اسلام آباد: 29 ہزار درخت کاٹنے پر وزیر اعظم کانوٹس
محسن نقوی کی سی ڈی اے کو بریفنگ کی ہدایت ، قائمہ کمیٹی نے بھی رپورٹ مانگ لی پولن الرجی کا سبب بننے والے درخت ہٹائے ،مزیددرخت لگا دئیے ، سی ڈی اے
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں بڑی تعداد میں درختوں کی کٹائی کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے وزارت داخلہ سے رپورٹ طلب کر لی ۔جمعرات کو وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سی ڈی اے کو معاملے پر بریفنگ دینے کی ہدایت کی ہے ۔دوسری جانب اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی کا معاملہ پارلیمنٹ ہاؤس بھی پہنچ گیا ہے ، جہاں چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سینیٹر فیصل سلیم نے معاملے پر چیئرمین سی ڈی اے سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ۔
اس حوالے سے چیئرمین سی ڈی اے کو بھی 19 جنوری کو قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا گیا ہے ۔ سی ڈی اے کا موقف ہے کہ عدالتی حکم کے تحت صرف وہ درخت ہٹائے گئے ہیں جو پولن الرجی کا سبب بن رہے تھے ۔ پولن الرجی کا سبب بننے والے 29 ہزار سے زائد درخت کاٹے گئے ہیں جبکہ یہ آپریشن صرف پولن الرجی کے درختوں، خصوصاً جنگلی شہتوت کے خلاف تین مراحل پر سائنسی بنیادوں پر مکمل کیا گیا ہے۔
اسلام آباد کے ایف نائن پارک، شکرپڑیاں اور بڑے سیکٹرز سے پولن الرجی کا سبب بننے والے جنگلی شہتوت کے درخت کاٹے گئے ہیں، ہر ہٹائے گئے درخت کے بدلے تین نئے مقامی درخت لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اب تک متعلقہ علاقوں میں 40 ہزار سے زائد ماحول دوست درخت لگائے جا چکے ہیں۔سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ پولن الرجی کا سبب بننے والے درختوں کی کٹائی مکمل کرنے کے بعد ان مقامات پر پہلے سے زیادہ تعداد میں نئے درخت لگائے گئے ہیں۔شہری اور ماہرین ماحولیات سی ڈی اے کی جانب سے کیے گئے اس دعوے کی تصدیق نہیں کر رہے ، ان کا کہنا ہے کہ جنگلی شہتوت کے ساتھ بڑی تعداد میں دیگر درختوں کو بھی کاٹ دیا گیا ہے ۔