ایرانی سپریم لیڈرکو مارناکھلی بدمعاشی ،بڑاجرم:مشاہد حسین

ایرانی سپریم لیڈرکو مارناکھلی بدمعاشی ،بڑاجرم:مشاہد حسین

جنگ طوالت اختیار کررہی اورمشرق وسطی ٰ کا کافی نقشہ تبدیل ہوتا نظر آرہا ہے بدامنی کے ذمہ دار امریکا اور اسرائیل ،انکا نقصان ہوگا:’’دنیا مہربخاری کیساتھ‘‘

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق سینیٹر اور عالمی امور کے ماہر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر کو مارنا بہت بڑا جرم اور کھلی بدمعاشی ہے ،یہ انہوں نے ایران کے خلاف ایک تہذیبی جنگ اپنا لی ہے کیونکہ ایران اس وقت ان کے سامنے کھڑا ہے ،ان کا مقابلہ کررہا ہے ،سپریم لیڈر کی شہادت اورہائی کمان کے ختم ہونے کے باوجود ایران نے بڑی بہادری سے دوگھنٹے کے بعد جوابی حملہ کیا، امریکااور اسرائیل کا خیال تھا کہ سپریم لیڈر ایرانی قیادت کو مارنے سے ان کا نظام ختم ہوجائے گا،جنگ بڑی طوالت اختیار کررہی ہے ،اس جنگ کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کا کافی نقشہ تبدیل ہوتا نظر آرہا ہے ، مشرق وسطیٰ پر امن خطہ تھا،انہوں نے سارا تہس نہس کردیا ،بدامنی کے ذمہ دار امریکا اور اسرائیل ہیں،یہ بھی بتادوں کہ اس جنگ میں امریکا اور اسرائیل کا نقصان زیادہ ہو گا، امریکی طیارے گرے ہیں، امریکی بندے بھی مرے ہیں۔

مشاہد حسین نے دنیانیوزکے پروگرام ’’دنیا مہربخاری کے ساتھ‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ سپریم لیڈر کی شہادت ، ایران کی سکیورٹی ناکامی ہے ،اسرائیل نے کہا تھا کہ ہماراہدف سپریم لیڈر ہو گا،خطرات کے باوجود دن دیہاڑے میٹنگ بلانااوراس دفترمیں سپریم لیڈراورہائی کمانڈ کے موجود ہو نے کی کسی نے مخبری کی ہو گی۔ایران کی ایک سٹراٹیجی تھی کہ ان کا گورننس سٹرکچر قائم رہے وہ قائم ہے ، دوسری ایران کی فوجی صلاحیت قائم ہے ،ایران کے میزائل اور ڈرونز چل رہے ، تیسرا یہ کہ ایران چاہتا ہے کہ جنگ طویل ہو،جنگ میں زیادہ لوگ شامل ہوں تاکہ زیادہ نقصان امریکا اور ان کے حلیفوں کو پہنچ سکے ۔جنگ سے امریکا اور ان کے حلیفوں کو درد ہو،سنا ہے اسرائیل میں لوگ بیڈ روم میں سو نہیں رہے ، نیتن یاہو سمیت سارے بنکرز میں گھسے ہوئے ہیں۔مشاہد حسین کاکہناتھاکہ ایران نے کہا تھا کہ ایٹم بم نہیں بناؤں گا، اس کا واضح مطلب ہے کہ اس جنگ کا تعلق نیوکلیئر ویپن سے نہیں، یہ بنیادی طور پر تہذیب کی جنگ ہے کہ ایران کے انقلاب کا خاتمہ کیا جائے ، جو ان کو کئی دہائیوں سے کھٹک رہا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں