ٹیکنالوجی خطرہ نہیں، غلط استعمال روکنا پارلیمان کی ذمہ داری ہے : ڈپٹی سپیکر مالدیپ

ٹیکنالوجی خطرہ نہیں، غلط استعمال روکنا پارلیمان کی ذمہ داری ہے : ڈپٹی سپیکر مالدیپ

جعلی مواد عوامی رائے ، معاشرے پر اثر انداز ہوتا،شرجیل، ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے بچانے کیلئے تعلیم ضروری، اویس قادر مصنوعی ذہانت کے استعمال سے جنسی استحصال کا خطرہ بڑھ رہا، سارہ احمد، عالمی کانفرنس میں مختلف موضوعات پرسیشنز

 کراچی (سٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی کی میزبانی میں ساتویں سی پی اے ایشیا ریجنل اور دوسری مشترکہ سی پی اے ایشیا و جنوبی مشرقی ایشیا ریجنل کانفرنس 2026 کے موقع پر جمعرات کو ’’پارلیمانی نظام، جمہوری اقدار اور جدید عالمی چیلنجز‘‘ کے موضوع پر اہم سیشنز منعقد ہوئے۔ کانفرنس کے دوسرے روز کے سیشنز میں متوازی بریک آؤٹ سیشنز، پلینری سیشنز اور اعلیٰ سطحی خطابات شامل تھے ۔مالدیپ کے ڈپٹی سپیکر احمد ناظم نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیپ فیک نے انتخابات اور عوامی رائے کو متاثر کیا ہے ، ٹیکنالوجی ایک اوزار ہے ، خطرہ نہیں اور اس کے غلط استعمال کو روکنا پارلیمان کی ذمہ داری ہے ۔

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیپ فیک کے ذریعے تیار کیا گیا جعلی مواد عوامی رائے اور معاشرے پر اثر انداز ہوتا ہے ، حکومت اور وفاقی ادارے جیسے ایف آئی اے مواد کی نگرانی اور بروقت ردعمل کو یقینی بنا رہے ہیں۔پنجاب چائلڈ رائٹس اتھارٹی کی چیئرپرسن سارہ احمد نے کہا موجودہ قوانین مصنوعی ذہانت اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے بچوں کو پہنچنے والے نقصانات سے بچانے کے لیے ناکافی ہیں، آن لائن گیمز، سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے جنسی استحصال اور معلومات کے غلط استعمال کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

سوالات اور جوابات کے دوران سندھ اسمبلی کے اسپیکر سید اویس قادر شاہ نے کہا کہ پارلیمان کا بنیادی فریضہ قانون سازی ہے ، تاہم نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے بچانے کے لیے تعلیم نہایت ضروری ہے ۔دوسرے متوازی سیشن میں پارلیمانی احتساب اور ایگزیکٹو کو جوابدہ بنانے پر بحث کی گئی۔ سیشن کی صدارت رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر نے کی۔ انہوں نے کہا پارلیمان کو مضبوط بنانا ایک بڑا چیلنج ہے ،بجٹ اور آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے ذریعے حکومت کا احتساب ممکن ہے۔

پلینری سیشن میں خواتین رہنماؤں کے خلاف آن لائن تشدد، ڈیجیٹل ہراسانی اور جعلی خبروں پر ایک اہم سیشن منعقد ہوا، جس کی موڈریٹرز رکن سندھ اسمبلی سمیتا افضال سید اور ندا کھوڑو تھیں، جبکہ برطانیہ کی پروفیسر جین راسکو، رکن پنجاب اسمبلی اسما احتشام الحق، ڈاکٹر فوزیہ حمید، یو این ویمن کے نمائندے جمشید ایم قاضی، رکن قومی اسمبلی شازیہ مری اور سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے اظہار خیال کیا۔ دریں اثنا برطانیہ کے جنرل سیکرٹری اسٹیفن ٹویگ نے بھی اسپیکر اویس قادر شاہ سے دو طرفہ ملاقات کی۔ اسٹیفن ٹویگ نے بین الاقوامی پارلیمانی کانفرنس میں مدعو کرنے پر اسپیکر کا شکریہ ادا کیا اور سندھ اسمبلی کی شاندارانتظامات کی تعریف کی۔ اسپیکر سید اویس قادر شاہ نے اسٹیفن ٹویگ کو بھی تعریفی شیلڈ پیش کی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں