سعودی عرب سے دو آدمی نہیں لاسکتے اور کیا کرینگے:اسلام آباد ہائیکورٹ

سعودی عرب سے دو آدمی  نہیں لاسکتے  اور کیا کرینگے:اسلام آباد ہائیکورٹ

2018میں قتل ہوا، ملزمان سعودیہ چلے گئے ، اب تو جنگ ہے ،نارمل حالات میں بھی حکومت بندہ نہیں لا سکی انہی حالات کے باعث کرائم بڑھتا، لوگ قانون ہاتھ میں لیتے :جسٹس محسن، پختونخوا حکام کو ریکارڈ فراہمی کا حکم

اسلام آباد (اپنے نامہ نگار)اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے سوات میں قتل کیس کے ملزمان کو سعودی عرب سے واپس لانے کی درخواست پر آٹھ سال میں ملزمان سعودی عرب میں واپس لانے میں ناکامی پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا اب تو ویسے جنگ لگی ہے ، یہ تو نارمل حالات میں بھی انٹرپول کے ذریعے حکومت بندہ سعودی عرب سے نہیں لا پا رہی تھی، 2018 میں قتل ہوا دونوں ملزمان سعودی عرب چلے گئے دونوں اشتہاری ہیں، ملزمان کو واپس لانے کے لیے 2023 میں یہاں پٹیشن آئی، دو آدمی سعودی عرب سے ہم نہیں لا پا رہے اور ہم کیا کریں گے ۔ انہوں نے استفسار کیاکہ کیا ان دو آدمیوں کا کوئی خاص سٹیٹس ہے ؟ یہ کون لوگ ہیں؟ عمر باچا اور حاکم خان کوئی سیاسی آدمی ہیں کوئی شاہی خاندان کا ہے ؟ عدالت کو بتایاگیا کہ ڈیلی ویجز پر کام کرتے ہیں۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے جس کا قتل ہوا وہ بیچارہ کیا کرے ،یہ وزارت داخلہ کی بے بسی ہے ، کون سا کفیل ہو گا جو ان کو وہاں مستقل اقامت دے ، یہی وہ حالات ہیں جن کی وجہ سے کرائم بڑھتا ہے ، لوگ قانون اپنے ہاتھ میں لینا شروع کر دیتے ہیں۔ وزارت خارجہ کے حکام نے کہا کہ کے پی حکومت نے ابھی تک متعلقہ ریکارڈ نہیں دیا،عدالت نے سیکرٹری محکمہ داخلہ خیبرپختونخوا کو نوٹس جاری کر کے ریکارڈ فراہم کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے مزید سماعت مئی تک ملتوی کر دی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں