افغانستان میں فوجی ٹھکانے تہس نہس:آپریشن غضب للحق:افغان رجیم کے 297اہلکار اور خوارج ہلاک 450زخمی،18چوکیاں پاکستان کے قبضے میں،12سپوت شہید،27زخمی،سبی ،ایبٹ آباد،نوشہرہ میں ڈرون حملے ناکام

افغانستان  میں  فوجی ٹھکانے  تہس نہس:آپریشن غضب للحق:افغان  رجیم کے 297اہلکار  اور  خوارج ہلاک 450زخمی،18چوکیاں پاکستان کے  قبضے  میں،12سپوت  شہید،27زخمی،سبی ،ایبٹ  آباد،نوشہرہ  میں ڈرون حملے  ناکام

فتنہ الہندوستان، فتنہ الخوارج کے 29 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا،افغانستان کی 89 چوکیاں،135 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں تباہ،دہشتگرد ساتھیوں کی لاشیں چھوڑ کر بھاگ گئے ،ایک جوان لاپتا:ڈی جی آئی ایس پی آر غضب للحق مقاصد کی تکمیل تک جاری رہے گا:لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف، افغانستان ہندوستان کی کالونی، اب کھلی جنگ :وزیر دفاع، افغان طالبان رجیم غیرقانونی ،ناجائز،جبر سے قائم ہے :عطا اللہ تارڑ

راولپنڈی (خصوصی نیوز رپورٹر،دنیا نیوز، مانیٹرنگ ڈیسک)پاک فوج کے آپریشن غضب للحق کے دوران افغانستان میں فوجی ٹھکانے تہس نہس کردئیے گئے ، 297خوارج ہلاک اور 450 سے زائد زخمی ہو چکے ،18 چوکیاں پاکستان کے قبضے میں ہیں،12 سپوت شہید ، 27 زخمی ہوئے ،سبی، ایبٹ آباد ،نوشہرہ میں ڈرون حملے ناکام بنادئیے گئے ،بتایا گیا کہ گزشتہ روز بھی غضب للحق کے تحت کارروائیاں جاری رہیں، سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فضائیہ نے کارروائی کرتے ہوئے افغان صوبہ لغمان میں اسلحہ ڈپو،اے بی ایف بٹالین ہیڈکوارٹر ز اور ننگرہار بریگیڈ کو مکمل طورپر تباہ کر دیا، ننگرہار میں افغان طالبان کے ٹینک کو بھی اڑادیا گیا،مہمند سیکٹر کے قریب افغان چیک پوسٹ مکمل طور پر تباہ کی گئی۔

افغان طالبان چوکیاں چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہوگئے ، افغان طالبان فوج کی گاڑی کو بھی قبضے میں لے لیاگیا،کابل میں 2 بریگیڈ ہیڈ کوارٹر نیست و نابودکردئیے گئے ،قندھارمیں کور ہیڈ کوارٹرز اور بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز،ایمونیشن ڈپو اورلاجسٹک بیس تباہ کر دیئے گئے ۔پکتیا میں بھی کور ہیڈ کوارٹرز کو تباہ کیا گیا۔جبکہ پکتیکا کی پوسٹ پر بھی قبضہ کر لیاگیا۔وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ نے تازہ ترین اعدادو شمار شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک افغانستان میں 29 مقامات کو فضائی کارروائی میں مؤثر طور پر نشانہ بنایا گیا، اس دوران افغان طالبان رجیم کے 297 اہلکار و خوارج ہلاک کردئیے گئے ، جبکہ 450 سے زائد زخمی ہوئے ، افغان طالبان کی 89 چیک پوسٹیں تباہ کیں جبکہ 18 چوکیوں کو قبضہ میں لے لیا گیا، 135 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں تباہ کی گئیں۔قبل ازیں ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ غضب للحق میں افواج پاکستان نے ایک بارپھر ثابت کیا کہ وہ دفاع وطن کے لیے ہر دم تیارہیں۔

انہوں نے کہا 21 اور 22 فروری کی شب دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، افغان رجیم نے اسے بنیاد بناکر خیبرپختونخوا میں پاک افغان سرحد کے 15 سیکٹر میں 53مقامات پر فائرنگ کی، یہ جارحیت افغان رجیم کی جانب سے دہشت گرد تنظیم نے مل کر کی، جس کا بھرپور جواب دیا گیا، کابل، پکتیا، قندھار میں اہداف کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا، دہشتگردوں کو چن چن کر مارا گیا، دشمن کے خلاف لڑتے ہوئے پاک فوج کے 12 جوان شہید ہوئے ، 27 جوان زخمی اور ایک لاپتا ہے ،فتنہ الہندوستان، فتنہ الخوارج کے 22 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، دہشتگرد اپنے ساتھیوں کی لاشیں چھوڑ کر بھاگ گئے ۔ دہشتگردوں اور اُن کے سہولت کاروں کو ویسا ہی جواب دیا جس کے وہ مستحق تھے ، افغان طالبان سوشل میڈیا کے ذریعے دھمکیاں دے رہے ہیں۔ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کسی جگہ پردہشت گردی کا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو دہشت گردوں اوران کے تحفظ کرنے والوں کی کوئی جگہ محفوظ نہیں ہوگی، افغان طالبان رجیم دہشت گردوں یا پھر پاکستان کو منتخب کریں، ہماری چوائس کلیئر ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ پاکستان کے عوام مسلح افواج سے اپنی محبت کا اظہار کر رہے ہیں، سبی، ایبٹ آباد اور نوشہرہ میں ڈرون حملوں کو ناکام بنا دیا گیا، پاکستان کے مفادات کا تحفظ ہر قیمت پر کیا جائے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کہیں دہشت گردی ہوئی تو دہشت گردوں کیلئے جائے پناہ نہیں بچے گی، دہشت گردوں کا تحفظ کرنے والوں کیلئے بھی کوئی جگہ محفوظ نہیں ہوگی، معرکہ حق کی طرح آپریشن غضب للحق میں بھی قوم سیسہ پلائی دیواربنی ہے ۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے ہر واقعہ میں بھارت ملوث ہے ۔ دوران پریس کانفرنس دشمن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی ویڈیوزدکھائی گئیں۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا کہنا تھا کہ دشمن کی جانب سے خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے کا جھوٹا پروپیگنڈا کیا گیا، پاکستان میں دہشتگردی کرنے اور کرانے والے کہیں بھی محفوظ نہیں رہیں گے ، افواج پاکستان نے پیشہ ورانہ انداز میں صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنایا۔اُنہوں نے کہا کہ ہمارا مؤثر جواب مسلح افواج کے مکمل چوکس ہونے کا مظہر ہے ، قوم کو اپنے نڈراور جانباز جوانوں پر فخر ہے ، تمام سیاسی جماعتیں بھی دہشت گردی سے متعلق کلیئرہیں، نیشنل ایکشن پلان کو تمام سیاسی جماعتوں نے مل کربنایا تھا، دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق پاکستان میں رتی بھر اختلاف نہیں۔آپریشن غضب للحق مقاصد کی تکمیل تک جاری رہے گا۔

ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا پولیس کے جوان بہادری سے فرنٹ پر لڑ رہے ہیں، قوم خیبرپختونخوا کے پولیس اہلکاروں کو سلیوٹ کرتی ہے ۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم غیرقانونی اور ناجائز ہے ، یہ حکومت جبر سے قائم کی گئی،پاکستان میں حالیہ دہشت گرد کارروائیوں کے لئے افغان سرزمین استعمال کی گئی طالبان کے نئے ضابطے بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی براہِ راست خلاف ورزی کرتے ہیں ۔جمعہ کو خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا افغانستان میں دہشتگردوں کو تربیت دی جاتی ہے ۔ اس رجیم سے افغانستان میں خواتین، بچے اور اقلیتیں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ان کے مطابق افغان رجیم کی کابینہ میں کوئی خاتون شامل نہیں ہے اور ملک میں لڑکیوں کو 13 برس کے بعد تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ طالبان خواتین کو ان کا بنیادی حقِ تعلیم اور نمائندگی دینے سے انکار کر رہے ہیں۔

پاکستان میں حالیہ دہشت گرد کارروائیوں کے لئے افغان سرزمین استعمال کی گئی،اسلام آباد کچہری اور ترلائی حملے میں افغانستان کے شہری ملوث تھے ،اسلام آباد میں حالیہ عرصے میں جوڈیشل کمپلیکس اور امام بارگاہ پر خودکش حملوں میں افغان سرزمین استعمال ہوئی۔وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہاہے نیٹو کی افواج کے انخلاء کے بعد یہ توقع کی جاتی تھی کہ افغانستان میں امن ہو گا اور طالبان افغان عوام کے مفادات اور علاقہ میں امن پہ توجہ مرکوز کریں گے ،مگر طالبان نے افغانستان کو ہندوستان کی کالونی بنا دیا،ہمارا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا، اب ہماری تمہاری کھلی جنگ ہے ، اب دما دم مست قلندر ہو گا، پاکستان کی فوج سمندر پار سے نہیں آئی ہوئی، ہم تمہارے ہمسائے ہیں تمہاری اوقات جانتے ہیں۔انہوں نے کہا ساری دنیا کے دہشت گردوں کو افغانستان میں اکٹھا کر لیا اور دہشت گردی کو ایکسپورٹ کرنا شروع کر دیا، اپنی عوام کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر دیا ، خواتین کو جو حقوق اسلام دیتا ہے وہ چھین لیے ، پاکستان نے براہ راست اور دوست ممالک کے ذریعہ حالات نارمل رکھنے کی پوری کوششیں کیں۔ بھر پور سفارت کاری کی مگر طالبان ہندوستان کی پراکسی بن گئے ، آج جب پاکستان کو جارحیت کا نشانہ بنانے کی کوشش کی توہماری افواج اسوقت فیصلہ کن جواب دے رہی ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں