صوبائی اسمبلی:سندھ رجسٹریشن ، انفرا سٹرکچر سیس ترمیمی بلز منظور
آبی قلت کے باعث نئے آبی ذخائر کا قیام ناممکن ،کے فور کیلئے پانی لانا پڑیگا:شورو سینکڑوں مقدمات زیر سماعت،تاجر وں کو اعتماد میں لیا مقدمات واپس لیں،ضیالنجار
کراچی (سٹاف رپورٹر) وزیر آبپاشی سندھ جام خان شورو نے کہا ہے کہ آبی قلت کے باعث نئے آبی ذخائر کا قیام ممکن نہیں،کوٹری بیراج پر پانی کی ہمیشہ کمی رہتی ہے ،کے فور کیلئے پانی بھی کہیں سے لانا پڑے گا، 1991 کے پانی کے معاہدے کے مطابق صوبوں کو پورا پانی نہیں مل رہا، سمندر کیلئے بھی پورا پانی دستیاب نہیں۔ سندھ اسمبلی نے اجلاس میں سندھ رجسٹریشن ترمیمی بل 2026 اور سندھ ڈیولپمنٹ اینڈ مینٹی ننس آف انفرااسٹرکچر سیس ترمیمی بل منظور کر لیا۔دونوں بل وزیر قانون و پارلیمانی امور ضیاالحسن لنجار کی جانب سے پیش کئے گئے ۔ اس موقع پر وزیر قانون نے ایوان کو بتایا کہ انفرا سٹرکچر سیس میں ہم ترمیم لا رہے ہیں، اس کا سبب یہ ہے کہ سندھ کو انفرا اسٹرکچر سیس کی مد میں کوئی فائدہ نہیں ہو رہا تھا،عدالتوں میں 500 سے زائد مقدمات زیر سماعت ہیں،ہم نے اس معاملے پر تمام تاجروں کو اعتماد میں لیا ہے ۔ تاجروں کو کہا ہے وہ اپنے مقدمات واپس لیں۔ اقلیتی رکن مہیش ہسیجا نے توجہ دلائونوٹس میں کہا کہ سندھ پولیس میں سپاہیوں کی 16 ہزار اسامیاں آئی ہیں ،2 لاکھ امیدواروں میں 2 ہزار اقلیتی امیدوار تھے لیکن انہیں اقلیتی کوٹہ پر ٹرخادیا گیا، وزیر داخلہ سے اپیل ہے کہ اس مسئلے کو حل کریں۔