ایل این جی کا صرف وسط اپریل تک سٹاک، 30 مارچ کے بعد بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوسکتی : سیکرٹری پٹرولیم کی سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ

ایل این جی کا صرف وسط اپریل تک سٹاک، 30 مارچ کے بعد بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوسکتی : سیکرٹری پٹرولیم کی سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ

خام تیل 11 ،ڈیزل 21 ،پٹرول 27 اور ایل پی جی کے 9 دن کے ذخائر ،کفایت شعاری سے بچنے والے 23ارب سے موٹر سائیکل ،رکشہ رکھنے والوں کو سبسڈی ملے گی ایران سے آبنائے ہرمز سے تیل گزارنے کی اجازت مل گئی تو ہمارے 4جہاز کھڑے ،روسی تیل کیلئے بینکاری چینلز کی عدم دستیابی مسئلہ،مارچ کی پٹرولیم ضروریات محفوظ

اسلام آباد(نامہ نگار،نیوز ایجنسیاں ،مانیٹرنگ ڈیسک)سیکرٹری پٹرولیم نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کو آگاہ کیا کہ اس وقت پاکستان کے پاس ایل این جی کے ذخائر صرف اپریل کے وسط تک کیلئے موجود ہیں، 30 مارچ کے بعد بجلی کے شعبے کو ایل این جی کی فراہمی میں کمی کی جا سکتی ہے جس کے باعث ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے ۔ ایران سے آبنائے ہرمز سے تیل گزارنے کی اجازت کیلئے بات کر رہے ہیں۔آبنائے ہرمز سے اجازت مل جائے تو ہمارے چار جہاز کھڑے ہیں۔کمیٹی کا اجلاس چیئرمین منظور احمد کی زیر صدارت ہوا۔ سیکرٹری پٹرولیم نے بریفنگ میں بتایا کہ مشرق وسطٰی میں کشیدگی کے باعث پٹرولیم کی سپلائی متاثر ہوئی ہے ۔ 70 فیصد پٹرولیم مشرق وسطٰی سے آتا ہے ۔اس وقت جہازوں کی آمد و رفت بند ہے ۔

عرب ممالک سے تیل 4 سے 5 دنوں میں مل جاتا ہے۔ کوشش کر رہے ہیں کہ موجودہ ذخائر کو بڑھا دیا جائے ۔انہوں نے بتایا کہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 88 ڈالر سے بڑھ کر 187 ڈالر پر پہنچ گئی ہے جبکہ پٹرول کی قیمت 74 ڈالر سے بڑھ کر 130 ڈالر ہو گئی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اب یورو 5 معیار سے کم کوالٹی کے تیل کی درآمد کی اجازت دی گئی ہے ۔وزیر اعظم کی طرف سے قائم وزارتی کمیٹی روزانہ پٹرولیم مصنوعات کی صورتحال کا جائزہ لیتی ہے ۔پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے ، تاہم پٹرول کی دستیابی ملک بھر میں ہے ۔خام تیل کے ذخائر 11 دنوں کیلئے ہیں۔ڈیزل کے ذخائر 21 دنوں کیلئے کافی ہیں۔پٹرول ذخائر 27 دنوں کیلئے کافی ہیں جبکہ ایل پی جی کے 9 دن کے ذخائر دستیاب ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جیٹ فیول کے ذخائر 14 دنوں کیلئے موجود ہیں۔چیئرمین کمیٹی نے استفسار کیا کہ ملک میں 28 دنوں کے ذخائر موجود تھے تو ریٹ کیوں بڑھایا گیا۔

بتایا گیا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں بڑا اتار چڑھاؤ جاری ہے ۔ کمیٹی کو اوگرا حکام نے بتایا کہ ڈیزل کی عالمی قیمت 189 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے ،پٹرول کی قیمت عالمی مارکیٹ میں 130 ڈالر فی بیرل کے قریب ہے ،عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل 103 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا،دبئی خام تیل کی قیمت 146 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی جا رہی ہے ،عالمی کشیدگی کے باعث تیل کی مارکیٹ میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے ۔حکام نے بتایا کہ امریکی کارروائی کے بعد ایران سے متعلق عالمی خدشات میں اضافہ ہوا ہے ، ایران نے عالمی منڈی کو 200 ڈالر فی بیرل تیل کی وارننگ دی ہے ، عالمی توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے ۔کمیٹی کو سیکرٹری پٹرولیم نے بتایا کہ آبنائے ہرمز سے چار دن میں ہمارے تیل کے جہاز پہنچ رہے تھے ،ریڈ سی سے ہمیں تیل منگوانے پر 12 دن لگ رہے ہیں،سعودی عرب میں آئل ریفائنری پر حملہ ہوا تو پیداوار بند ہو سکتی ہے ،آئی ایم ایف کی شرط یہ ہے کہ کوئی سبسڈی نہیں دی جائے گی، ہفتہ وار بنیادوں پر پٹرولیم قیمتوں کو تعین کیا جائے گا۔

سیکرٹری پٹرولیم نے کہا حکومت نے کفایت شعاری پالیسی سے بچنے والی 23 ارب رقم کی سبسڈی دینے کا فیصلہ کیاہے ، جو موٹر سائیکل اور رکشہ رکھنے والوں کو فراہم کی جائے گی۔ 30 ملین ٹو ویلرز اور تھری ویلرز کو سبسڈی دی جائے گی۔رکن کمیٹی ہدایت اللہ نے کہا کہ 7 مارچ سے پہلے تیل کی قیمتیں کیا تھیں اور ٹیکسز کیا تھے ؟۔ سیکرٹری پٹرولیم نے بتایا کہ جنگ سے پہلے خام تیل کی قیمت 72 ڈالر تھی،جنگ کے دوسرے دن خام تیل کی قیمت 88 ڈالر فی بیرل پر چلی گئی،اس وقت خام تیل کی قیمت 115 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی ہے ، ڈیزل اور پٹرول کے 2 ٹینکر آئے ہوئے ہیں۔رکن کمیٹی سعدیہ عباسی نے کہا کہ روسی تیل اس وقت پوری دنیا خرید رہی ہے ۔ سیکرٹری کمیٹی نے بتایا کہ ہم بھی روس سے تیل کی خریداری کی کوشش کر رہے ہیں،اجلاس کو بتایا گیا کہ عالمی صورتحال کے باعث 11 مارچ سے ایک ماہ کیلئے پابندیوں میں نرمی کے بعد پاکستان کو روسی تیل خریدنے کی اجازت ملی ہے ، تاہم اس مقصد کیلئے بینکاری چینلز کی عدم دستیابی ایک مسئلہ ہے اور خریداری کے عمل میں تقریباً 35 سے 40 دن لگتے ہیں۔

مزید بتایا گیا کہ بڑے روسی آئل ٹینکرز پاکستانی بندرگاہوں پر براہ راست لنگر انداز نہیں ہو سکتے ، اس لیے تیل پہلے عمان منتقل کیا جاتا ہے اور پھر وہاں سے پاکستان لایا جاتا ہے ۔سیکرٹری پٹرولیم نے بتایا کہ ایران سے آبنائے ہرمز سے تیل گزارنے کی اجازت کیلئے بات کر رہے ہیں۔آبنائے ہرمز سے اجازت مل جائے تو ہمارے چار جہاز کھڑے ہیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان کے قطر کے ساتھ ایل این جی کے دو سپلائی معاہدے ہیں جن کے تحت ہر ماہ 9 ایل این جی کارگو موصول ہوتے ہیں، تاہم جاری جنگ کے باعث قطر نے فورس میجر کا نوٹس جاری کیا ہے جس کے نتیجے میں ایل این جی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے ۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ مارچ کے آغاز میں2ایل این جی کارگو پاکستان پہنچے جبکہ مزید 6کارگو جنگی صورتحال کے باعث نہیں پہنچ سکے ۔ اس وقت پاکستان کے پاس ایل این جی کے ذخائر صرف اپریل کے وسط تک کیلئے موجود ہیں۔ سیکرٹری پٹرولیم نے بتایا کہ 30 مارچ کے بعد بجلی کے شعبے کو ایل این جی کی فراہمی میں کمی کی جا سکتی ہے جس کے باعث ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے ۔آذربائیجان کی کمپنی سے ایل این جی خرید سکتے ہیں، تاہم سپاٹ خریداری 24 ڈالر تک ہو گی ،جبکہ قطر سے 9 ڈالر پر گیس ملے گی۔دریں اثنا وفاقی وزیر خزانہ و محصولات کی زیر صدارت پٹرول کی قیمتوں کی نگرانی کیلئے قائم کمیٹی کے اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک میں ایندھن کی دستیابی کے حوالے سے صورتحال تسلی بخش ہے اور مارچ کی ضروریات مکمل طور پر محفوظ بنائی گئی ہیں،موجودہ کارگو منصوبہ بندی اور سپلائی انتظامات کی بنیاد پر وسط اپریل تک کیلئے رسد دستیاب ہے اور اسے اپریل کے آخر تک بڑھانے کیلئے بھی اقدامات جاری ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں