وکلاء پہلے آئینی عدالت آئیں:جسٹس حسن اظہر
یہ ملک کی سب سے بڑی عدالت، وکلا کو پہلے یہاں پیش ہونا چاہیے :ریمارکس
اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)وفاقی آئینی عدالت نے آئینی عدالت کے بجائے سپریم کورٹ میں پیش ہونے کے وکیل کے طرز عمل پر برہمی کا اظہار کیا ہے ۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے کہ وفاقی آئینی عدالت ملک کی سب سے بڑی عدالت ہے اور وکلاء کو پہلے یہاں پیش ہونا چاہیے ،یہ طریقہ کار درست نہیں کہ وکیل آئینی عدالت پیش ہونے کے بجائے سپریم کورٹ میں پیش ہو۔ وکلاء حضرات پہلے آئینی عدالت میں حاضری یقینی بنائیں۔ عدالت نے خبردار کیا آئندہ سماعت پر اگر وکیل پیش نہ ہوا تو مقدمہ خارج کردیا جائے گا۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں آئینی عدالت کے دو رکنی بینچ نے چیئرمین ڈرگ کورٹ گوجرانوالہ سراج احمد کی برطرفی کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ آئینی عدالت کو اس مقدمہ کی سماعت کا اختیار نہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے 13 نومبر کو استعفیٰ دیا جبکہ 12 نومبر کو برطرفی کے خلاف اپیل پر سماعت ہوسکتی تھی۔ جسٹس ارشد حسین نے ریمارکس دیئے کہ درخواست گزار پر عہدے کے دوران کسی مقدمے کا فیصلہ نہ کرنے کا الزام ہے ۔ عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا جو بعد میں سنایا جائے گا۔