سولرپالیسی میں تبدیلی کی اہم وجہ بے لگام کیپسٹی پیمنٹ

سولرپالیسی میں تبدیلی کی اہم وجہ بے لگام کیپسٹی پیمنٹ

حکومت 25 سے 30 سال تک آئی پی پیز کو کیپسٹی پیمنٹس کی ادائیگی کی پابند مضبوط آئی پی پیز کو چھیڑنے کی بجائے سولر صارفین کوآسان ٹارگٹ بنایا گیا 2026 میں پلانٹس کو 1923 ارب روپے ادا کئے جانے کا تخمینہ :رپورٹ

لاہور (رپورٹ :زاہدعابد )بجلی کے بڑھتے بلوں کی بڑی وجہ بننے والی بے لگام کیپسٹی پیمنٹ ہی سولر نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی کی اہم وجہ بن گئی۔ پاکستان میں پاور پلانٹس کے حوالے سے تین مرتبہ پالیسیاں بنائی گئیں، ہر پالیسی میں پاور پلانٹس کے مفادات کا زیادہ تر تحفظ کیا گیا جبکہ صارفین پر مالی بوجھ ہی ڈالا گیا۔ گزشتہ دو سال سے کوشش کے باوجود کیپسٹی پیمنٹ کا مسئلہ حل نہ ہونے اور مستقبل میں بھی اس سے جان نہ چھوٹنے کے تناظر میں سولر پالیسی میں تبدیلی کا آسان فیصلہ حکومت نے کردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق معاہدوں کے تحت 34 پاور پلانٹس بجلی پیدا نہ کرنے کی صورت میں بھی کیپسٹی پیمنٹ لینے کے حقدار ہیں۔ 1994کی پاور پالیسی کے تحت پانچ آئی پی پیز،2002 کی پاور پالیسی کے تحت 16آئی پی پیز، 2015 کی پاور پالیسی کے تحت 12آئی پی پیز سے معاہدے کئے گئے اور ان سب میں کیپسٹی پیمنٹ کی شق شامل رہی ۔حکومت 25 سے 30 سال تک ان پلانٹس کو کیپسٹی پیمنٹس کی ادائیگی کی پابند ہے ۔ ماہرین کہتے ہیں کہ جب بجلی کی کھپت کم ہوتی ہے یا یونٹس کی بلنگ کم ہوتی ہے تو کیپسٹی پیمنٹ کا بوجھ فی یونٹ مزید بڑھ جاتا ہے اور اس کا براہِ راست اثر بل ادا کرنے والے صارفین پر پڑتا ہے۔

ذرائع کے مطابق سولر نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی کی وجہ بھی یہی ہے کہ بڑے سولر والے کم یونٹس کا بل دیتے ہیں اور ان کے زائد یونٹ ایڈجسٹ ہو جاتے ہیں، جبکہ بغیر سولر والے زیادہ یونٹس کا بل ادا کرتے ہیں جس سے کیپسٹی پیمنٹ کا دبائو بھی سولر استعمال نہ کرنے والے یا چھوٹا سولر سسٹم والا صارف زیادہ اٹھا رہا ہے ۔ اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی مختلف پاور پلانٹس کو ابھی بھی ڈیڑھ سال سے لے کر 27 سال تک مزید کیپسٹی پیمنٹ کی ادائیگیاں ہوتی رہنی ہیں۔ذرائع کے مطابق پی ٹی پی ایل، تھل نووا، شنگھائی تھر اور تھر انرجی کو مزید 27 سال تک ادائیگیاں ہوں گی، جبکہ لکی الیکٹرک، اینگرو تھر، چائنا حب، بلوکی اور بھکھی کو مزید 22 سے 26 سال تک کیپسٹی پیمنٹ ملتی رہے گی۔صرف سال 2026 میں پاور پلانٹس کو 1923 ارب روپے کیپسٹی پیمنٹ کی مد میں ادا کیے جانے کا تخمینہ ہے۔

اس لئے یہ 1923ارب روپے کے لیے جتنے یونٹس کی بلنگ ہو گی وہی ادا کریں گے اور مجموعی طور پر کم یونٹس کی بلنگ ہونے پر اوسطاً فی یونٹ کیپسٹی پیمنٹ زیادہ ہو گی جبکہ زیادہ یونٹس کی بلنگ کی صورت میں اوسطا ًفی یونٹ کیپسٹی پیمنٹ کم ہو گی ۔ یہ صورتحال حکومت کیلئے ایک بڑا چیلنج اور صارفین کیلئے بڑھتا ہوا مالی دباؤ بن چکی ہے ۔اگر سولر اسی رفتار سے لگتا رہا جیسا کہ گزشتہ چند سال میں ہو رہا ہے تو پہلی پالیسی کے مطابق سولر استعمال نہ کرنے والے صارف پر کیپسٹی پیمنٹ کا بوجھ ناقابل برداشت ہوتا جائے گا ۔اس لئے مضبوط آئی پی پیز کو چھیڑنے کی بجائے حکومت نے سولر صارفین کوآسان ٹارگٹ بنا کر پالیسی میں تبدیلی کر دی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں