگ میں بتایا کہ 2022 اور 2024 کے سیلاب کے دوران راجن پور اور ڈی جی خان میں بے مثال تباہی ہوئی، جس میں لاکھوں افراد، وسیع زرعی رقبہ، سڑکیں، پل، آبپاشی کا نظام اور دیگر بنیادی انفراسٹرکچر بری طرح متاثر ہوا۔ محکمہ آبپاشی نے اعتراف کیا کہ موجودہ حفاظتی نظام اچانک آنے والے سیلاب سے نمٹنے کیلئے ناکافی ہے ۔
منصوبے کے تحت راجن پور میں چچھر ہل ٹورنٹ کے علاقے میں حفاظتی بند، ڈرینز اور کنٹرول سٹرکچرز تعمیر کیے جائیں گے ، جبکہ ڈیرہ غازی خان میں متھاون ہل ٹورنٹ پر جدید فلڈ مینجمنٹ سسٹم نافذ کیا جائے گا۔ قرض کی شرائط کے مطابق پنجاب حکومت کو یہ غیر ملکی قرض 2 فیصد فکسڈ مارک اپ پر دیا جائے گا۔ قرض طویل المدتی ہوگا، جس میں پانچ سال کی رعایتی مدت شامل ہے ۔خیال رہے ٹورنٹس ایسے قدرتی برساتی نالے یا پانی کے تیز بہاؤ کو کہا جاتا ہے جو پہاڑی یا بلند علاقوں سے بارش کے دوران اچانک نشیبی علاقوں کی طرف آتا ہے ، چونکہ یہ پانی مختصر وقت میں بہت زیادہ مقدار میں نیچے آتا ہے ، اس لیے یہ عام دریائی سیلاب کے مقابلے میں کہیں زیادہ خطرناک ہوتا ہے ۔