پنجاب کابینہ : سرکاری افسر 2 دن کی تنخواہ کفایت فنڈ میں دینگے، عدلیہ کیلئے 10 گاڑیاں خریدنے کی منظوری
وزرااورمشیر2ماہ کی تنخواہ ،ارکان پنجاب اسمبلی تنخواہ اور الاؤنسزکا 25فیصد اداکرینگے ،وزیراعلیٰ کی زیرصدار ت پہلے ویڈیولنک اجلاس میں فیصلے سائبر سکیورٹی پراجیکٹ سکیم ، پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی میں بھرتیوں سمیت کئی منصوبوں کی منظوری ،صرف عوام کے مفادکا سوچتی ہوں:مریم نواز
لاہور (دنیانیوز)پنجاب حکومت نے باقاعدہ کفایت شعاری کا آغاز کردیا ، کفایت شعاری پروگرام کے تحت صوبائی کابینہ ارکان، معاونین خصوصی اور پارلیمانی سیکرٹریز نے دو ماہ کی تنخواہ وزیراعظم کفایت فنڈ میں دینے کا فیصلہ کیا، جبکہ پنجاب اسمبلی کے ارکان دو ماہ کی تنخواہ اور الاؤنسز کا 25 فیصد رضاکارانہ طور پر اس فنڈ میں دیں گے ۔ اسی طرح گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے تمام سرکاری افسران دو دن کی بنیادی تنخواہ کفایت فنڈ میں جمع کرائیں گے ۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیرصدارت گزشتہ روز پنجاب کابینہ کا پہلا ویڈیو لنک اجلاس ہوا ۔جس میں فضول خرچی ختم، اخراجات میں کٹوتی،دو ماہ تنخواہ بند،کفایت شعاری، ترقی اور عوامی سہولتوں میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیاگیاتاہم اس کے ساتھ ہی عدلیہ کیلئے 10 سرکاری گاڑیاں خریدنے کیلئے فنڈز کی منظوری بھی دی گئی جبکہ ابتدائی فیصلے میں نئی گاڑیوں کی خرید پر پابندی لگائی گئی تھی ۔
اجلاس میں رمضان نگہبان پیکیج کی کامیاب تکمیل پر اظہار تشکر کیا گیا ۔کابینہ نے ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران بروقت انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا ، وزیراعلیٰ کی جانب سے مظاہرین کو افطاری فراہم کرنے کے اقدام کو سراہا گیا۔ پنجاب کابینہ نے صوبہ بھر میں الیکٹرک بسوں کیلئے بس سٹاپ شیلٹرز کی تعمیر، اعلیٰ عدلیہ کیلئے 10 سرکاری گاڑیاں خریدنے ، قصور میں میاں نواز شریف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی کیلئے اراضی فراہم کرنے اور سرگودھا میں قائد اعظم انسٹی ٹیوٹ آف سائنسز کے چارٹر،راولپنڈی شہر کیلئے واٹر ڈسٹری بیوشن سسٹم اور چرڑ ڈیم کی تعمیر، سائبر سکیورٹی پراجیکٹ، کندیاں میں سپورٹس کمپلیکس اور متعدد ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی ۔ مریم نواز نے ستھرا پنجاب کے تحت واجبات کی یکمشت وصولی روکنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ہر فیصلہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا،پنجاب حکومت خود کفایت شعاری کرے گی اور وسائل عوام کی ترقی پر خرچ کرے گی۔
ان کاکہناتھاکہ میں صرف اور صرف عوام کے مفاد بارے ہی سوچتی ہوں، عوامی مفادات کے برعکس کوئی اقدام قابل قبول نہیں۔کابینہ نے پیف ٹک کیلئے 137 نئی اسامیوں، اے آئی ہب کے قیام، نشتر پارک اور میاں میر سپورٹس کمپلیکس میں سکواش کورٹس پاکستان سکواش اکیڈمی کو فری کوچنگ کیلئے دینے ، مری میں خصوصی بچوں کیلئے جدید سکول کی تعمیر اور مریم نواز سکول اینڈ ریسورس سنٹر برائے آٹزم لاہور میں بھرتیوں پر عائد پابندی میں نرمی کی منظوری بھی دی۔ سپیشل ایجوکیشن اداروں میں سکول ٹیچنگ انٹرنز کی بھرتی، پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی، پنجاب انرجی ہولڈنگ کمپنی اور ویمن جیلوں میں نئی اسامیوں کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں جرائم کے شواہد کے تحفظ کیلئے کرائم سین یونٹ پی ایف ایس اے رولز 2025 کی منظوری، سپیشلسٹ ڈاکٹرز کی تین سالہ کنٹریکٹ تعیناتی کیلئے عمر کی حد 65 سال تک بڑھانے ، پنجاب پروونشل کوآپریٹو بینک میں سرکاری فنڈ اکاؤنٹس کھولنے اور پنجاب ایلیٹ پولیس ٹریننگ سکول میں ایس ایس جی ٹرینرز کی خدمات حاصل کرنے ،قصور کے سرحدی علاقوں میں دفاعی بند کی تعمیر و مرمت، سیلابی پانی سے بچاؤ کیلئے بندوں کی تعمیر اور شیخ زید ٹیچنگ ہسپتال رحیم یار خان کی تکمیل کے منصوبے بھی منظور کئے گئے ۔
پنجاب کابینہ نے مختلف قانونی ترامیم اور پالیسی اقدامات کی بھی منظوری دی جن میں پنجاب پروکیورمنٹ رولز 2024 میں آن لائن بڈ جمع کرانے کی ترمیم، پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی ایکٹ 2024، پنجاب انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن ایجنسی ایکٹ 2025 اور دیگر قوانین میں ترامیم شامل ہیں۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے ٹیکنیکل سٹاف کے سروس رولز، ای آکشن کے ذریعے پرکشش گاڑی نمبرز کی نیلامی، صوبہ بھر میں روڈ سائیڈ لینئر پلانٹیشن، اور انسداد دہشت گردی عدالت بہاولپور میں جج کی تعیناتی ،پراونشنل انٹیلی جنس اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سنٹر کے قیام، پنجاب پاور پلانٹ جھنگ کے ای پی سی کنٹریکٹر کے تصفیہ، قائد اعظم تھرمل پاور کمپنی کے بورڈ میں نئے ارکان کی شمولیت اور پنجاب انوائرمنٹ اینڈ کلائمیٹ چینج انڈومنٹ فنڈ کمپنی کے ڈائریکٹرز کیلئے اعزازیہ مقرر کرنے ،ارفع سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک کے قرض کی ادائیگی کے شیڈول، تونسہ ہائیڈرو پراجیکٹ کی فزیبلٹی، دریائے جہلم سے مری واٹر سپلائی سکیم کے مسائل کے حل اور متعدد ترقیاتی سکیموں میں ترامیم بھی منظور کرلی گئیں۔
پنجاب لوکل گورنمنٹ الیکشن رولز 2026، پنجاب فلم ڈویلپمنٹ ایکٹ 2025، پنجاب ٹرسٹ ایکٹ 2020 میں ترامیم، مین ہول کور پروٹیکشن ایکٹ 2026 اور دیگر قوانین کی منظوری بھی دی گئی۔ بسنت 2026 کے انعقاد کیلئے فنڈز کے اجرا، میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کی داخلہ پالیسی 2026، یونین کونسلوں کی نئی حد بندی، شہدا و غازیوں کے اہل خانہ کو 11 ہزار 700 ایکڑ زرعی اراضی دینے اور اپنی چھت اپنا گھر پروگرام ،ہنگامی مالی امداد کیلئے ’’مریم کو بتائیں‘‘ہیلپ لائن 1000، یونیورسٹی آف آرٹیفشل انٹیلی جنس اینڈ ایمرجنگ سائنسز کے قیام، کرسچن کمیونٹی کی مالی معاونت، واٹر اینڈ سینی ٹیشن اداروں کو مشینری فراہم کرنے ، متعدد تعیناتیوں و ترقیاتی منصوبوں کی منظوری کیساتھ ساتھ مختلف سالانہ رپورٹس پیش ہونے کے بعد گزشتہ اجلاسوں کی کارروائی کی توثیق بھی کر دی گئی جبکہ امن و امان کی کیبنٹ سٹینڈنگ کمیٹی میں صوبائی وزیر بلال یاسین کی شمولیت کی منظوری بھی دی گئی۔