سندھ : ریلوے نظام کو جدید بنانے کیلئے اربوں روپے کے منصوبے پر اتفاق
انجن کے بغیرچلنے والی 6جدیدڈیزل ٹرینیں خریدنے کافیصلہ،6 اہم روٹس پر 858 کلومیٹر ٹریک کی بحالی کی تجویز سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا ، مراد شاہ ،پاکستان ریلوے کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہوگا،حنیف عباسی
کراچی (سٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کے درمیان اجلاس میں صوبے کے ریلوے نظام کو جدید بنانے کے لیے اربوں روپے کے منصوبے پر اتفاق کیا گیا۔ منصوبے کا آغاز کراچی تا کشمور اور کراچی تا تھرپارکر روٹس سے ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم صوبے بھر میں موجود 308 میں سے 100 مینڈ ریلوے کراسنگز کی تبدیلی، ریلوے نظام کی بحالی اور پہلے مرحلے میں اپنے وسائل سے 6 ٹرینیں جبکہ دوسرے مرحلے میں مزید 6 ٹرینیں چلانے کے لیے 6اعشاریہ 6ارب روپے کی سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے فوری طور پر فنڈز کے اجرا کی بھی ہدایت دی، منصوبے کے تحت چھ اہم روٹس پر 858 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک کی بحالی کی تجویز دی گئی ہے ، جن میں کوٹری-دادو ، دادو-لاڑکانہ-حبیب کوٹ ، حیدرآباد- میرپور خاص-ماروی ، روہڑی-جیکب آباد ، جیکب آباد-کشمور کالونی اور حیدرآباد-بدین شامل ہیں۔ شرجیل میمن نے بتایا کہ اس سرمایہ کاری کے بعد کوٹری سے دادو کے درمیان سفر کا وقت تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ کم ہو جائے گا۔ منصوبے کی مجموعی لاگت 63.26 ارب روپے رکھی گئی ہے ، جس میں 33 ارب روپے بنیادی انفراسٹرکچر (سول ورکس، ٹریک اور سگنلنگ)، 27اعشاریہ 6 ارب روپے 6 جدید ڈی ایم یو ٹرین سیٹس(انجن کے بغیرچلنے والے جدیدڈیزل یونٹس)کی خریداری اور 2اعشاریہ 66ارب روپے دیکھ بھال کی سہولیات کیلئے ہیں۔
سندھ حکومت انفرااسٹرکچر کے اخراجات کی 100 فیصد ذمہ داری اٹھائے گی، جبکہ پاکستان ریلوے رائٹ آف وے اور ضروری منظوری فراہم کرے گا۔اجلاس میں 308 غیر محفوظ (ان مینڈ)ریلوے کراسنگز کو محفوظ بنانے کے لیے انہیں مینڈ کراسنگز میں تبدیل کرنے کے 6 ارب روپے کے منصوبے پر بھی اتفاق کیا گیا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ منصوبے سے سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا اور شہریوں کو محفوظ ،سٹی سینٹر سے سٹی سینٹر سفری سہولت میسر آئے گی۔حنیف عباسی نے کہا کہ وفاق اور سندھ حکومت کے درمیان تعاون پاکستان ریلوے کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہوگا،وزارت ریلوے سندھ کو ایسا نظام فراہم کرنا چاہتی ہے جو ماحول دوست ہونے کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی میں بھی کردار ادا کرے ،انہوں نے یقین دلایا کہ پاکستان ریلوے اس منصوبے کے لیے مکمل تکنیکی معاونت اور رائٹ آف وے فراہم کرے گی، اجلاس میں پاکستان ریلوے اور سندھ حکومت کے درمیان 25 سالہ فریم ورک پارٹنرشپ معاہدے پر جلد دستخط کے عزم کااظہاربھی کیاگیا۔