تیل کا عالمی بحران، قیمتیں آسمانوں پر، طیارے زمین پر، سٹاک مارکیٹس کریش : پاکستان میں معیشت کو مزید دبائو کا سامنا ہوسکتا : سٹیٹ بینک

تیل کا عالمی بحران، قیمتیں آسمانوں پر، طیارے زمین پر، سٹاک مارکیٹس کریش : پاکستان میں معیشت کو مزید دبائو کا سامنا ہوسکتا : سٹیٹ بینک

سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک نے تیل کی پیداوا ر کم کر دی ،عالمی منڈیوں میں ہلچل ، قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ،جنگ ختم ہونے پر بھی حالات سنبھلنے میں وقت لگے گا سٹاک مارکیٹس سرخ سمندر میں تبدیل ،ہر حصص غرق ،پاکستان میں تاریخ کی دوسری بڑی مندی ،کاروبار ایک گھنٹے کیلئے معطل ، فرق نہ پڑا سرمایہ کاروں کے11کھرب ڈوب گئے ٹیکس وصولی ہدف سے کم ، مہنگائی 7 فیصد سے اوپر رہنے کا امکان ،عالمی معاشی منظر نامہ غیر یقینی ، معیشت کو مزید دباؤ کا سامنا ہو سکتا :سٹیٹ بینک ، شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار

ریاض، لندن ، کراچی ( نیوز ایجنسیاں، بزنس رپورٹر ) دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی سعودی آرامکو نے مشرق وسطٰی جنگ اور آبنائے ہرمز بند ہونے کے باعث اپنے دو آئل فیلڈز میں تیل کی پیداوار کم کرنا شروع کر دی ہے ۔ کمپنی اپنے کچھ خام تیل کے کارگو ز کو بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع کی طرف منتقل کر رہی ہے ۔دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ کی جانب سے پیداوار میں یہ کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے میں رسد اور ترسیل کے شدید مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ سعودی عرب کے کئی پڑوسی ممالک نے بھی تیل اور گیس کی پیداوار کم کر دی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی تقریباً رک گئی ہے ۔ کویت پیٹرولیم کارپوریشن نے تیل کی پیداوار کم کر دی ہے اور ترسیل کے عالمی معاہدے معطل کر دئیے ہیں ۔ قطر نے بھی ڈرون حملوں کے بعد اپنے بڑے ایل این جی برآمدی مرکز راس لفان میں گیس کی پیداوار عارضی طور پر روک دی ۔عراق کے جنوبی بڑے آئل فیلڈز سے تیل کی پیداوار تقریباً 70 فیصد تک کم ہو گئی ہے کیونکہ ذخیرہ کرنے کی گنجائش پوری ہو چکی ہے۔

متحدہ عرب امارات کی کمپنی ایڈنوک نے سمندر میں واقع آئل فیلڈز سے پیداوار کم کر دی ہے ،جبکہ بحرین کی کمپنی باپکو انرجیز نے بھی کام بند کر دیا ہے ۔اس غیر معمولی صورتحال نے عالمی توانائی منڈیوں میں شدید ہلچل پیدا کر دی ہے اور برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر تقریباً 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے ، جو 2022 کے وسط کے بعد بلند ترین سطح ہے ۔ماہرین کے مطابق سعودی عرب نے مشرق سے مغرب جانے والی پائپ لائن کے ذریعے بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع تک خام تیل کی ترسیل تیز کر دی ہے ، تاہم خلیج میں راستے بند ہونے کے باعث جو لاکھوں بیرل تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے ، یہ متبادل راستہ اس کمی کو پورا کرنے کیلئے کافی نہیں۔اس صورتحال کے باعث دنیا بھر کے صارفین اور کاروباری اداروں کو کئی مہینوں تک مہنگے ایندھن کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ، کیونکہ اگر جنگ جلد ختم بھی ہو جائے تو سپلائرز کو تباہ شدہ انفراسٹرکچر اور مفلوج ترسیلی نظام جیسے مسائل سے نمٹنے میں وقت لگے گا۔

بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر آبنائے ہرمز مارچ کے آخر تک بند رہی تو خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہے ۔خلیجی ممالک سے آنے والی توانائی ایشیا میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہے ۔ابھی سے ایشیا میں امریکی گیس کی مانگ بڑھی ہے اور یورپ جانے والے بعض ٹینکروں نے اپنے رُخ موڑ لیے ہیں۔ادھر امریکا میں پیٹرول کے معاہدوں کی قیمت بھی بڑھ کر تقریباً 3اعشاریہ 22 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی، جو 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہے ۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی عوام کو یقین دلا رہے ہیں کہ مہنگائی پر اس کے اثرات محدود رہیں گے ۔دوسری جانب پیر کو توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور مشرقِ وسطٰی کی جنگ سے پیدا ہونے والے سپلائی مسائل کے باعث سٹاک مارکیٹس میں شدید گراوٹ دیکھی گئی، جس سے سرمایہ کاری میں غیر یقینی صورتحال اور مہنگائی کے خدشات بڑھ گئے۔

ٹریڈنگ گروپ XTB کی ریسرچ ڈائریکٹر کیتھلین بروکس نے کہاکہ سٹاک مارکیٹس آج ایک سرخ سمندر تھیں، جہاں ہر حصص غرق ہو رہا تھا۔ پاکستان جاپان، انڈیا، جنوبی کوریا اور دیگر ملکوں میں بھی سٹاک مارکیٹس میں مندی دیکھی گئی۔ سٹاک ایکسچینج کاروباری ہفتے کے پہلے روز تاریخ کی دوسری بڑی مندی کا شکار ہو گئی ۔دوران ٹریڈنگ بینچ مارک 100 انڈیکس کی 11 نفسیاتی سطحیں گرگئیں۔ تاریخی مندی کے سبب 80اعشاریہ 41 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ،جبکہ سرمایہ کاروں کے 10کھرب 97ارب روپے ڈوب گئے ۔ پی ایس ایکس میں 2مارچ 2026 کے بعد کاروبار کا آغاز 9ہزار 780 پوائنٹس یا 6اعشاریہ 21 فیصد کی بدترین مندی سے ہوا ،جبکہ کے ایس ای 30انڈیکس 6اعشاریہ 48فیصد کی مندی مسلسل پانچ منٹ تک برقرار رہنے کے سبب پی ایس ایکس انتظامیہ نے 9بجکر 22منٹ پر ایک بار پھر تجارتی سرگرمیوں کو ایک گھنٹے کیلئے معطل کردیا ،لیکن 10بجکر 27منٹ پر کاروبار کی بحالی کے بعد بھی مندی کا سلسلہ نہ رک سکا۔

ایک موقع پر 13376 پوائنٹس کی مندی بھی ہوئی ۔سٹاک سرمایہ کاروں کی جانب سے سرمایہ کاری کے مسلسل انخلاء یعنی حصص کی آف لوڈنگ سے مارکیٹ مسلسل تنزلی سے دوچار رہی ۔ماہرین کے مطابق امریکا ایران جنگ ،خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور نئی مانیٹری پالیسی میں شرح سود نہ گھٹنے کے خدشات مندی کی وجہ بنے ۔کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 11015اعشاریہ 95 پوائنٹس کی کمی سے 146480اعشاریہ 15پوائنٹس پر بند ہوا،اسی طرح کے ایس ای 30انڈیکس 3333اعشاریہ 70 پوائنٹس کی کمی سے 44996اعشاریہ 51 پوائنٹس، کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 5825اعشاریہ 86 پوائنٹس کی کمی سے 88401اعشاریہ 15 پوائنٹس اور کے ایم آئی 30 انڈیکس 14647اعشاریہ 92 پوائنٹس کی کمی سے 210039اعشاریہ 41 پوائنٹس پر بند ہوا۔ کاروباری حجم 71اعشاریہ 18فیصد زائد رہا ۔گزشتہ روز 62کروڑ 16لاکھ 53ہزار 341 حصص کے سودے ہوئے ۔ مجموعی طور پر 480 کمپنیوں کے حصص کاکاروبار ہوا، جس میں سے 33 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ، 386 میں کمی اور 61 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

ہانگ کانگ، فرینکفرٹ (رائٹرز) پیر کے روز ایئرلائن کمپنیوں کے حصص شدید طور پر گر گئے جبکہ فضائی بلند ہو گئے ، کیونکہ ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے باعث تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئی ہیں۔تیل کی بڑھتی قیمت نے فضائی ایندھن کے اخراجات بڑھا دئیے ہیں، جو ایئرلائنز کیلئے سب سے بڑا خرچ ہوتا ہے ۔ سرمایہ کار خدشہ رکھتے ہیں کہ زیادہ تر طیاروں کو زمین پر روکنا پڑ سکتا ہے ۔کچھ جیٹ فیول کی قیمتیں تنازع کے آغاز سے دوگنی ہو گئی ہیں، جس سے ایئر لائنز پر دباؤ بڑھ گیا ہے ، کیونکہ پائلٹ خطرناک علاقے سے بچنے کیلئے پروازیں نئے راستوں پر لے جا رہے ہیں اور ہزاروں مسافر خطے سے باہر جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔جرمن کمپنی ڈوئچے بینک کے تجزیہ کاروں نے اپنے صارفین کو بھیجے گئے نوٹ میں کہا کہ اگر مستقبل قریب میں کوئی ریلیف نہ ملا تو دنیا بھر کی ایئر لائنز کو ہزاروں طیارے زمین پر روکنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے ، جبکہ مالی طور پر سب سے کمزور کمپنیوں کو اپنے آپریشن بھی بند کرنے پڑ سکتے ہیں۔

ایشیا میں ایئرلائن کمپنیوں کے حصص شدید گراوٹ کا شکار ہوئے۔ سب سے زیادہ متاثر ہونے والی کمپنیوں میں شامل کورین ایئر لائنز کے حصص میں 8اعشاریہ 6 ، ایئر نیوزی لینڈ 7اعشاریہ8 اور ہانگ کانگ کی کیتھے پیسفک کے حصص میں 5 فیصد کمی دیکھی گئی۔مسافروں پر اثرات نمایاں ہوئے ، ٹکٹ کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا۔ مثال کے طور پر 11 مارچ کو سیول سے لندن کیلئے کورین ایئر لائنز کی براہِ راست پرواز کا کرایہ سات دن قبل کے 564 ڈالر سے بڑھ کر 4359 ڈالر ہو گیا ۔مورننگ اسٹار کی ایشیا میں ایکویٹی ریسرچ کی ڈائریکٹر لورین ٹان نے کہاکہ اب ایئرلائنز کیلئے مسئلہ یہ ہے کہ سفر کی مانگ کم ہو سکتی ہے کیونکہ قیمتیں عام سیاحوں کیلئے ناقابل برداشت ہو جائیں گی اور کچھ کمپنیاں غیر یقینی حالات کی وجہ سے کاروباری سفر محدود کرنا شروع کر دیں گی۔28 فروری سے ، جب امریکا اور اسرائیل کی ایران کیساتھ جنگ شروع ہوئی، 8 مارچ تک مشرق وسطٰی جانے یا آنے کی 37000 سے زیادہ پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں۔ فضائی راستے سخت محدود ہونے کی وجہ سے ایئرلائنز کو پروازیں نئے راستوں پر بھیجنا، اضافی ایندھن لے جانا یا اضافی ایندھن بھرنے کے سٹاپ کرنے پڑ رہے ہیں تاکہ اچانک رُخ بدلنے یا طویل محفوظ راستوں سے پرواز کے دوران مسائل سے بچا جا سکے ۔تین بڑی ایئرلائنز ایمریٹس، قطر ایئرویز اور اتحاد ایئرویز عام طور پر یورپ سے ایشیا جانے والے مسافروں کا تقریباً ایک تہائی اور یورپ سے آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور قریبی بحرِ الکاہل کے جزیروں کوجانے والے مسافروں کا آدھا حصہ لے جاتی ہیں ۔

کراچی(محمد حمزہ گیلانی)سٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد شرح سود 10اعشاریہ 5 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان کر دیا۔ گورنر سٹیٹ بینک نے پالیسی کمیٹی سے مشاورت کے بعد نئی مانیٹری پالیسی کااعلان کیا۔ مرکزی بینک کے مطابق حالیہ معاشی اشاریے مجموعی طور پر سابقہ تخمینوں کے مطابق ہیں، تاہم مشرق وسطٰی میں جاری جنگ نے عالمی معاشی منظرنامے کو غیر یقینی بنا دیا ہے ، جس کے ممکنہ اثرات پاکستان سمیت دنیا کی معیشتوں پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ مانیٹری پالیسی بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطٰی میں کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے ساتھ ساتھ فریٹ اور انشورنس اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ۔ اس صورتحال نے سرحد پار تجارت اور بین الاقوامی سفری سرگرمیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔

سٹیٹ بینک کے مطابق جنگ کی شدت اور اس کا دورانیہ پاکستان کی معیشت پر پڑنے والے اثرات کا تعین کرے گا۔ مرکزی بینک کے مطابق حالیہ مہینوں میں افراط زر میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔ جنوری 2026 میں مہنگائی کی شرح 5اعشاریہ 8 فیصد تھی، جو فروری میں بڑھ کر 7 فیصد تک پہنچ گئی۔ سٹیٹ بینک نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مالی سال 2026 کے باقی مہینوں اور مالی سال 2027 کے آغاز تک مہنگائی 7 فیصد سے اوپر رہنے کا امکان ہے ، جبکہ ایندھن کی قیمتوں میں کسی بڑے اضافے سے معیشت کو مزید دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے ۔

بیان کے مطابق مالیاتی محاذ پر کچھ بہتری ضرور آئی ہے ، تاہم جنوری اور فروری میں ٹیکس وصولی مقررہ ہدف سے کم رہی، جس کے باعث مجموعی شارٹ فال میں اضافہ ہوا ہے ۔ دوسری جانب مرکزی بینک نے نشاندہی کی ہے کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے عالمی سطح پر نئے ٹیرف کے نفاذ سے بین الاقوامی تجارت پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے ۔ سٹیٹ بینک کے مطابق حقیقی معیشت میں کچھ مثبت اشاریے سامنے آئے ہیں۔ جولائی سے حالیہ مہینوں کے دوران سیمنٹ کی مقامی فروخت اور گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ ہوا۔ جبکہ بجلی کی پیداوار اور پٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں بھی بہتری ریکارڈ کی گئی۔ ان رجحانات کے پیش نظر مرکزی بینک نے مالی سال 2026 میں ملکی شرح نمو 3اعشاریہ 75 فیصد سے 4اعشاریہ 75 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے ۔

دوسری جانب بیرونی شعبے کے حوالے سے سٹیٹ بینک نے بتایا کہ جنوری 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ 12 کروڑ 10 لاکھ ڈالر سرپلس رہا۔ اس دوران درآمدات میں کمی جبکہ برآمدات اور بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر مستحکم رہیں۔ مرکزی بینک نے یہ بھی واضح کیا کہ جون 2026 تک زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھا کر 18 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔ مانیٹری پالیسی بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومتی مالیاتی صورتحال میں مجموعی طور پر بہتری دیکھی گئی ہے ،جبکہ حکومت کے بینکوں سے قرض لینے میں کمی آئی ہے ۔ اس کے برعکس نجی شعبے کے قرضوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ، جو معاشی سرگرمیوں میں بتدریج بہتری کا اشارہ ہے ۔ سٹیٹ بینک نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر معاشی استحکام برقرار رکھنے کیلئے محتاط مالیاتی اور مالیاتی پالیسیوں کا تسلسل ضروری ہے تاکہ معیشت کو بیرونی جھٹکوں سے محفوظ رکھاجا سکے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں