ملکی سلامتی افغانستان میں آپریشن جاری رکھنے کی وجہ

ملکی سلامتی افغانستان میں آپریشن جاری رکھنے کی وجہ

آپریشن روکنے کا کہنے والے دوست ممالک افغان طالبا ن کی گارنٹی نہیں دیتے

(تجزیہ:سلمان غنی)

 پاکستان نے افغانستان میں جاری دہشت گردی کے خلاف آپریشن اپنے مقاصد کے حصول تک روکنے سے انکار کیا اور کہا ہے کہ جب تک افغان سر زمین پر دہشت گردوں کے ٹھکانے اور ان کے تربیتی مراکز ختم نہیں ہوتے آپریشن جاری رہے گا ،ہمارا افغان انتظامیہ سے شروع سے مطالبہ رہاہے کہ اپنی سر زمین سے دہشت گردی کی سرگرمیوں کا قلع قمع کرے لیکن اس نے اپنی ذمہ داری سے انحراف کیا اور الٹا ان کی مذموم سرگرمیوں سے غفلت برتی جس بنا پر انہوں نے پاکستان پر حملہ کیااور سکیورٹی فورسز کو ٹارگٹ کیا اورپھر ہمیں مجبوراً ان کیخلاف آپریشن شروع کرنا پڑا۔یادرہے روس سمیت متعدد ممالک نے پاکستان سے آپریشن بند کرنے کی اپیل کی تھی اور دو طرفہ مذاکراتی آپشن بروئے کار لانے کا کہا تھا لہذا اس امر کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ آخر پاکستان کی جانب سے آپریشن کے اصل مقاصد کیا ہیں، افغان طالبان ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں کو روکنے کیلئے کیوں تیار نہیں اور یہ کہ فریقین کے درمیان مذاکراتی آپشن کیونکر نتیجہ خیز نہیں ہوا۔

پاکستان نے بارہا افغان طالبان رجیم کو شواہد فراہم کرکے اپنی سرزمین پاکستان کے کیخلاف استعمال ہونے سے روکنے کا کہا، افغان انتظامیہ نے سنجیدگی نہ دکھائی اور یہ سلسلہ جاری رہا تو پاکستان نے آپریشن شروع کردیااور واضح کیا کہ جب تک دہشت گردوں ٹھکانے ختم نہیں ہوتے یہ سلسلہ جاری رہے گا اور اب آپریشن روکنا مشکل نظر آتا ہے ۔دہشت گردوں کے قلع قمع کے حوالے سے پاکستان کا موقف خطے کے دوسرے ممالک خصوصاً بھارت کیلئے بھی پیغام ہے کہ پاکستان دہشت گردی کیخلاف عدم برداشت کی پالیسی اپنائے گا اور سرحدی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا ۔ ریاست نے واضح پیغام دیاہے کہ امن کیلئے یکطرفہ قربانی نہیں دی جا سکتی ،اب طالبان پر دباؤ ہے کہ اگر اس نے دہشت گردوں کیخلاف عمل اقدامات نہ کئے تو ان کیخلاف سرجیکل سٹرائیکس مستقل جاری رہ سکتی ہیں ۔

جہاں تک دوست ملکوں کی طرف سے آپریشن روکنے کی درخواست کا تعلق ہے تو پاکستان نے ہمیشہ ان تجاویز اور اپیلوں کو احترام دیاہے لیکن یہ تمام ممالک افغان انتظامیہ کی گارنٹی نہیں دیتے ،یقیناً دوست ممالک پاکستان سے مخلص ہیں اور پاکستان کو مستقل جنگ سے دوررکھنا چاہتے ہیں تاہم پاکستان اس بار پرعزم ہے کہ افغانستان سے دراندازی کا حل نکالناہے کیونکہ یہ ہماری سلامتی کا مسئلہ ہے ،ہم اپنے جوانوں اور عوام کو دہشت گردی کے رحم وکرم پرنہیں چھوڑ سکتے ۔پاکستان کاموقف بہت سادہ ہے کہ افغان طالبان یقین دہانی کرادیں کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی تو کشیدگی کم ہوسکتی ہے مگر وہ اس کیلئے تیار نہیں ،جس کی بڑی وجہ ان کی پشت پربھارت کا ہونا اور دیگر فورسزکے مقاصد ہیں جو پاکستان میں امن نہیں چاہتے ۔

ماہرین کا کہناہے کہ پاکستان اور طالبان کے درمیان اصل مسئلہ اعتماد کا فقدان ہے جب تک اعتماد بحال نہیں ہوتا ،سرحدی کشیدگی ختم نہیں ہوگی ،یہ وجہ ہے کہ پاکستان اب ارادہ کربیٹھا ہے کہ دہشت گردوں کا علاج عملاً ہی کرناپڑے گا ، یہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانیں گے ۔پاکستان جن دیگرمقاصد کے حصول کی بات کرتا ہے اس میں افغانستان میں موجود امریکی اسلحہ کا بندوبست بھی ہے جو دھشت گری میں استعمال ہورہاہے جس کے باعث پاکستان نے افغان سر زمین پر دھشت گردوں کے اڈوں کے ساتھ ساتھ اسلحہ کے مراکز بھی ٹارگٹ کررکھے ہیں اور دوست ممالک کو اعتماد میں لیتے ہوئے پاکستان نے بتایاہے کہ جدید اسلحہ سے ہاتھ دھونے تک دہشت گردوں کی عقل ٹھکانے نہیں آئے گی ،اس لئے افغان طالبا ن پر دباؤ بڑھایا جائے اور انہیں بتایاجائے کہ دہشت گردی افغانستان کے مستقبل کیلئے بھی خطرناک ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں