ٹیکس چوری 7100 ارب ہوگئی، روک تھام کیلئے کارگو ٹریکنگ سسٹم متعارف
سیلز ٹیکس میں 34 سو ارب ، انکم ٹیکس 21 سو ارب اور کسٹمز ڈیوٹی میں 16 سو ارب روپے کا ٹیکس گیپ موجود ہے سسٹم سے فیک انوائسنگ اور انڈر انوائسنگ کا خاتمہ ہوگا ،ٹیکس وصولی بڑھے گی :چیئرمین ایف بی آر، تقریب سے خطاب
اسلام آباد (نمائندہ دنیا)سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی میں ٹیکس چوری بڑھ کر 71 سو ارب روپے تک پہنچ گئی ۔روک تھام کیلئے ایف بی آر میں کارگو ٹریکنگ سسٹم متعارف کر ا دیا گیا،سیلز ٹیکس میں 34 سو ارب روپے ، انکم ٹیکس میں 21 سو ارب روپے اور کسٹمز ڈیوٹی میں 16 سو ارب روپے کا ٹیکس گیپ موجود ہے ۔سمگلنگ کی روک تھام کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں کارگو ٹریکنگ سسٹم اور ای بلٹی طریقہ کار کے تحت تقریب منعقد ہوئی جس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے کہا کہ یہ نظام سمگلنگ کی روک تھام اور مانیٹرنگ کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس سے فیک انوائسنگ اور انڈر انوائسنگ کا خاتمہ ہوگا اور ٹیکس وصولی میں اضافہ ہوگا۔
چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ یہ نظام 50 سے زائد ممالک میں رائج ہے اور پراجیکٹ ڈیزائن درست ہونے کی صورت میں اطلاق میں مسائل کم ہوں گے۔ پروڈکشن مانیٹرنگ جاری ہے اور ڈیجیٹل انوائسنگ کا نظام لایا جا رہا ہے تاکہ کارگو کی مکمل ٹریکنگ ممکن ہو سکے۔ اس نظام کا پہلا مرحلہ پٹرولیم مصنوعات کی ٹریکنگ کے لیے شروع کیا گیا ہے اور اب تک 16 ہزار آئل ٹینکرز پر ٹریکنگ فعال ہو چکی ہے۔ عالمی بینک ایف بی آر کو ای بلٹی طریقہ کار کے لیے مالی معاونت فراہم کرے گا اور معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے۔ اس نظام سے کارگو ٹریکنگ ڈیجیٹلائز ہو جائے گی اور چیکنگ کاغذات کی بجائے الیکٹرانک ہوگی۔
ایف بی آر کے مطابق سمگلنگ کی روک تھام اور تجارت میں سہولت کے لیے ڈیجیٹل نیشنل کارگو ٹریکنگ سسٹم اور ای بلٹی میکانزم کے ڈیزائن مرحلے کا آغاز کر دیا گیا ہے ۔ اس کے تحت سٹریٹجک فزیبلٹی اسیسمنٹ اور ڈیزائن کے معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں۔چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ سی ٹی ایس کو موجودہ نظاموں کے ساتھ مربوط کر کے جعلی سیلز ٹیکس انوائسز بنانے والی خامیاں دور کی جا رہی ہیں۔ نئے نظام سے دیانت دارانہ تجارت کے لیے مساوی مواقع فراہم ہوں گے اور قومی محصولات کا تحفظ ممکن ہوگا۔ممبر کسٹمز آپریشنز نے کہا کہ راستے میں سامان کی فزیکل جانچ پڑتال اور تاخیر کو کم کر کے تجارت میں سہولت فراہم کی جائے گی۔ اب انفورسمنٹ نظام شاہراہوں پر چیکنگ کرنے کے بجائے جدید ڈیجیٹل نگرانی پر منتقل ہو جائے گا۔