پاکستان اور ازبکستان میں تاریخی معاہدے، مفاہمتی یادداشتیں، 29 دستاویزات کا تبادلہ

پاکستان اور ازبکستان میں تاریخی معاہدے، مفاہمتی یادداشتیں، 29 دستاویزات کا تبادلہ

5سال میں تجارت 2ارب ڈالرتک بڑھانے پر اتفاق، انٹر ریجنل فورم کے قیام، تعاون کیلئے ایکشن پلان بنانے کافیصلہ تعاون کی نئی راہیں تلاش کرینگے :شہباز شریف،ازبک صدرکاگلوبل ڈیفنس سلوشنز کا دورہ ،فیلڈ مارشل نے استقبال کیا

اسلام آباد (نامہ نگا ر،خصوصی نیوزرپورٹر،وقائع نگار)پاکستان اور ازبکستان نے دو طرفہ تجارت کا حجم پانچ سال میں2ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کیلئے ایکشن پلان مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،دونوں ملکوں کے درمیان مختلف تاریخی معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوگئے ، وزیر اعظم شہباز شریف اور ازبکستان کے صدرشوکت مرزائیوف نے مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کردئیے ۔وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی تقریب میں پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے 29 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پردستخط ہوئے اور ان کا تبادلہ کیاگیا۔ دونوں ملکوں کی وزارت خارجہ کے درمیان تعاون بڑھانے کیلئے مفاہمتی یادداشت اور ترجیحی تجارت کے معاہدے کے تحت اشیا کی فہرست میں توسیع کا پروٹوکول طے کیاگیا۔

دونوں ملکوں کے درمیان انٹر ریجنل فورم کے قیام کا معاہدہ ہوا، دفاعی شعبے میں تعاون کیلئے ایکشن پلان کی دستاویز بھی طے پاگئی، موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے شعبوں میں مفاہمتی یادداشت ،غذائی تحفظ کے شعبے میں معاہدہ اور زرعی تحقیق میں تعاون کیلئے مفاہمتی یادداشت کی دستاویز کا تبادلہ بھی ہوا۔دونوں ملکوں نے پلانٹ پروٹیکشن کے شعبے میں تعاون کے پروٹوکول پر بھی اتفاق کیا،کھیل کے شعبے میں تعاون بڑھانے کیلئے بھی مفاہمتی یادداشت کی دستاویز پردستخط کئے گئے ، نشہ آور ادویات کی سمگلنگ روکنے کیلئے دونوں ملکوں کے درمیان معاہدہ ہوا جبکہ کان کنی اور جیو سائنسز کے شعبے میں تعاون بڑھانے کیلئے دستاویز ایکسچینج ہوئیں ۔دیگر دستاویز میں سزایافتہ افراد کے تبادلے ، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کیلئے مفاہمتی یادداشت ، سائنس، تعلیم اور ثقافتی ورثے کے تحفظ اور تحقیق کے شعبے میں معاہدہ شامل ہیں ۔

میری ٹائم شعبے میں تعاون اور تجارت میں سہولت کیلئے مفاہمتی یادداشت ، ادویہ سازی کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت ، ٹیکسٹائل کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے معاہدے ، دونوں ملکوں کے درمیانے اور چھوٹے کاروبار کی ترقی کیلئے ایم او یو اور ثقافتی شعبے میں تعاون کو وسعت دینے کیلئے معاہدے کی دستاویز بھی ایک دوسرے کے حوالے کی گئیں ۔ ریکٹر نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ)نے ازبکستان کے صدر کو پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری اور پروفیسر شپ دینے کا اعلان کیا،وزیراعظم نے شوکت مرزائیوف کواعزازی ڈگری اور پروفیسر شپ کا سرٹیفکیٹ عطا کیا۔وزیر اعظم شہباز شریف کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم علاقائی روابط کے فروغ سے متعلق مکمل تعاون کیلئے پرعزم ہیں۔ دوطرفہ تجارت میں اضافے کا پروٹوکول معاشی تعاون کیلئے اہم سنگ میل ہے ،پانچ سالہ پلان کے تحت تعاون کی نئی راہیں تلاش کی جائیں گی، غزہ امن بورڈ غزہ میں امن کی بحالی اور تعمیر نو کیلئے اہم فورم ہے ، پرامید ہیں کہ غزہ میں امن لوٹے گا اور مسئلہ حل ہوگا، کشمیر اور فلسطین کے مسائل کا حل دیر پا امن کیلئے ضروری ہے ۔

ازبک صدر شوکت مرزائیوف کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ ہم نے مذاکرات میں دو طرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا، تجارت ، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون سمیت تما م شعبوں پر گفتگو ہوئی، پاکستان ہمارا قریبی دوست اور قابل اعتماد شراکت دار ہے ۔ فلسطین سمیت مختلف معاملات پر ازبکستان اور پاکستان مل کر آگے بڑھیں گے ،ہم متحد ہو کر آگے بڑھیں تو تمام مشکلات اور مسائل پر قابو پا سکتے ہیں ، پاکستان کے عوام کو رمضان المبارک کی پیشگی مبارکباد دیتا ہوں۔قبل ازیں وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے دو طرفہ تجارت کا حجم اگلے پانچ سال میں دو ارب ڈالر تک بڑھانے کے پروٹوکول اور مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کیلئے ایکشن پلان مرتب کرنے کے لئے ورکنگ گروپ قائم کرنے کی دستاویز پر دستخط کئے ۔ ازبک صدر کے خطاب کے بعد اسلام آباد میں ایک سڑک کو تاشقندکے نام سے موسوم کرنے اور ایک پارک کو مغل بادشاہ ظہیرالدین بابر کے نام سے منسوب کرنے کی تقریب ہوئی۔

شہباز شریف نے اس فیصلے کو دونوں ممالک کے درمیان قریبی تاریخی اور ثقافتی روابط کا مظہر قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدام ازبکستان اور پاکستان کے درمیان کثیرالجہتی تذویراتی شراکت داری کی سطح کو مزید مستحکم کرتا ہے ۔اس سے قبل ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے اعلیٰ وزارتی وفد کے ہمراہ گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز کا دورہ کیا جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے صدر ازبکستان کا استقبال کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق صدر ازبکستان کو جدید دفاعی نظام،صنعتی صلاحیتوں اورتکنیکی شعبوں پربریفنگ دی گئی۔ ازبک وفد نے گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز کی اہم تنصیبات کا معائنہ کیا، وفد نے پاکستان میں تیار کئے جانے والے جدید دفاعی آلات کا مشاہدہ کیا، وفد نے دفاعی پیداوار اور صنعتی ترقی میں پاکستان کی مہارت کو سراہا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دورہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان دفاع، ٹیکنالوجی اورصنعتی شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دے گا، دونوں ممالک نے شراکت داری، علم کے تبادلے اور مشترکہ منصوبوں کی اہمیت پر زور دیا، دورہ پاکستان اورازبکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے استحکام اورمختلف شعبوں میں تعاون کی اہم پیشرفت ہے ۔دریں اثنا ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف پاکستان کے دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچے تو نور خان ایئر بیس پہنچنے پر صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ معزز مہمان کو اکیس توپوں کی سلامی دی گئی جبکہ روایتی و ثقافتی لباس میں ملبوس بچوں نے گلدستے پیش کئے ،دونوں ملکوں کے قومی پرچم تھامے بچوں نے مہمان کو خوش آمدید کہا۔ پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کے 6 رکنی دستے نے ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف کو پاکستانی فضائی حدود میں سلامی پیش کی اوران کے طیارے کوپاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی فضائی حصار میں لیا ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں