خامنہ ای کی شہادت پر لاہور،کراچی سمیت مختلف شہروں میں احتجاج،فائرنگ،27جاں بحق
لاہور میں امریکی قونصلیٹ کے باہر احتجاج ،مظاہرین پرآنسو گیس پھینکی گئی،اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کی جانب مارچ ،3جاں بحق ،احتجاج سب کا حق ،پرامن رہیں :محسن نقوی کراچی میں امریکی قونصلیٹ کے باہر جھڑپیں ،10مظاہرین جان سے گئے ،گلگت اورسکردو میں سکیورٹی اہلکار سمیت 14جاں بحق ،45زخمی ہسپتال داخل ،4کی حالت تشویش ناک
لاہور ،اسلام آباد ،کراچی(کرائم رپورٹر ،سیاسی نمائندہ ،خصوصی رپورٹر ،مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوزایجنسیاں)ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں شہادت کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں میں ہونے والے مظاہروں میں سکیورٹی اہلکار سمیت 27 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے ۔گلگت بلتستان کے دو بڑے شہروں گلگت اور سکردو میں امریکاکے خلاف احتجاجی مظاہرے پرتشدد ہوگئے اور مظاہرین نے غیرملکی دفاتر، سرکاری و عسکری املاک کو نذرِآتش کر دیا۔ تصادم کے نتیجے میں ایک سکیورٹی اہلکار سمیت 14 افراد جاں بحق ہو گئے ۔گلگت اورسکردوکے ہسپتالوں میں 7،7لاشیں لائی گئیں ۔ سکردو ہسپتال کی انتظامیہ کاکہناہے کہ کل 45 زخمی ہسپتال میں داخل ہیں جن میں سے تین کی حالت تشویشناک ہے جبکہ گلگت ہسپتال میں 14 افراد زیرِعلاج ہیں۔سکردو میں بگڑتی صورت حال کے تحت کرفیو نافذ کر دیا گیا اور گلگت اور سکردو کے تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ گلگت میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی ۔کراچی میں ہونے والا احتجاج اچانک پرتشدد جھڑپوں میں تبدیل ہوگیا جس کے نتیجے میں 10افراد ہلاک اور 36 سے زائد زخمی ہوئے ۔
امریکی قونصلیٹ کے باہر مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا جبکہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ڈائریکٹر ٹراما سینٹر ڈاکٹر صابر میمن کے مطابق سول ہسپتال میں9 جاں بحق افراد لائے گئے جبکہ دوران علاج ایک اورزخمی جاں بحق ہوگیا۔اسلام آباد میں احتجاجی مظاہروں کے دوران تین افراد جاں بحق جبکہ سکیورٹی اہلکارسمیت 56 افراد زخمی ہو گئے ، مظاہرین نے امریکی سفارتخانہ کی جانب مارچ کیا ،انتظامیہ نے ریڈ زون جانے والے تمام راستے بند کر دئیے ، آبپارہ چوک پر جمع ہونے والے مظاہرین کومنتشرکرنے کیلئے پولیس نے آنسوگیس کی شیلنگ کی ۔ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد ریڈ زون، ڈپلومیٹک انکلیو اور دیگر علاقوں کا دورہ کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ احتجاج ہر کسی کا قانونی حق ہے لیکن کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی، انہوں نے مظاہرین سے پُرامن رہنے کی درخواست کی۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف مقامات پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں جبکہ دفعہ 144 بھی نافذ ہے ۔
لاہور میں شہریوں نے ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت کے خلاف مختلف مقامات پر احتجاج ریکارڈ کرایا۔احتجاج کے دوران مظاہرین لاہور پریس کلب کے قریب واقع امریکی قونصلیٹ میں داخل ہونے کی کوشش بھی کرتے رہے ، مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔ مظاہرین نے امریکی قونصل خانے کے باہر توڑ پھوڑ کی، قونصلیٹ کے سامنے لگائے سکیورٹی کیمپ اکھاڑ دئیے اورشملہ پہاڑی کے باہر دھرنادیدیا، خواتین نے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں ریلیاں نکالی گئیں، غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی اور بعض مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے بعد شیلنگ بھی کی گئی۔ حکومت پنجاب نے صوبے بھر میں سات روز کیلئے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے ۔ ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب نے بتایا کہ محکمہ داخلہ نے فوری طور پر اجتماعات، جلوسوں اور مظاہروں پر پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے ۔مظاہرین نے مظفرآباد، راولا کوٹ اور دیگر علاقوں میں بھی ریلیاں نکالیں اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔پشاور ،کوہاٹ، اورکزئی اور پارہ چنار سمیت کئی اور شہروں میں بھی مظاہرے ہوئے ۔قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے گہرے دکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے چالیس روز کے سوگ کا اعلان کردیا اور6مارچ کو جمعہ کے روزامریکی اوراسرائیلی جارحیت کیخلاف ملک گیر پرامن احتجاج کی کال بھی دیدی۔