موجودہ صورتحال پر پارلیمنٹ کامشترکہ ان کیمرا اجلاس بلایا جائے :فضل الرحمن
عالم اسلام اس وقت کڑی آزمائش سے گزر رہا ، پاکستان کیلئے چاروں اطراف مشکلات ہی نظر آرہی ہیں مشکل حالات سے نکلنے کیلئے سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا،بہت سوچ بچار کی ضرورت ہے :سربراہ جے یو آئی
لاہور (سٹاف رپورٹر،این این آئی،مانیٹرنگ ڈیسک)جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی کے تعین اور بین الاقوامی حالات پر غور کیلئے ضروری ہے کہ حکومت پارلیمنٹ کا مشترکہ ان کیمرا اجلاس بلائے تاکہ پارلیمنٹ مستقبل کی پالیسیاں طے کرے ،عالم اسلام اس وقت ایک کڑی آزمائش سے گزر رہا ہے ، پاکستان کیلئے چاروں اطراف مشکلات ہی نظر آرہی ہیں ان حالات میں عالم اسلام کو ایک جگہ بیٹھ کر اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے ، پاکستان میں مشکل حالات سے نکلنے اور ایک بہترین لائحہ عمل طے کرنے کیلئے سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا تاکہ بہتری کی طرف بڑھ سکے۔
اس امر کا اظہار انہوں نے لاہور میں پارٹی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا محمد امجد خان اور پروفیسر عبدالماجد خان کی ہمشیرہ ، پروفیسر منظور الاسلام کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ مولانا فضل الرحمن نے مزید کہا کہ حالات کا تقاضا ہے کہ پوری ملت اسلامیہ کی قیادت سر جوڑ کے بیٹھے اور ازسر نو اپنے مستقبل کو طے کرے ،تاریخ نے ہمیں بہت کچھ سکھایا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آج ہم جن حالات سے دوچار ہیں، انڈیا کی طرف ہماری پوری سرحد اس وقت حالت جنگ میں ہے ،افغانستان کی طرف سے ہماری پوری مغربی سرحد جنگ کی طرف چلی گئی اور چین پاکستان کے لئے دلچسپی نہیں لے رہا اور اسے تحفظات ہیں ، ایران کی اپنے مشکلات ہیں۔
ان حالات میں ہم من حیث القوم اس بات کو سوچیں کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کیلئے انتہائی نازک وقت ہے کہ پاکستان بمقابلہ انڈیا ،پاکستان بمقابلہ افغانستان، پاکستان،ایران تعلقات، پاکستان سعودی عرب تعلقات اور پاکستان خلیجی تعلقات ہیں اس لئے نازک موقع پر بہت سوچ بچار کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ پر جو جارحیت اور دہشت گردی کی وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اب وہ خطے کے حالات کو خطرناک موڑ پر لے جا رہا ہے ،جنگیں روکنے کے دعویدار امریکا کی پالیسیاں پوری دنیا پر واضح ہو چکی ہیں ،پاکستان کے نزدیک بیت المقدس کی آزادی بہت اہم ہے ۔