لاپتہ افرادعالمی معاملہ،سویلین کا ملٹری ٹرائل ہوسکتا :وزیر قانون
کسی کی جنگ ہم پر مسلط ہوئی:اعظم نذیر تارڑ،2روزہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس شروع
لاہور (کورٹ رپورٹر)لاہور میں 2روزہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس کا آغاز ہوگیا ، کانفرنس کا بنیادی موضوع ‘‘بنیادی حقوق کی پامالی اور سرحدوں کے پار مزاحمت ’’ہے ، گزشتہ روز ابتدائی سیشن سے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی، ممبر جوڈیشل کمیشن چودھری احسن بھون ، وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل پیر مسعود چشتی ،صدر سپریم کورٹ بار ہارون رشید، سابق ممبر جوڈیشل کمیشن اختر حسین ،سابق صدر سپریم کورٹ بار یاسین آزاد ،یورپی یونین کے سفیر سمیت دیگر ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔اس موقع پر اعظم نذیر تارڑ نے خطاب میں کہاکہ قانون کے تحت سویلین کا ملٹری ٹرائل ہوسکتا ہے ، جب آپ ریڈ لائن کو کراس کرتے ہیں تو پھر قوانین موجود ہیں ، جنہوں نے آرمی تنصیبات پر حملہ کیا ان کے ٹرائل کا فورم فوجی عدالتیں ہی ہیں ،لاپتہ افراد کا معاملہ صرف پاکستان نہیں بلکہ پوری دنیا میں ہے۔
میں خود مسنگ پرسنز والے معاملے میں جوڈیشل کمیشن کا حصہ ہوں، ہم سنجیدگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں،آئینی عدالت نے اپنا کام شروع کر دیا اور وقت کے ساتھ پتا چلے گا کہ یہ فیصلہ درست ہے یا نہیں۔وفاقی وزیر قانون نے مزید کہا کہ یہ کڑوا سچ ہے کہ ہم دہشت گردی کی جنگ لڑ رہے ہیں، یہ دہشت گردی کا تحفہ ویسٹ سے ملا ،یہ کسی کی جنگ تھی جو ہم پر مسلط ہوئی، دنیا کے کسی ملک نے دہشت گردی کے خلاف اتنی لمبی جنگ نہیں لڑی ۔انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن ججز کو تعینات کرسکتا ہے تو انکی ٹرانسفر کیوں نہیں کرسکتا ، اگر پنجاب کے پاس اچھے ججز ہیں تو کیا سندھ ،کے پی کے لوگوں کو حق نہیں کہ یہ ججز ان کو خدمات دیں۔ اعظم نذیر تارڑ نے خطاب میں مزید کہاکہ اختلاف کا مطلب لڑائی نہیں بلکہ مہذب معاشرے کا حسن ہے ، آئینی ترمیم کی وجہ سے مجھ پر بہت تنقید ہوئی ، آج موقع ہے اپنا دفاع آپ کے سامنے رکھوں، ماضی میں ایسے واقعات ہوئے کہ سپریم کورٹ نے کریز سے باہر نکل کر کھیلا ،سپریم کورٹ نے ایک وزیراعظم کو سزائے موت کی توثیق کی ، وزرائے اعظم کو گھر بھیجا جو مرضی ہوجائے یہ بات طے ہے کہ 22 کروڑ عوام کی پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار ہے ۔
اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہاکہ میں وہ آخر ی شخص ہوتا جو سویلین کا ملٹری ٹرائل کی حمایت کرتا ،جب ہم بات کرتے ہیں کہ نظام قانون اور آئین کے تحت چلنا ہے تو پھر دل کو سخت کرنا پڑتا ہے ، گھریلو تشدد پر بھی قانون سازی کررہے ہیں۔ رضا ربانی نے ویڈیو لنک خطاب میں کہاکہ بار ایسوسی ایشنز کی لمبی تاریخ ہے وکلاء نے ہمیشہ آئین کی بالادستی اور جمہوریت کیلئے کوششیں کیں ، موجودہ بار ایسوسی ایشن کی قیادت کا کردار سول سپر میسی کیلئے نظر نہیں آرہا ،آئین میں بہت سی غیر ضروری ترامیم کی گئیں ،جو جوڈیشل کمیشن بنایا گیا اس میں ممبران کی تعداد کم ہے اوراس میں وفاقی وزیر قانون کا ہونا غیر ضروری ہے ،میں سمجھتا ہوں اب آئین میں 28 ویں ترمیم کی ضرورت نہیں ، اگر آئینی ترمیم ہوگی تو آئین کا ڈھانچہ مزید متاثر ہوگا ۔
اختر حسین نے خطاب میں کہا کہ ہم عاصمہ جہانگیر کی کانفرس میں موجود ہیں آج جمہوریت کہاں ہے ، عدلیہ کہاں آزاد ہے ،کیا پارلیمنٹ آزاد ہے ؟، جب آئینی عدالت کے جج وزیراعظم کی مرضی سے لگائیں گے تو عدلیہ کیسے آزاد ہوگی؟۔یہاں پارلیمنٹ ، حکومت ،عدلیہ کمپرومائزڈ ہیں، کہتے ہیں ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں لیکن ہر کوئی سیاست کرتا ہے ۔ احسن بھون نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر نے ہمیشہ سچ بولنے کی قیمت چکائی ،عدلیہ بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضامن ہے ، مزاحمت کا مطلب انتشار نہیں ہوتا، اختلاف کا مطلب غداری نہیں ہوسکتا۔پیر مسعود چشتی نے کہاکہ جب بھی جمہوریت ، بنیادی حقوق ، پارلیمنٹ کی بات ہوگی تو ہر لمحہ عاصمہ جہانگیر کی یاد آئے گی ،پاکستان بار کونسل نے ہمیشہ اپنی آزادنہ رائے دی ، آج بتا دوں آئینی ترامیم پاکستان بار کونسل کے رائے پر ہوئی ہیں،آج جب عام آدمی جج بن جائے تو اشرافیہ کو تکلیف ہوتی ہے ۔ یاسین آزاد نے کہاکہ ہم آمروں کو دس دس سال برداشت کرنے کیلئے تیار ہوتے ہیں جب کوئی جمہوری حکومت آجائے تو ہم ٹانگیں کھینچتے ہیں ،جب بھی مارشل لاء آیا کیا کبھی کسی سپریم کورٹ نے مارشل لاء ختم کیا؟، تب تو عدلیہ آزاد تھی ،خدا کیلئے اس ملک کے سسٹم کو چلنے دیں ۔