اسلام آباد ہائیکورٹ:گرینڈ حیات لیز منسوخی کیس کا فیصلہ محفوظ
ساڑھے 17ارب میں سے صرف 2.9ارب ادا، 240اپارٹمنٹس فروخت کر دیئے ثاقب نثار کا فیصلہ جاری نہیں ہوا، اعجاز الاحسن BNPکی نمائندگی کرتے رہے :وکیل کیا وہی اعجاز الاحسن جنہوں نے یہ کیس بھی سنا، اعتراض نہیں کیا:چیف جسٹس سرفراز ڈوگر سابق چیف جسٹس نے جسٹس اعجاز پر اعتراض کا سخت اظہار برہمی کیا تھا:وکیل سی ڈی اے
اسلام آباد (رضوان قاضی)اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کی عدالت نے ریڈ زون میں واقع کثیر المنزلہ عمارت گرینڈ حیات کی لیز منسوخی سے متعلق کیس میں فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔ سی ڈی اے کی جانب سے وکیل کاشف ملک نے عدالت میں موقف اختیارکیا کہ اکیس سال گزرنے کے باوجود ادائیگیاں نہیں ہو سکیں، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا اسی کیس سے متعلق فیصلہ تاحال جاری نہیں ہوا، سابق جج اعجاز الاحسن بی این پی گروپ کی نمائندگی کرتے رہے ۔ چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ کیا اعجاز الاحسن وہی ہیں جنہوں نے بعد میں یہ کیس بھی سنا تھا، کیا سی ڈی اے نے ان پر اعتراض نہیں کیا تھا۔ وکیل نے کہا وکیل منیر پراچہ نے جسٹس اعجاز الاحسن کے بینچ میں بیٹھنے پر اعتراض کیا تھا، اس پر سابق چیف جسٹس نے سخت برہمی کا اظہار کیا تھا، آج دن تک بی این پی نے ساڑھے سترہ ارب میں سے 2.9 ارب ادائیگی کی، تقریباً 240 اپارٹمنٹس اور کمرشل ایریاز تیسرے فریقین کو فروخت کر دیئے ۔ عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔ گرینڈ حیات میں بانی پی ٹی ، اعتزاز احسن ،شاندانہ اورنگزیب، برجیس طاہر ، سابق نگران وزیر اعظم ناصر الملک کا اپارٹمنٹ بھی ہے ۔