بلوچستان میں حملو ں کا پلان 6ماہ پہلے بنا ہوگا،بھارت ملوث
ایران میں انتشار کیلئے امریکا نے پراکسیز بنائیں،لڑائی ہوئی تو بلوچ اکٹھے ہوسکتے بلوچستان میں سوات طرز کا آپریشن نہیں ہوگا:آج کی بات سیٹھی کے ساتھ
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا نیوز کے پروگرام ’’آج کی بات سیٹھی کے ساتھ‘‘ میں سینئر تجزیہ کارنجم سیٹھی نے کہا بلوچستان میں کئی مقامات پر جو حملے ہوئے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی کافی پلاننگ اور کوآرڈی نیشن ہوئی ہے ،مجھے لگتا ہے کہ یہ پلان چھ ماہ پہلے بنا ہوگا، پھر کوآرڈی نیشن کی ہوگی،پھر ہتھیار، پیسے ،ٹریننگ،یہ سب کچھ ہوا ہو گا،اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی نے سوچا ہوگا کہ یہ اچھا وقت ہے کیونکہ ایران امریکا کی کشیدگی ہونے جارہی ہے ،اس افراتفری کے اندرہم کچھ کردیں گے ، ایسا نہیں ہے ، کالعدم تنظیم کے لوگ اس وقت مایوس ہوچکے ہیں کیونکہ ان کے لوگ مارے بھی جارہے ہیں،اس وقت اس میں ایران اور امریکا کا ہاتھ نہیں ہے ،100 فیصد اس میں انڈیا کا ہاتھ ہے ،انڈیا ہی دہشت گردی کروا رہا ہے ،ہمارے بارڈر پر بڑا تنازع ہونے والا ہے ،ایسا نہ ہو کہ شاید وہ تنازع ہمارے علاقوں تک پہنچ جائے ،مثلاً،امریکا کی کوشش ہے کہ ایران کے اندر رجیم چینج ہو،امریکا نے رجیم چینج کیلئے بڑی کوشش کی ہے مگر وہ ہوئی نہیں،امریکا کی کوشش ہے کہ ایران انتشار کا شکار ہوجائے ،انتشار کیلئے امریکا نے پراکسیز تیار کی ہوئی ہیں،ایک پراکسی آذربائیجانی ہے جس کو آذری کہتے ہیں، دوسری کرد، تیسری پراکسی سیستان کے اندر بلوچ تحریک ہے ،وہ بھی الگ ہونا چاہتے ہیں۔
ان کو امریکا مکمل سپورٹ کرتا ہے ،اگر ایران میں ایسی صورتحا ل بنتی ہے اورلڑائی ہوتی ہے تو بلوچ والا ایشو ہمارے علاقوں کی طرف آسکتا ہے ،اس لئے ان کے بلوچ اور ہمارے بلوچ آپس میں اکٹھ کرسکتے ہیں ایک دوسرے کو مضبوط کرنے کیلئے ،گریٹر بلوچستان کا جو پرانا پراجیکٹ ہے اس میں اس قسم کی باتیں ہوتی ہیں،یہ پاکستان کیلئے نیک شگون نہیں ہے ،اس لئے پاکستان کی کوشش ہے ان کو جلدی کچلا جائے تاکہ ان کی تحریک زیادہ زور نہ پکڑے ، کل کو اگر ایران کے اندر کچھ ہوتا ہے اور امریکا ایرانی بلوچ کی مدد کرتا ہے تو یہ نہ ہو کہ ہمارے بلوچ بھی اس تنظیم کا حصہ بن جائیں اور ہمارے لئے کوئی مسئلہ بن جائے ، ہماری سکیورٹی فورسز فل الرٹ ہیں ،یہ پہلی بار ہوا کہ آپریشن میں 100 سے زائد بلوچ مارے گئے ہیں،ان سے یہی توقع تھی یہ لوگ ایسا حملہ کریں گے ، بلوچستان میں آپریشن اس قسم کا نہیں ہوگا جو آپریشن سوات اور وزیر ستان میں ٹی ٹی پی پاکستان کے خلاف ہوا تھا،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہماری افغان پالیسی کامیاب نہیں ہوئی۔ ہم افغانستان میں طالبان کے ساتھ تعلقات ٹھیک نہیں کرپائے ۔تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے ۔ افغانستان کے طالبان پیسے مانگتے ہیں نہ کچھ اور ، وہ کہتے ہیں ہم اسی جہالت میں رہنا چاہتے ہیں۔ نہ وہ امریکا کی بات مانتے ہیں نہ اقوامِ متحدہ کی۔ ایک تاریخ بھی ہے اس کا وزن ہے کہ تاریخ میں جس طریقہ سے افغانستان کے اندر پاکستان کا رول رہا ہے ، رول کی وجہ سے اب ایسا نہیں ہوسکتا کہ افغانیوں کے دلوں میں پاکستان کی محبت ہو۔اپ کہتے ہیں ہم نے ان کے مہاجرین لئے مگر وہاں کی جو سول وارز ہوتی رہی ہیں، اس میں اپ نے ہمیشہ ہی غلط فریق کی سائیڈ لی ہے ۔ اسکا ایک مارک رہ گیا ہے ۔ میرا خیال ہے ہمیں مشکلات کا سامنا ہے ۔