یو اے ای 2 ارب ڈالر قرض مزید دو ماہ کیلئے رول اوور کرنے پر رضا مند
اس سے قبل یو اے ای نے دو ارب ڈالر ایک ماہ کیلئے رول اوور کیا تھا جس کی میعاد 16 اور 22 فروری کو مکمل ہو جائیگی آئی ایم ایف اقتصادی جائزہ کے بعد امارات کیساتھ دوبارہ بات چیت کی جائیگی تاکہ رول اوور میعاد بڑھائی جا سکے :ذرائع
اسلام آباد (مدثرعلی رانا)باوثوق ذرائع وزارت خزانہ سے معلوم ہوا ہے کہ یو اے ای کی جانب سے 2 ارب ڈالر مزید دو ماہ کیلئے رول اوور کرنے پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے ، اس سے قبل یو اے ای نے دو ارب ڈالر صرف ایک ماہ کیلئے رول اوور کیا تھا جس کی میعاد 16 فروری اور 22 فروری کو مکمل ہو جائے گی ۔ حکومت کی جانب سے یو اے ای کو دو سال کیلئے قرض رول اوور کی درخواست کی گئی تھی، پہلی درخواست کے بعد دوبارہ پھر دو ارب ڈالر رول اوور کرنے کی درخواست کی گئی۔ معاشی ٹیم اور آئی ایم ایف کے درمیان اقتصادی جائزہ مذاکرات فروری کے آخری ہفتے سے شروع ہو رہے ہیں اور انہیں کامیابی سے مکمل کرنے کیلئے حکومت رول اوور کا پراسس مکمل کرنا چاہتی تھی۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ اقتصادی جائزہ کے بعد یو اے ای کیساتھ دوبارہ بات چیت کی جائے گی تاکہ رول اوور کیلئے میعاد کو بڑھایا جا سکے۔
یو اے ای نے جنوری میں 2 ارب ڈالر قرض صرف 1 ماہ کیلئے رول اوور کیا تھا ، 2 ارب ڈالر گزشتہ ماہ میچور ہو چکے تھے جس کی میعاد ایک ماہ کیلئے بڑھائی گئی جبکہ 1 ارب ڈالر کا جولائی میں میچورٹی ٹائم ہے ، مجموعی طور پر 3 ارب ڈالر کی تینوں اقساط میچورٹی سے قبل رول اوور کرانے کی آئی ایم ایف کو قرض پروگرام کے دورانیے تک یقین دہانی کرائی ہوئی ہے ۔ دسمبر کے دوران حکومت کی جانب سے متحدہ عرب امارات حکومت کو خط لکھنے کیلئے وزارت خزانہ نے ورکنگ کی اور حکومت پُرامید تھی کہ وقت سے پہلے ایک سال کیلئے رول اوور ہو جائے گا۔ گزشتہ ہفتے وزارت خزانہ حکام کی جانب سے یو اے ای سے تین ارب ڈالر قرض رول اوور کرانے کی ذمہ داری وزارت خارجہ پر ڈال دی گئی جبکہ وزیرخزانہ محمداورنگزیب، سیکرٹری فنانس امداداللہ بوسال اور گورنر سٹیٹ بینک محمدجمیل کمیٹی کو اطمینان بخش جواب نہیں دے پائے تھے ۔
وزیرخزانہ کے مطابق آئی ایم ایف کو ایکسٹرنل فنانسنگ کا واضح پلان دے دیا ہے جس پر حکومت قائم ہے ، یو اے ای حکام کیساتھ بات چیت چل رہی ہے ، بائی لیٹرل ارینجمنٹس آن ٹریک ہیں ، کوئی تبدیلی ہوئی تو آگاہ کیا جائے گا ۔ متحدہ عرب امارات کے ڈپازٹس سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا ہے کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اس معاملے پر بھرپور توجہ دے رہے ہیں اور متحدہ عرب امارات کے متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے اور مشاورت کے ذریعے مثبت کردار ادا کر رہے ہیں ۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈپازٹ رول اوور کی مدت کا تعین ، جمع کرانے والے ملک کا اختیار ہے ۔ رول اوور کے تسلسل سے صورتحال قابو میں ہے ، انہوں نے وزیر خزانہ کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا پاکستان کو بیرونی مالیاتی خلا کا سامنا نہیں اور آئی ایم ایف کے ساتھ روابط بھی برقرار ہیں۔
ابوظہبی فنڈ فار ڈویلپمنٹ یو اے ای کی جانب سے مجموعی طور پر 3 ارب ڈالر ڈپازٹ سٹیٹ بینک میں رکھوائے گئے ہیں جو تین اقساط میں موصول ہوئے تھے تاہم ایک ارب ڈالر کا 17 جنوری اور ایک ارب ڈالر کا 23 جنوری کو ڈپازٹ ٹائم مکمل ہونے کے بعد رول اوور ہونے کیلئے حکومت پُرامید تھی چونکہ اس سے قبل بھی یہی ایکسرسائز رہی ہے جبکہ 1 ارب ڈالر کی تیسری قسط کو میچورٹی ٹائم قریب آنے پر رول اوور کرایا جائے گا۔ باوثوق ذرائع نے دنیا نیوز کے اس نمائندے کو بتایا کہ یو اے ای سے تین ارب ڈالر کے سیف ڈپازٹ پر مختلف شرح سود ادا کرنا ہو گی جو تقریبا ً6.5 فیصد سے زائد ہو سکتی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم شہبازشریف نے یو اے ای حکام کو درخواست کی کہ حکومت پاکستان یو اے ای حکام رابطے میں رہیں گے، مجموعی طور پر 3 ارب ڈالر سیف ڈپازٹ کو ایک سال کیلئے رول اوور کرانے کیلئے وزیراعظم آفس اور وزارت خزانہ کی یو اے ای حکام سے بات چیت جاری ہے۔ حکومت کی جانب سے صدر یو اے ای کو جو خط لکھا گیا اس میں یو اے ای کے تعاون کا شکریہ ادا کیا گیا اور ملکی موجودہ معاشی صورتحال سے آگاہ کیا گیا کیونکہ یو اے ای کی جانب سے مشکل معاشی صورتحال میں پاکستان کے مرکزی بینک اکاؤنٹ میں تین ارب ڈالر ڈپازٹ کرائے گئے تھے ۔
دسمبر کے دوران سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ نے بھی 3 ارب ڈالرز کے ڈپازٹ کی مدت میں مزیدایک سال کی توسیع کی ہے ، سعودی عرب کے 3 ارب ڈالرز سٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود ہیں، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان 2021 میں 3 ارب ڈالرز کا ڈپازٹ فراہم کرنے کا معاہدہ ہوا تھا ، رواں مالی سال مجموعی طور پر 12 ارب ڈالر قرض رول اوور کرایا جائے گا جس میں سعودی عرب اور چین سے 9 ارب ڈالر سیف ڈپازٹ کو رول اوور کرانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے ، جس میں سعودی عرب سے 5 ارب ڈالر اور چین سے 4 ارب ڈالر کے سیف ڈپازٹ کو رول اوور کرایا جائے گا ، یو اے ای کے بھی 3 ارب ڈالر کو ملا کر 12 ارب ڈالر رول اوور ہو گا۔ خبر فائل کرنے تک نمائندہ دنیا نیوز کی جانب سے وزارت خزانہ حکام سے رابطہ کیا گیا جس پر رسپانس نہ مل سکا۔