دوسرا سال 237:گھنٹے اجلاس، 59بلز،27قراردادیں منظور

 دوسرا سال 237:گھنٹے اجلاس، 59بلز،27قراردادیں منظور

قومی اسمبلی کے 11اور تین مشترکہ اجلاس ہوئے ،130 ورکنگ ڈیز مکمل کیے گئے 7625 سوالات پوچھے گئے ،1710کے ایوان کے اندر وزراء نے جوابات دئیے

اسلام آباد(نامہ نگار)16ویں قومی اسمبلی کے دوسرے پارلیمانی سال کی تکمیل پاکستان کی پارلیمانی و قانون سازی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے ۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی قیادت میں ایوان نے قانون سازی اور پارلیمانی نگرانی کے شعبوں میں قابلِ ذکر پیشرفت کی۔ اس عرصے کے دوران 59 سرکاری بل پیش کیے گئے جبکہ 14 بل سینیٹ سے موصول ہوئے اور 46 بل منظور کیے گئے ۔ اسی طرح 48 نجی ارکان کے بل پیش کیے  گئے ، 38 سینیٹ سے بھجوائے گئے جن میں سے 13 منظور ہوئے ۔ دوسرے پارلیمانی سال کے دوران 40 سرکاری اور 6 نجی ایکٹ بن گئے جس سے منظور شدہ ایکٹ کی مجموعی تعداد 46 ہو گئی ۔دوسرے پارلیمانی سال کے دوران 27 قراردادیں بھی منظور کی گئیں۔ قومی اسمبلی کے 11 اور تین مشترکہ اجلاس منعقد ہوئے ۔ ان اجلاسوں کے دوران 130 ورکنگ ڈیز مکمل کیے گئے ، اجلاسوں کا مجموعی دورانیہ 237 گھنٹے 36 منٹ رہا۔ پارلیمانی نگرانی کے اختیار کے تحت 7625 سوالات پوچھے گئے جن میں سے 1710 کے ایوان کے اندر وزراء نے جوابات دئیے ۔دوسرے پارلیمانی سال کے دوران ممبران کی جانب سے 329 توجہ دلاؤ نوٹس موصول ہوئے جن میں سے 49 ایوان میں زیرِ بحث آئے ۔ علاؤہ ازیں 15 تحریک التوا جمع ہوئیں جن میں سے 13 نامنظور کی گئیں۔ استحقاق کی 33 تحریکیں پیش ہوئیں جن میں سے 6 متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھجوائی گئیں، 18 زیرِ غور ہیں، 6 نامنظور جبکہ 2 واپس لے لی گئیں۔ مزید برآں رول 259 کے تحت 263 تحاریک موصول ہوئیں جن میں سے 4 کو آرڈر آف دی ڈے میں شامل کیا گیا اور 3 پر بحث کی گئی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں