بنگلہ دیش،انتخابات میں بی این پی نے دوتہائی اکثریت حاصل کرلی:شہباز شریف کا طارق رحمن کو فون،جلد دورہ پاکستان کی دعوت
209نشستیں جیت کر بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کا حکومت بنانے کا اعلان ،جماعت اسلامی نے 68سیٹیں جیتیں ،6پر نیشنل سٹیزن پارٹی کامیاب ،ٹرن آؤٹ 60فیصدرہا:الیکشن کمیشن ریفرنڈم میں 4 کروڑ 80 لاکھ افراد نے ہاں میں ووٹ دیا ،چین ،امریکا اوربھارت کی بھی مبارک باد، شہباز شریف کا اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کو فون،تعاون بڑھانے کا عزم
اسلام آباد،ڈھاکہ (نامہ نگار ،اے ایف پی ،مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف نے بنگلہ دیش کے عام انتخابات میں دوتہائی اکثریت حاصل کرنیوالی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے سربراہ طارق رحمن کو ٹیلی فون کرکے فتح پر مبارکباد دی اور انہیں وزیراعظم بننے کے بعد جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی ،صدر آصف علی زرداری اور نائب وزیراعظم نے بھی طارق رحمن کو مبارکباد کے پیغا مات بھیجے ۔الیکشن کمیشن آف بنگلہ دیش کے اعلان کردہ عام انتخابات کے نتائج کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی)نے 209 نشستیں جیت کر دوتہائی اکثریت حاصل کی جبکہ جماعتِ اسلامی 68 نشستیں جیت سکی ،گزشتہ سال انقلاب کا باعث بننے والی نوجوانوں کی جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی نے 6سیٹیں جیتیں ۔بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے 15 فروری کو حکومت بنانے کا اعلان کر دیا اور کہا کہ بی این پی تمام اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکومت بنائے گی ۔
تفصیلات کے مطابق صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستانی عوام اور حکومت پاکستان کی جانب سے طارق رحمان کو بنگلہ دیش کے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کی نئی قیادت کے ساتھ قریبی تعاون کا خواہاں ہوں تاکہ اپنے تاریخی، برادرانہ اور ہمہ جہتی دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے اور جنوبی ایشیا اور اس سے باہر امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھایا جا سکے ۔پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایکس پراپنے پیغام میں لکھا کہ مجھے یقین ہے کہ طارق رحمان کی قابل قیادت میں بنگلہ دیش امن، ترقی اور خوشحالی کی جانب اپنا سفر جاری رکھے گا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے چیئرمین طارق رحمان سے ٹیلی فون پر بھی بات کی اوردونوں ملکوں کے تاریخی، برادرانہ تعلقات کو یاد کرتے ہوئے بنگلہ دیش کی نئی قیادت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ۔ وزیراعظم نے طارق رحمان کو جلد از جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی، طارق رحمان نے بھی شہباز شریف کو بنگلہ دیش کا دورہ کرنے کی دعوت دی ۔
دونوں رہنماؤں نے آنے والے دنوں میں قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا ۔بی این پی کے سربراہ طارق رحمان نے الیکشن میں جیت کے بعد عوا م کے نام پیغام میں کہا کہ امن عامہ پہلی ترجیح ہے تاکہ عوام خود کو محفوظ سمجھ سکیں، ملک کی آدھی آبادی خواتین پر مشتمل ہے ، ہم ان پر توجہ دیں گے ۔طارق رحمان نے پارٹی کے حامیوں اور کارکنوں سے نماز جمعہ میں خصوصی دعاؤں میں شریک ہونے اور کسی بھی قسم کی ریلیوں یا جشن سے گریز کی اپیل کی ۔چین ،امریکا اور بھارت نے بھی طارق رحمان کو مبارکبادکے پیغامات بھیجے ہیں ۔ڈھاکہ میں امریکی سفیر برینٹ ٹی کرسٹینسن نے اپنے پیغام میں لکھا کہ امریکا دونوں ممالک کی خوشحالی اور سلامتی کے مشترکہ اہداف کے حصول کیلئے آپ کے ساتھ کام کرنے کا خواہاں ہے ۔بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے بھی طارق رحمان کو کامیابی پر مبارکباد دی ہے اورسوشل میڈیا پر پیغام میں کہاکہ فتح آپ کی قیادت پر بنگلہ دیش کے عوام کے اعتماد کو ظاہر کرتی ہے ،بھارت ایک جمہوری، ترقی پسند اور جامع بنگلہ دیش کی حمایت میں کھڑا رہے گا۔ دوسری طرف الیکشن کمیشن کے سیکرٹری اختر احمد نے میڈیا کوبتایا کہ 300میں سے 299نشستوں پر الیکشن ہوا جس میں سے بی این پی نے 209پر فتح حاصل کرکے دوتہائی اکثریت حاصل کی جبکہ 68 نشستوں پر جماعت اسلامی کے اُمیدوار کامیاب ہوئے ۔
نیشنل سٹیزن پارٹی این سی پی نے چھ نشستوں پر کامیابی حاصل کی، خلافت مجلس پارٹی اوراسلامی آندولن بنگلہ دیش نے دو،دو نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ گنا اودھیکار پریشد، بنگلہ دیش جاتیہ پارٹی، گنا سنگھتی آندولن نے ایک ایک سیٹ جیتی،سات نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ۔سیکرٹری الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ ریفرنڈم میں چار کروڑ 80 لاکھ افراد نے ہاں میں ووٹ دیا اور 2 کروڑ 25 لاکھ 65 ہزار 627 افراد نے نفی میں ووٹ دیا،الیکشن میں ٹرن آؤٹ 60 فیصد رہا، انتخابات میں 7خواتین امیدوار بھی کامیاب ہوئیں۔ جماعت اسلامی نے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے غیر سرکاری نتائج پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔جماعت نے اپنے فیس بک پیج پر جاری بیان میں کہا کہ ووٹرز کی مثبت اور پرامن شمولیت کی تعریف کرتے ہیں، تاہم انتخابی نتائج کے عمل پر سوالات اٹھتے ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ 11 جماعتی اتحاد کے کئی امیدوار معمولی اور مشکوک فرق سے ہارے ، غیر سرکاری نتائج میں بار بار تضادات اور غلط بیانی، انتخابی کمیشن کی جانب سے ووٹر ٹرن آؤٹ فیصد نہ جاری کرنا، اور انتظامیہ کے کچھ حصوں کی بڑی پارٹی کی حمایت کے آثار، سب اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔
جماعت نے عوام سے صبر کا مظاہرہ کرنے اور 11 جماعتی اتحاد کے باضابطہ پروگرام کا انتظار کرنے کی اپیل کی ہے اور کہا کہ بنگلہ دیش کیلئے ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔وزیراعظم شہباز شریف نے متحدہ عرب امارات کے صدر اور ابوظہبی کے حکمران شیخ محمد بن زاید النہیان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی،دونوں رہنماؤں نے باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔خوشگوار اور نہایت گرمجوش ماحول میں ہونے والی اس گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے گزشتہ ماہ اسلام آباد اور رحیم یار خان میں ہونے والی اپنی حالیہ ملاقاتوں کا ذکر کیا، جو متحدہ عرب امارات کے صدر کے پاکستان کے پہلے سرکاری دورے کے موقع پر ہوئی تھیں۔وزیراعظم نے مشکل حالات میں پاکستان کی مستقل اور غیر متزلزل حمایت پر متحدہ عرب امارات کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعاون دونوں ممالک کی قیادت اور عوام کے درمیان تاریخی اور برادرانہ تعلقات کا مظہر ہے ۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں قائدین نے باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا اور رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔دریں اثنا شہباز شریف نے عالمی یومِ ریڈیو پر جاری پیغام میں کہا کہ حکومت ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کے تحت میڈیا اور آئی ٹی کے شعبوں میں جدت کو فروغ دے رہی ہے ،سب مل کر عہد کریں کہ ریڈیو سمیت تمام پاکستانی میڈیا کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے اسے سچائی، ذمہ داری اور قومی یکجہتی کا مضبوط ذریعہ بنائیں گے ۔