آپریشن کے بعد امن کی کیا گارنٹی ؟ وزیر اعلیٰ خیبر پختو نخوا
ناکام پالیسی کی تبدیلی کا مطالبہ کریں تو دہشت گردوں کا حامی کہا جاتا مخالفت کی وجہ سے میری قوم کو نشانہ بنایا جا رہا، وادی تیراہ کے دورے پر گفتگو
پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپریشنز کے بعد اب کیا ضمانت ہے کہ امن قائم ہو سکے گا، ناکام پالیسی کی تبدیلی کا مطالبہ کریں تو دہشت گردوں کا حامی کہا جاتا ہے ۔وزیر اعلیٰ نے تیراہ متاثرین سے ملاقات کے لیے وادی تیرہ کا دورہ کیا اور اس موقع پر انہوں نے کہا کہ تیراہ کے عوام کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ ناقابل قبول ہے ، بار بار ناکامی کے باوجود بند کمروں کے فیصلوں سے باز نہیں آیا جا رہا۔مشاورت کی بات کریں تو الزام لگایا جاتا ہے کہ سمگلروں سے تعلق ہے ۔سہیل آفریدی نے کہا کہ ان پالیسیوں کی مخالفت کی وجہ سے مجھے اور میری قوم کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ، انہیں معلوم ہے کہ میرے سینے میں اپنے عوام کے لیے درد ہے ، اسی لیے میری سرزمین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔
میری حکومت نے پہلے دن سے امن کے لیے آواز بلند کی، ہم کل بھی آپریشن کے خلاف تھے ، آج بھی ہیں اور آئندہ بھی اس ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے ۔متاثرین کو انہوں نے بتایا کہ میں آپ میں سے ہوں اور مرتے دم تک پہاڑ کی طرح آپ کے ساتھ کھڑا رہوں گا، زور زبردستی اور بدمعاشی کے ذریعے آپریشن شروع کیا گیا، آپریشن کا اعلان کر کے عوام کو دکھ اور تکلیف میں جھونک کر بے سہارا چھوڑ دیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ متاثرہ عوام کا تحفظ اور عزت اب میری براہ راست ذمہ داری ہے ، تیراہ متاثرین کے مسائل میں کسی بھی قسم کی غفلت ناقابل برداشت ہوگی۔وزیر اعلیٰ نے تیراہ متاثرین کی مشکلات فوری کم کرنے کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو ہنگامی اقدامات کا حکم دیا اور کہا کہ جگہ جگہ لوگوں کو روکنے اور قطاروں میں تذلیل کروانے کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے رجسٹریشن کا عمل تیز کرنے کے لیے نادرا کے مزید دفاتر ہنگامی بنیادوں پر قائم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عوام سے وعدہ ہے کہ ہم بندوق کو قلم سے بدلیں گے ۔