اتحادی امریکا کا ساتھ چھوڑ گئے : جنگ میں شامل نہیں ہونگے : برطانیہ، آبنائے ہرمز تک نہیں جائینگے : یورپی پونین، جو کام خود نہیں کرسکتے اسکی ہم سے توقع کیوں؟ جرمنی، 25 سال آپکی حفاظت کی : ٹرمپ

اتحادی امریکا کا ساتھ چھوڑ گئے : جنگ میں شامل نہیں ہونگے : برطانیہ، آبنائے ہرمز تک نہیں جائینگے : یورپی پونین، جو کام خود نہیں کرسکتے اسکی ہم سے توقع کیوں؟ جرمنی، 25 سال آپکی حفاظت کی : ٹرمپ

آسٹریلیا،جاپان کابھی آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کیلئے جنگی بحری جہاز بھیجنے سے انکار،تنازع بڑھانے والا قدم نہیں اٹھائینگے :سپین ،صحیح راستہ سفارتکاری :اٹلی ،فوجی کارروائی کا حصہ نہیں بنیں گے :یونان اتحادیوں نے مدد نہ کی تو نیٹو کا انجام بہت برا ہوگا:امریکی صدر،آبنائے ہرمز صرف دشمنوں کیلئے بند :عباس عراقچی ،اسرائیل کے ایران پرنئے حملے ،یواے ای ،سعودی عرب کامزیدڈرونز روکنے کا دعویٰ

لندن (نیوز ایجنسیاں )کئی امریکی اتحادی ممالک نے پیر کے روز کہا کہ ان کا فی الحال آبنائے ہرمز کو کھولنے کیلئے اپنے جنگی جہاز بھیجنے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں ہے ،یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اہم سمندری راستے کو کھلا رکھنے کیلئے فوجی تعاون کی درخواست کی تھی، جسے ان ممالک نے مسترد کر دیا۔یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے مشرق وسطیٰ میں جاری بحری مشن کو مضبوط بنانے کی خواہش ظاہر کی، لیکن فی الحال اس مشن کو آبنائے ہرمز تک پھیلانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھا، یہ بات یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے کہی۔کالاس نے برسلز میں یورپی وزرائے خارجہ سے ملاقات کے بعد کہاہم چاہتے ہیں کہ یہ آپریشن مضبوط ہو لیکن اس وقت اس کے دائرہ کار میں کوئی توسیع نہیں کی جائے گی۔

برطانیہ کے وزیرِ اعظم سر کیئر سٹارمر کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی پہلی ترجیح خطے میں موجود اپنے شہریوں کی حفاظت ہے ۔انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ اب تک 92ہزار برطانوی شہریوں کو واپس لایا جا چکا ہے ، برطانیہ اس بڑی جنگ میں شامل نہیں ہو گا۔کیئر سٹارمر کا کہنا ہے کہ یہ تو واضح ہے کہ امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں ایرانی حکومت کی فوجی صلاحیتیں بہت کمزور ہوئی ہیں تاہم تنازع کے اختتام کے بعد ایران کو جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنے سے روکنے اور بین الاقوامی جہاز رانی کو محفوظ بنانے کیلئے کسی نہ کسی قسم کے معاہدے کی ضرورت ہو گی۔ان کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں استحکام کو یقینی بنانے کیلئے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی ضرورت ہے تاہم یہ کوئی آسان کام نہیں۔

سٹارمر نے کہا کہ برطانوی فوجیوں کی تعیناتی کا فیصلہ کرنا کسی بھی وزیر اعظم کیلئے سب سے مشکل کام ہے جبکہ برطانوی وزیر برائے ورکس اور پنشن کے پیٹ مِک فیڈن نے کہا کہ نیٹو کے دفاعی اتحاد کا قیام اس قسم کی صورت حال کو ذہن میں رکھ کر نہیں کیا گیا تھا جیسی ہم مشرق وسطیٰ میں دیکھ رہے ہیں۔ برطانیہ کے سابق چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل سر نک کارٹر نے کہا تھا کہ نیٹو ایسا اتحاد نہیں جس میں اتحادیوں میں سے کوئی ایک اپنی مرضی سے جنگ شروع کرے اور پھر باقی سب کو اس میں شامل ہونے پر مجبور کیا جائے ۔جب مِک فیڈن سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اس سے متفق ہیں، ان کا کہنا تھا کہ جنرل کارٹر ٹھیک کہہ رہے ہیں اور انہوں نے موجودہ تنازع کو نیٹو جنگ نہیں بلکہ امریکی اور اسرائیلی کارروائی قرار دیا۔جرمنی نے بھی بالکل واضح کر دیا ہے کہ وہ اہم سمندری راستے کو محفوظ بنانے کیلئے کسی فوجی کارروائی میں حصہ لینے کا ارادہ نہیں رکھتا۔جرمن وزیر خارجہ جوہان وڈیفول کا کہنا ہے کہ انہیں آبنائے ہرمز کی بندش سے نمٹنے میں نیٹو کا کوئی کردار نہیں دکھائی دیتا۔وہ برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل اظہار خیال کر رہے تھے۔

وڈیفل کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی غیر مستحکم صورت حال کے باوجود یورپ کی اولین سکیورٹی ترجیح یوکرین ہے ۔دوسری طرف برلن میں گفتگو کرتے ہوئے جرمنی کے وزیرِ دفاع بورس پسٹوریئس نے کہا کہ جرمنی اس اہم سمندری راستے کو محفوظ بنانے کیلئے کوئی فوجی مدد فراہم نہیں کرے گا۔انہوں نے سوال اٹھایاکہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ چند یورپی جنگی جہازوں سے ایسی کیا توقع رکھتے ہیں جو طاقتور امریکی بحریہ خود نہیں کر سکتی؟۔انہوں نے کہایہ ہماری جنگ نہیں ہے ، ہم نے اسے شروع نہیں کیا۔جرمن حکومت کے ترجمان سٹیفن کورنیلیئس نے کہا کہ اس تنازع کا شمالی اوقیانوس دفاعی اتحاد (نیٹو )سے کوئی تعلق نہیں ہے اور جرمنی اس میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔انہوں نے کہانہ امریکا اور نہ ہی اسرائیل نے جنگ شروع ہونے سے پہلے ہم سے مشورہ کیا تھا اور واشنگٹن نے جنگ کے آغاز ہی میں واضح کر دیا تھا کہ یورپی مدد نہ ضروری ہے اور نہ ہی مطلوب۔

دیگر یورپی ممالک نے بھی ایران کی جانب سے آبنائے میں جہاز رانی کو درپیش خطرات کے مقابلے کیلئے امریکی صدر کی مدد کی اپیل پر زیادہ جوش و خروش نہیں دکھایا۔ سپین نے کہا کہ وہ ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائے گا جس سے تنازع مزید بڑھ جائے ۔اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے کہا کہ اس بحران کو حل کرنے کا صحیح راستہ سفارت کاری ہے اور اٹلی اس وقت کسی ایسی بحری کارروائی میں شامل نہیں جسے اس علاقے تک بڑھایا جا سکے ۔ اٹلی کے نائب وزیر اعظم ماتّیو سالوینی نے کہا کہ جنگی علاقے میں فوجی جہاز بھیجنا دراصل اس جنگ میں شامل ہونے کے مترادف سمجھا جائے گا۔سالویِنی نے میلان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اٹلی کسی کے ساتھ جنگ میں نہیں ہے اور جنگی علاقے میں فوجی جہاز بھیجنے کا مطلب جنگ میں داخل ہونا ہوگا۔یونان کی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا کہ یونان اس آبنائے میں کسی فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لے گا۔آسٹریلیا اور جاپان نے بھی آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کیلئے اپنے جنگی بحری جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا ہے ۔

ڈ چ وزیرِ خارجہ ٹوم بیرینڈسن نے کہا کہ اگر شمالی اوقیانوس دفاعی اتحاد خلیج میں کسی مشن پر اتفاق کرتا بھی ہے تو اس کیلئے لائحہ عمل تیار کرنے میں وقت لگے گا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز دشمنوں کیلئے بند رہے گی، ایران نے جنگ بندی کی کوئی درخواست نہیں کی، امریکا کو کوئی پیغام یا مذاکرات کی بات نہیں کی۔عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہیں، امریکا سے مذاکرات کیوں کریں؟، جب تک ٹرمپ جنگ کو غیر قانونی نہیں مان لیتے ہم ڈٹے رہیں گے ۔ان کا کہناتھاکہ جنگ ختم ہونی چاہئے مگر دوبارہ نہ دہرائی جائے ، آبنائے ہرمز ہمارے نزدیک کھلی ہے ، آبنائے ہرمز سے گزرنے کیلئے متعدد ملکوں نے ہم سے رابطہ کیا،یہ صرف دشمنوں کیلئے بند ہے ۔دوسری طرف اسرائیل نے تہران سمیت ایران کے متعدد شہروں پر تازہ فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا جبکہ مشرقِ وسطٰی میں متحدہ عرب امارات اور قطر سمیت کئی ممالک نے ایرانی میزائلوں کو روکنے کے بھی دعوے کئے ہیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے تہران، شیراز اور تبریز میں وسیع پیمانے پر حملوں کا آغاز کیا ہے ،گزشتہ رات تہران کے مہر آباد ہوائی اڈے پر حملے کے دوران ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کے زیر استعمال طیارے کو تباہ کر دیا گیا ہے ،تہران میں ایک خلائی شعبے سے متعلق کمپاؤنڈ کو بھی نشانہ بنایا ہے ۔اسرائیل بھر میں گزشتہ روز بھی سائرن بجتے رہے کیونکہ شمال میں حزب اللہ اور جنوب میں ایرانی میزائل حملوں کا خطرہ تھا۔ قطر کا کہنا ہے کہ اس نے دن کے آغاز میں ہونے والے حملے کے بعد ایران سے داغے گئے میزائلوں کی دوسری لہر کو بھی روک لیا، جبکہ چار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں ۔ متحدہ عرب امارات میں ڈرون حملوں کے باعث فجیرہ میں تیل کے صنعتی علاقے اور ام القوین کی ایک عمارت میں آگ بھڑک اٹھی۔ حکام کے مطابق ابوظہبی میں ایک فلسطینی شہری اس وقت ہلاک ہوا جب ایک میزائل شہری علاقے میں آ گرا۔ عراق اور کویت نے بھی نئے حملوں کی اطلاع دی ہے ۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب اپنی سرزمین پر 60 سے زائد ڈرونز کو روکا ہے ۔سعودی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ ان تمام ڈرونز کو ملک کے مشرق میں روکا گیا۔ 

 واشنگٹن(اے ایف پی )صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز امریکی اتحادیوں پر تنقید کی کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی حفاظت کیلئے ان کی کال کے جواب میں گرمجوشی کا مظاہرہ نہیں کر رہے اور کہا کہ انہیں یقین ہے کہ فرانس اور برطانیہ کچھ حد تک ہچکچاتے ہوئے شامل ہوں گے ۔صدر نے وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران صحافیوں سے کہا کہ کئی ممالک(جن کے نام انہوں نے نہیں لئے )نے اس اہم آبی راستے کی حفاظت میں مدد کرنے کا وعدہ کیا ہے جو عالمی تیل کی تجارت کیلئے انتہائی اہم پوائنٹ ہے ، لیکن انہوں نے ان ممالک پر بھی تنقید کی جو جوشیلے نہیں ہیں۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں کے ساتھ فون کال کے بارے میں پوچھے جانے پر ٹرمپ نے کہاکہ انہیں دس میں سے آٹھ فیصد یقین ہے کہ میکخواں مدد کریں گے اور برطانیہ بھی آبنائے ہرمز کی مہم میں شامل ہوگاتاہم برطانوی وزیراعظم کیر سٹارمر کے بارے میں امریکی صدر سخت رہے ۔

ٹرمپ نے کہاکہ میں برطانیہ سے خوش نہیں ، مجھے لگتا ہے شاید وہ شامل ہوں گے لیکن انہیں جوش و خروش کے ساتھ شامل ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہامیں نے انہیں کہاکہ آپ ہمارے سب سے پرانے اتحادی ہیں اور ہم بہت پیسہ خرچ کرتے ہیں، نیٹو اور دیگر چیزوں میں تاکہ آپ کی حفاظت ہو،40 سال سے ہم آپ کی حفاظت کر رہے ہیں اور اب آپ ہمارے ساتھ شامل نہیں ہونا چاہتے ۔صدر ٹرمپ نے ایران کو کاغذی شیر قرار دیا اور نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہای کے بارے میں کہا کہ ہم نہیں جانتے کہ وہ زندہ ہے یا نہیں،ہم نہیں جانتے کہ ہم ایران مین کس سے نمٹ رہے ہیں،ہم نہیں جانتے کہ ان کا لیڈر کون ہے ۔ قبل ازیں فنانشل ٹائمز کو انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر امریکی اتحادیوں نے خلیج ہرمز کھولنے میں مدد نہ کی تو نیٹو کا انجام بہت برا ہوگا، جس طرح امریکا نے روس کے ساتھ جنگ میں یوکرین کی مدد کی ہے ، وہ توقع کرتے ہیں کہ یورپ بھی خلیج ہرمز میں مدد کرے ، جس کی بندش نے دنیا بھر میں توانائی کی قیمتوں کو بڑھا دیا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں