درخت کاٹنے والے ملزموں کی ضمانیتں نہیں ہونی چاہئیں:لاہور ہائیکورٹ
حیرت ہے واضح احکامات کے باوجود درخت کاٹے جارہے ،پنجاب یونیورسٹی میں میاواکی جنگل لگائیں:جسٹس شاہد کریم یہ پی ایچ اے کیخلاف کارروائی نہیں ، آنیوالی نسلوں کیلئے کام کر رہے :ریمارکس، ایڈووکیٹ جنرل آئندہ سماعت پر طلب
لاہور(کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے کہا ہے کہ درختوں کو کاٹنے والے ملزموں کی ضمانتیں نہیں ہونی چاہئیں ، جب تک ان کی ضمانتیں ہوتی رہیں، درختوں کی کٹائی نہیں رکے گی،انہوں نے سموگ اور ماحولیاتی آلودگی تدارک کیس کی سماعت کے دوران درختوں کی پالیسی بنانے سے متعلق رپورٹ 16فروری کو آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو پیش ہونے کا حکم دیدیا ۔تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے ہارون فاروق سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی۔ دوران سماعت ممبر جوڈیشل واٹر کمیشن سید کمال حیدر نے بتایا کہ جوڈیشل واٹر کمیشن کی سربراہی میں درختوں کے حوالے سے اجلاس ہوا، جس میں درختوں کی کٹائی کے حوالے سے کہا گیا کہ کوئی بھی ایسا فیصلہ تو کمیشن سے مشاورت کی جائے ۔ جسٹس شاہد کریم نے پی ایچ اے کے وکیل حارث عظمت کے تاخیر سے پیش ہونے پر اظہار ناراضگی کیا اور کہاکہ پی ایچ اے کا رویہ انتہائی قابل افسوس ہے ۔
دوران سماعت پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے جواب جمع کرایا گیا، وکیل پنجاب یونیورسٹی نے کہاکہ ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کیلئے کمیٹی بنا دی،شیخ زید سنٹر سے 60 بڑے درخت کاٹے گئے ،کارروائی کی جا رہی،یونیورسٹی میں 500 درخت لگا چکے ، 1 لاکھ نئے درخت لگانے کا منصوبہ ہے ۔جسٹس شاہد کریم نے کہاکہ حیرت ہے ، واضح احکامات کے باوجود درخت کاٹے جارہے ، درخت کاٹنے والوں کی ضمانتیں نہیں ہونی چاہئیں، پنجاب یونیورسٹی ایک تاریخی ادارہ ہے ، میاواکی طرز پر وہاں جنگل لگایا جائے ۔ پی ایچ اے کے وکیل نے بتایا کہ درختوں کی کٹائی پر سزا بالکل نہ ہونے کے برابر ہے ،لوگ دوسرے دن پولیس سے چھوٹ جاتے ہیں۔ جج نے کہاکہ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب سے بات کریں کہ ضمانتیں کیسے ہورہی ہیں؟۔ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو کہا جائے کہ قانون میں ترمیم کرکے ناقابل ضمانت دفعات شامل کی جائیں ، عدالت نے قرار دیاکہ یہ پی ایچ اے کیخلاف کارروائی نہیں بلکہ آنیوالی نسلوں کیلئے کام کر رہے ہیں ، انہیں فائدہ ہوگا ،عدالت نے 16فروری تک سماعت ملتوی کر دی۔