پوائنٹ سکورنگ کا عمل خیبر پختونخوا میں مسائل کی اصل بنیاد
پختونخوا کو وسائل کے حوالہ سے وفاق سے شکایات ہیں تو ایک طریقہ کار اپنانا پڑیگا
(تجزیہ:سلمان غنی)
بنوں میں امن کے قیام کیلئے قائم کردہ کمیٹی کے اراکین امن کیلئے کوشش کرتے ہوئے دہشت گردی کا شکار بن گئے ،دہشت گردی کا مذکورہ واقعہ ظاہر کر رہا ہے کہ ایک جانب جہاں پختونخوامیں امن کیلئے کمیٹیاں سرگرم ہیں تو دوسری جانب دہشت گرد اپنے مذموم عمل کے ذریعے امن عمل پر اثر انداز ہو رہے ہیں اور ان کا مقصد جہاں پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے وہاں وہ پختونخوا کو خصوصی طور پر ٹارگٹ کرتے ہوئے اپنے مذموم مقاصد کیلئے سرگرم ہیں، کیا اس حوالہ سے متعلقہ حکومت اپنا کردار ادا کر رہی ہے اور دہشت گردی کے خلاف آپریشن کیونکر نتیجہ خیز نہیں بن رہا ۔ صوبائی حکومت کی ترجیحات پر نظر دوڑائی جائے تو لگتا ہے کہ پختونخوا حکومت کا سکیورٹی فوکس نہیں۔
پولیس اور سی ٹی ڈی ایک طرف پالیسی پر ابہام کا شکار ہیں تو دوسری طرف اسے وہ وسائل نہیں مل رہے ، بکتر بند گاڑیوں پر حملوں کے نتیجہ میں وہ بھی تباہ ہو رہی ہیں۔ پولیس اہلکار شہید ہو رہے ہیں تو اس کا ذمہ دار کون ہے ۔اگر بکتر بند گاڑیاں فرسودہ ہیں تو پھر مرکز سے ملنے والی گاڑیوں کو واپس کیوں کیا گیا۔ لگتا ہے کہ پوائنٹ سکورنگ کا عمل پختونخوا میں مسائل کی اصل بنیاد ہے ،پختونخواہ براہ راست ان کی زد میں ہے ۔بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بیجا نہیں ہوگا کہ افغانستان عملاً ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے اور وہ واضح طور پر یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ جب تک کابل کا فیصلہ نہیں ہوتا خیبر پختونخوا محفوظ نہیں ہو سکتا۔ اب زمینی حقائق، حالات وواقعات کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت اب ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ جہاں افغان طالبان اور تحریک طالبان ایک پیج پر ہیں تو دوسری جانب پختونخوامیں وہ امن عمل کیلئے سرگرم قوتوں کو ٹارگٹ کر رہے ہیں ۔
افغان سرزمین پر دہشت گردی کے مذموم عمل بارے اقوام متحدہ سمیت بعض عالمی اداروں کی رپورٹس کے ساتھ ایران، خود چین اور ایشیائی ممالک کے تحفظات موجود ہیں کہ ان کی سرزمین سے دہشت گرد ان کے ہاں آ کر دہشت گردی کے عمل میں شامل ہیں ۔خود تہران کانفرنس میں تمام علاقائی ممالک نے افغان سرزمین کے دہشت گردی کیلئے استعمال اور پاکستان کے اس حوالہ سے موقف کی تائید کر کے ثابت کیا ہے کہ افغان سرزمین کا دہشت گردی کیلئے استعمال جاری ہے ۔جو بھی ریاست کی رٹ کو چیلنج کرے ،وہ خواہ جرائم پیشہ ہوں، شدت پسند یا دہشت گرد ،ان کی بیخ کنی حکومت وقت کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔خصوصاً 18ویں آئینی ترمیم کے بعد تو امن و امان کا قیام خالصتاً صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے اور صوبائی حکومتوں نے ہی امن و امان کے ذمہ دار اداروں کو مذکورہ مقاصد کیلئے بروئے کار لانا ہوتا ہے ۔ اگر پختونخوا کو صوبہ کے وسائل کے حوالہ سے وفاق سے شکایات ہیں تو شکایات کے ازالہ کا ایک طریقہ کار ہے وہ اپنانا پڑے گا ۔لیکن شکایات کے ساتھ ان تحفظات کا ازالہ بھی کرنا پڑے گا جو پختونخوا کی حکومت کے حوالہ سے ریاست اور حکومت کو ہیں ۔آج اگر دہشت گردی پاکستان کو درپیش بڑا چیلنج ہے تو اس چیلنج سے نمٹنے کی ذمہ داری صرف فورسز کی نہیں صوبوں کی بھی ہے ۔