بلوچستان میں بیک وقت حملے دشمن کے ملوث ہونے کی نشانی

بلوچستان میں بیک وقت حملے دشمن کے ملوث ہونے کی نشانی

پاکستان کا معاشی مستقبل ہونے کی وجہ سے بلوچستان دشمن کا ٹارگٹ بن گیا

(تجزیہ:سلمان غنی)

بلوچستان کے مختلف شہروں میں ایک ہی وقت حملوں کا عمل یہ ظاہر کرنے کیلئے کافی ہے کہ دہشت گردی کا یہ عمل براہ راست دشمن کی کارروائی ہے اور وہ ایک منظم سلسلہ کے تحت بلوچستان کو ٹارگٹ کرتے ہوئے اپنے مذموم ایجنڈا پر گامزن ہے ، لیکن مذکورہ حملوں کے جواب میں سکیورٹی فورسز کی بھرپور اور منظم کارروائی کے نتیجہ میں بیسیوں دہشت گردوں کو ان کے انجام پر پہنچا کر یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اس حوالہ سے کوئی رعایت نہیں ہو گی۔ جو ریاست کی رٹ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے گا، ریاستی طاقت اس کے خلاف حرکت میں آئے گی۔ دہشت گردی کے اس عمل میں پولیس کے 10 اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا جبکہ ان حملوں میں 5مرد ،3 خواتین اور3 بچے بھی شہید ہوئے ۔ لہٰذا اس امر کا تجزیہ ضروری ہے کہ مذکورہ حملوں کے پیچھے کون ہے اور دشمن بلوچستان کو کیونکر ٹارگٹ کئے ہوئے ہے ، دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ کب تک نتیجہ خیز ہوگی۔

بلوچستان دشمن کا ٹارگٹ اس لئے ہے کہ بلوچستان پاکستان کا معاشی مستقبل ، سی پیک کے منصوبے ، معدنیات کابڑا سلسلہ، گوادر کی بندرگاہ دشمن کو ہضم نہیں ہو رہے اور خاص طور پر دوست ملک چین کی جانب سے مختلف اہم منصوبوں پر شراکت داری کا عمل بھی دشمن کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے ، ویسے بھی دیکھا جائے تو دس مئی کو پاک فوج کے ہاتھوں بھارت کو ہونے والی شرمناک شکست نے اسے بوکھلا کر رکھ دیا ہے ، اب وہ پاکستان پر جارحیت مسلط کرنے کی پوزیشن میں تو نہیں رہا لیکن اب ا س کا سارادھیان اداروں اور دہشت گردی کے نیٹ ورک کو پاکستان کے خلاف بروئے کار لانے پرہے اور وہ براہ راست افغان سرزمین کے استعمال کے ذریعہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے علاقوں کو ٹارگٹ کر رہا ہے ۔

دہشت گردوں کے اس نیٹ ورک میں افغانستان میں چھوڑا جانے والا امریکی اسلحہ، بھارت کی فنڈنگ اور افغان سرزمین کا اہم کردار ہے اور بلوچستان میں یہ کام بی ایل اے ،بی ایل ایف اور بی آر اے کی پراکسیز سے لیا جا رہا ہے ۔ ایک عرصہ سے یہ اطلاعات آ رہی تھیں درجن بھر کے قریب موٹر سائیکلوں پر منظم گروہ مختلف شہروں میں قومی املاک، بینکوں کو ٹارگٹ کرتے نظر آ رہے تھے ،مقصد اپنے وجود کا احساس دلانا اور دہشت پھیلانا تھا لیکن یہ سلسلہ اب منظم حملوں کی صورت میں سامنے آیا اور پریشان کن بات یہ کہ یہ کام ایک ہی وقت میں مختلف شہروں میں رونما ہوا اور صوبائی دارالحکومت کوئٹہ اور ریڈ زون تک جا پہنچا۔ اس سلسلہ کو ایک روز پہلے 41دہشت گردوں کو جہنم واصل ہونے کے عمل کا ردعمل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ لگتا ہے کہ یہ سلسلہ ایک منظم پلاننگ کے تحت کیا گیا اور واقعات کے بعد دہشت گردوں کا سرغنہ بشیر زیب موٹر سائیکل پر کھڑا ویڈیو پیغام ریکارڈ کرواتا نظر آ رہا تھا۔

اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں کے گروپوں کی افغانستان کی سرزمین سے روابط تھے اور وہاں سے ہدایات دی جا رہی تھیں۔ دہشت گردوں کے حوالہ سے ایسی رپورٹس موجود ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ بی ایل اے اور ان سے منسلک دیگر تنظیمیں نوجوانوں کو بیانیہ محرومی اور تشدد کے ذریعے اپنے مذموم عمل کا حصہ بناتے ہیں اور ٹریننگ کے بعد انہیں دہشت گردی کے لئے بروئے کار لاتے ہیں۔بلوچستان سے آمدہ اطلاعات کے مطابق بلوچستان میں دہشت گردی کے اس عمل میں افغانستان کی سرزمین اور ایرانی پٹی میں کچھ عناصر ملوث ہیں اور اس سلسلہ کو صرف افغانستان کی ہی نہیں، طالبان اور خود اسرائیل کی مدد و معاونت بھی حاصل ہے ، لہٰذا پاک ایران کو مل کر ان کا سدباب کرنا ہوگا۔ بلوچستان میں پیدا شدہ حالات میں بھارت کا کردار کبھی ڈھکا چھپا نہیں رہا اور اس حوالہ سے اس کی خفیہ ایجنسی را یہاں علیحدگی پسند تنظیموں کی سرپرستی کرتی نظر آتی ہے ، بلوچستان کے حوالہ سے کلبھوشن نیٹ ورک بھارت کی روایتی دہشت گردی کا کھلا ثبوت تھا اور اس نیٹ ورک کے پکڑے جانے کے بعد ایسے شواہد پاکستان کے ہاتھ لگے تھے کہ جو پاکستان نے بعض عالمی قوتوں کو مہیا کئے تھے اور بھارت کے شرمناک اور مکروہ کردار سے دنیا کو آگاہ کیا تھا۔

دنیا کو یہ باور کرانا ضروری ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑتا لڑتا خود دہشت گردی کی زد میں ہے اور اس کے ہمسائے خصوصاً بھارت اور افغانستان کا گٹھ جوڑ اسے غیر مستحکم کرنے کے لئے سرگرم ہے ،لہٰذا اس مذموم عمل کے خاتمہ میں دنیا پاکستان کے ساتھ کھڑی ہو ۔ سیاسی بریک تھرو کے لئے اہم کردار اہل سیاست اور خود بلوچ قیادت کو ادا کرنا ہے ،بلوچ عوام اور نوجوانوں کو جمہوری و سیاسی عمل کا حصہ بنانا ہے ۔بلوچستان میں اگر فوج اور حکومت الگ الگ حکمت عملی پر ہو تو حکمت عملی نتیجہ خیز نہیں بنتی، لیکن اگر دونوں ایک پیج پر ہوں تو دشمن کی سانس اکھڑ جاتی ہے ۔ بلاشبہ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی بلوچستان کے محاذ پر دہشت گردوں کو چیلنج کرتے اور پاکستان کا جھنڈا لہراتے نظر آتے ہیں لیکن یہ سلسلہ سولو پرواز تک محدود نہیں رہنا چاہئے اس کے لئے سب کو ساتھ لیکر چلنا ہوگا، سیاسی ناانصافیاں ختم کرنا ہوں گی، سکیورٹی فورسز کے پیچھے کھڑا ہونا ہوگا اور خصوصاً بلوچ نوجوانوں کو قومی دھارے میں واپس لانے کیلئے ان پر اعتماد کے اظہار کے ساتھ ان کیلئے روزگار کا بندوبست یقینی بنانا پڑے گا اور یہ سیاسی عمل سیاسی جماعتیں اور قیادتیں ہی یقینی بنا سکتی ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں