ظلم، قبضے کا نظام مزید نہیں چلنے دینگے، کل دھرنا، رمضان کے بعد تحریک : حافظ نعیم
قابض میئر کیخلاف تحریک عدم اعتماد بھی لائیں گے ،بجلی،سولر پالیسی پر نیٹ میٹرنگ ختم کرنا عوام کے ساتھ دھوکا شہرکو اس کا حق، عوام کو جینے دیا جائے ،صوبائی حکومتیں بلدیاتی اداروں کو با اختیار بنائیں:کراچی میں پریس کانفرنس
کراچی (سٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے ایک بار پھر اعلان کیا ہے کہ کراچی کے حق، مسائل کے حل اور با اختیار شہری حکومت کیلئے 14 فروری کو (کل) سندھ اسمبلی کے سامنے بھرپور دھرنا دیا جائے گا، قابض میئر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی جائے گی، ظلم اور قبضے کے نظام کو مزید نہیں چلنے دیا جائے گا۔جمعرات کو ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب میں حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ کراچی کو اس کا حق اور عوام کو جینے دیا جائے ، تمام صوبائی حکومتیں آئین کے مطابق بلدیاتی اداروں کو با اختیار بنائیں، جماعت اسلامی پرامن، جمہوری اور عوامی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے، وفاقی حکومت کا بجلی اور سولر پالیسی پر نیٹ میٹرنگ ختم کرنا عوام کے ساتھ دھوکا ہے، آئی پی پیز کو سالانہ 2 ہزار ارب روپے جبکہ غریب صارفین پر فکس چارجز لگانا ظلم ہے ، حکومت کے اس ظالمانہ فیصلے کے خلاف رمضان المبارک کے بعد ملک گیر تحریک چلائی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا خصوصاً وادی تیراہ میں شدید سردی اور نقل مکانی سے عوام مشکلات میں ہیں، حکومت فوری طور پر متاثرین کو واپس گھروں میں بسائے اور انہیں معاوضہ دے ،کراچی میں سانحہ گل پلازہ نے پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کی نااہلی، کرپشن اور ایس بی سی اے کی کارکردگی کو بے نقاب کر دیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف فوری طور پر قوم سے خطاب کر کے فوج کو غزہ بھیجنے کے معاملے پر واضح مؤقف دیں، ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں بننے والے نام نہاد پیس بورڈ پر پاکستان کے دستخط اور نیتن یاہو کی شمولیت انتہائی تشویشناک ہے ، جس فورس کو ’’انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس‘‘کہا جا رہا ہے اس کا اصل مقصد حماس کو غیر مسلح کرنا ہے ، یہ فورس اسرائیل کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گی ۔حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ فوجی آپریشنز سے مسائل حل نہیں ہوتے ،1948 سے اب تک بار بار آپریشن ہوئے مگر وہاں محبت کے بجائے محرومی بڑھی، اصل مسئلہ حکمران طبقے کی غلط پالیسیاں ہیں جن سے بیرونی قوتیں فائدہ اٹھاتی ہیں۔