جنگ امریکا نے شروع کی،بھگتنا ہمیں پڑ رہا :خلیجی ممالک ٹرمپ سے ناراض

جنگ امریکا نے شروع کی،بھگتنا ہمیں پڑ رہا :خلیجی ممالک ٹرمپ سے ناراض

امریکی صدر کیخلاف اضطراب میں اضافہ،امریکا نے فتح حاصل کئے بغیرجنگ چھوڑی تو ایران بڑا خطرہ بنے گا:ماہرین ٹرمپ مشرق وسطیٰ کے شراکت داروں کیساتھ رابطے میں ہیں،ایران کا خطرہ ختم کرنا ضروری تھا:ترجمان وائٹ ہاؤس

دبئی (رائٹرز)امریکا نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی لیکن نقصان تیل پیدا کرنے والے خلیجی ممالک کو اٹھانا پڑ رہا ہے جو اپنے تحفظ کیلئے امریکا پر انحصار کرتے ہیں اور اس صورت حال سے بے چینی محسوس کر رہے ہیں۔ پردے کے پیچھے خلیجی عرب دارالحکومتوں میں ناراضگی بڑھ رہی ہے کہ انہیں ایسی جنگ میں الجھا دیا گیا ہے جو انہوں نے نہ شروع کی اور نہ اس کی منظوری دی لیکن اب انہیں اس کا اقتصادی اور فوجی بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے کیونکہ ایرانی حملوں سے ہوائی اڈے ، ہوٹل، بندرگاہیں، فوجی اور تیل کی تنصیبات متاثر ہوئی ہیں۔جہاں کچھ حلقوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف اضطراب بڑھ رہا ہے کہ انہوں نے مشاورت کے بغیر جنگ شروع کی وہاں کچھ علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ جنگ شروع ہو چکی ہے ، واشنگٹن کو اب اسے مکمل کر کے دہلیز پر موجود مستقل ایرانی خطرے کو ختم کرنا چاہئے ۔

تجزیہ کار ابتسام الکیتبی نے کہاکہ اگر امریکا اب فتح حاصل کئے بغیر جنگ چھوڑ دے تو یہ ایسے ہوگا جیسے ایک زخمی شیر کو چھوڑ دینا، ایران خطے کیلئے خطرہ بنا رہے گا اور وہ دوبارہ حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اگر ایرانی حکومت گر گئی اور طاقت کا خلا پیدا ہوا تو پڑوسی ممالک کو اس کے نتائج بھگتنے پڑیں گے ۔وائٹ ہاؤس نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ امریکی اور اسرائیلی حملوں نے ایران کی میزائل حملوں کی صلاحیت کو90 فیصد کم کر دیا ہے جبکہ ان کے ہتھیار داغنے یا مزید تیار کرنے کی صلاحیت کو تقریباً ختم کر دیا ہے ۔وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی کاکہناتھاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ کے شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں اور ایران کے ہمسایہ ممالک پر حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ خطرہ ختم کرنا ضروری تھا۔خلیجی ممالک کی جانب سے فوری ردعمل موصول نہیں ہوا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں