قومی اسمبلی : اپوزیشن کا پٹرول قیمتوں میں اضافے، مہنگائی کیخلاف احتجاج : سپیکر ڈائس کا گھیرائو نعرے

قومی اسمبلی : اپوزیشن کا پٹرول قیمتوں میں اضافے، مہنگائی کیخلاف احتجاج : سپیکر ڈائس کا گھیرائو نعرے

اقبال آفریدی’وزیراعظم چور ہے ‘ کا پوسٹر ایوان میں لے آئے ، پٹرول مہنگا کرکے کس کو فائدہ پہنچایا ؟نوید قمر وفاقی دارالحکومت میں کرائم بڑھ رہا:عالیہ کامران، اسلام آباد میں بلدیاتی الیکشن الیکشن کرانے کو تیار ہیں:طلال

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، نامہ نگار)قومی اسمبلی میں پوزیشن ارکان نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے خلاف شدید احتجاج کیا۔اجلاس کے آغاز پر رکن اسمبلی اقبال آفریدی ‘‘وزیراعظم چورہے ’’ کے الفاظ پر مشتمل پوسٹر ایوان میں لے آئے ۔رکن قومی اسمبلی نور عالم خان نے وقفہ سوالات کے بجائے مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر فوری بحث کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آج ایوان میں مہنگائی اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر بات ہونی چاہیے ۔ اپوزیشن ارکان نے سپیکر ڈائس کاگھیرائو کرتے ہوئے پٹرول مہنگا ہونے کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ نور عالم خان نے بھی کچھ دیر احتجاج میں شرکت کی۔ ڈپٹی سپیکر سید غلام مصطفی شاہ کی زیر صدارت اجلاس ہوا، پیپلز پارٹی کے رہنما سید نوید قمر نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں صورتحال کے باعث آبنائے ہرمز میں نقل و حرکت تقریبا بند ہو گئی جس سے تیل کی سپلائی متاثر ہوئی اور عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ ہوا ۔

ایران پر ہر طرح کے بم گرائے جا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام میں ہے لیکن حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 55 روپے اضافہ کر دیا جبکہ آئی ایم ایف نے اتنا اضافہ کرنے کا نہیں کہا تھا۔اس اضافے سے اربوں روپے کا فائدہ کسی کو پہنچایا گیا ہے اور حکومت کو وضاحت دینی چاہیے کہ یہ فیصلہ کس کے فائدے کے لیے کیا گیا۔وزارت داخلہ نے کہا کہ وہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کرانے کیلئے تیار ہے تاہم اس کا فیصلہ الیکشن کمیشن اور پارلیمان نے کرنا ہے ۔ اس سے قبل قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے وزارت داخلہ کا براہ راست کوئی واسطہ نہیں، وزارت داخلہ اس حوالے سے صرف فیصلوں پر عملدرآمد کرتی ہے ، اگر ایوان اس حوالے سے قانون سازی کرتا ہے اور الیکشن کمیشن یہاں پر انتخابات کے انعقاد کا فیصلہ کرتا ہے تو وزارت داخلہ اس کے انعقاد کیلئے تیار ہے ۔

دوسری جانب رکن اسمبلی عالیہ کامران نے اسلام آباد میں بڑھتے ہوئے جرائم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دارالحکومت میں کرائم ریٹ مسلسل بڑھ رہا ہے ، جبکہ یہ دعویٰ ٰکیا جا رہا ہے کہ جرائم میں کمی آئی ہے ۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کرپشن کی بنیاد پر کتنے پولیس افسران کو ملازمت سے نکالا گیا۔وزیر مملکت طلال چو دھری نے ایوان کو بتایا کہ کرپشن موجود ہے لیکن حکومت کی پالیسی زیرو ٹالرنس کی ہے اور اس حوالے سے تمام ریکارڈ فراہم کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عورت مارچ میں مردوں کی تعداد زیادہ تھی اور شام کے وقت تمام افراد کو چھوڑ دیا گیا۔ وزارت داخلہ نے دستاویزات میں بتایا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران 108 جرائم پیشہ گروہوں کی نشاندہی کی گئی جبکہ 62 گروہوں کو گرفتار کیا گیا جن میں چوری اور ڈکیتی میں ملوث گروہ بھی شامل ہیں۔ حال ہی میں 353 سنگین واقعات سے نمٹا گیا جبکہ سیف سٹی کی نگرانی اور تفتیشی معاونت کے ذریعے 1633 مقدمات کو ٹریس کیا گیا۔اعداد و شمار کے مطابق 15 ہنگامی سروس کو مجموعی طور پر پندرہ لاکھ 78 ہزار 9 کالز موصول ہوئیں جن میں سے ایک لاکھ 9 ہزار 157 کالز میں فوری پولیس ردِعمل درکار تھا۔ وزارت داخلہ نے دستاویزات میں بتا یا گیا کہ کوہسار بلاک میں مجموعی طور پر 14 لفٹیں موجود ہیں جن میں سے 10 لفٹیں خراب ہیں۔ وقفہ سوالات کے دوران وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے کہا کہ افغانستان کے پاس جدید جنگی طیارے یا بم نہیں تاہم کم عمر لڑکوں کو استعمال کرتے ہوئے خودکش حملے کروائے جا رہے ہیں۔ وزیر مملکت برائے اوور سیز پاکستانیز عون ثقلین نے کہا ہے کہ ای او بی آئی کے ہر سال 160 ارب روپے جمع ہوتے ہیں جو انہی ملازمین کی فلاح وبہبود پر لگائے جاتے ہیں۔ بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس آج دو پہر بارہ بجے تک ملتوی کردیا گیا ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں