ماں پاکستانی ہونے کی بنیاد پر بھی شہریت مل سکے گی، قانون منظور
ماضی سے اطلاق ، نادرا کارڈ رکھنے والے افراد پاکستانی شہری تصور ہونگے ،شہریت ایکٹ 1951 سیکشن 5 میں تبدیلی 18اپریل 2000سے قبل پیدا ہوئے افراد کے کیسز حل کیے جا سکیں گے ،صنفی مساوات کی جانب اہم سنگِ میل :ماہرین
اسلام آباد (حریم جدون) پارلیمنٹ ہاؤس کے دونوں ایوانوں نے پاکستان سٹیزن شپ (ترمیمی) بل 2026 منظور کر لیا ہے ، جس کے تحت اب شہریت کے حصول کے لیے صرف والد نہیں بلکہ والدہ کی بنیاد بھی قانونی طور پر تسلیم کی جائے گی۔ قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد سینیٹ نے بھی بل کی توثیق کر دی، جس کے بعد یہ ترمیم باقاعدہ قانون کا حصہ بن گئی ہے ۔ترمیم کے ذریعے شہریت ایکٹ 1951 کے سیکشن 5 میں بنیادی تبدیلی کی گئی ہے ۔ نئے قانون کے مطابق اگر ماں پاکستانی شہری ہے تو اس کے بچوں کو بھی پاکستانی شہریت کا حق حاصل ہوگا، چاہے والد غیر ملکی کیوں نہ ہو۔ اس اہم پیش رفت سے اُن ہزاروں خاندانوں کو ریلیف ملے گا جن کے بچوں کے پاسپورٹ والد کے غیر ملکی ہونے کی وجہ سے رکے ہوئے تھے۔
قانون کا اطلاق ماضی سے بھی ہوگا، جس کے تحت 18 اپریل 2000 سے قبل پیدا ہونے والے افراد کے زیر التوا کیسز بھی حل کیے جا سکیں گے ۔ حکام کے مطابق نادرا کارڈ رکھنے والے تمام متعلقہ افراد کو پاکستانی شہری تصور کیا جائے گا اور ان کے دستاویزی مسائل مرحلہ وار نمٹائے جائیں گے ۔ یہ ترمیم پشاور اور سندھ ہائی کورٹ کے اُن فیصلوں کو بھی قانونی شکل دیتی ہے جن میں ماں کی بنیاد پر شہریت کے حق کو تسلیم کیا گیا تھا۔ حکومت کا کہنا ہے قانون میں تبدیلی کا مقصد شہریوں کو درپیش پاسپورٹ اور شہریت سے متعلق رکاوٹوں کو ختم کرنا اور خواتین کو مساوی قانونی حق فراہم کرنا ہے ۔قانونی ماہرین اس اقدام کو صنفی مساوات کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دے رہے ہیں، جس سے نا صرف پاکستانی ماؤں کے حقوق مضبوط ہوں گے بلکہ بیرونِ ملک مقیم خاندانوں کو بھی نمایاں سہولت حاصل ہوگی۔