رحیم یار خان:خواتین کی ہلاکت کا ذمہ دار ایجنٹ قرار،لواحقین کیلئے فی کس10لاکھ امداد کا اعلان

رحیم  یار  خان:خواتین کی ہلاکت  کا  ذمہ  دار  ایجنٹ  قرار،لواحقین  کیلئے  فی  کس10لاکھ امداد  کا  اعلان

ایجنٹ نے جان بوجھ کر دکان کی پہلی منزل پر کیش تقسیم کا انتظام کیا ،چھت ناقص تعمیر کے باعث گری :انکوائری رپورٹ جاری آئندہ سے ادائیگیاں ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے کی جائیں گی :سینیٹر روبینہ خالد ،زخمیوں کی عیادت، جاں بحق ہونیوالوں کے گھر بھی گئیں

رحیم یار خان (ڈسٹرکٹ رپورٹر )مالی امداد کی تقسیم کے دوران جاں بحق ہونیوالی خواتین کے لواحقین کیلئے چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے فی کس 10لاکھ روپے امداد کا اعلان کردیا ، افسوسناک واقعہ کی انکوائری رپورٹ جاری کر دی گئی،چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والی خواتین کے لواحقین کو فی کس 10 لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کو فی کس 3 لاکھ روپے فراہم کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے   کہا کہ زخمی خواتین کا علاج بالکل مفت کیا جائے گا اور متاثرہ خاندانوں کے بچوں کے تعلیمی وظائف بھی جاری رہیں گے ۔ سینیٹر روبینہ خالد نے بتایا کہ پُرانے ادائیگی نظام کے تحت یہ آخری قسط ادا کی گئی تھی۔ صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی ہدایات کے مطابق آئندہ سہ ماہی سے ادائیگیاں ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے کی جائیں گی، بعد ازاں سینیٹر روبینہ خالد انور مائی چک 123’ پروین بی بی چک 123’ شہناز خاتون چک 125 اور علیمہ خاتون چک 114 کے گھر بھی گئیں،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر(جنرل) ملک فاروق احمد کی سربراہی میں بنائی گئی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق واقعہ کی بنیادی وجوہات میں انتظامی غفلت، ناقص منصوبہ بندی اور غیر مؤثر نگرانی شامل ہیں۔

جبکہ زخمی افراد کے ویڈیو بیانات سے معلوم ہوا کہ متعلقہ ایجنٹ نے جان بوجھ کر دکان کی پہلی منزل پر کیش تقسیم کا انتظام کیا امداد میں کٹوتی کے باعث شدید بدنظمی پیدا ہوئی ،بیٹھنے اور دیگر سہولیات کا کوئی مناسب انتظام نہیں کیا گیا ،عمارت کی چھت ناقص تعمیر کے باعث گری کیونکہ اسے محض ایک گارڈر اور ٹی آئرن کا سہارا دیا گیا تھاجو بوجھ برداشت کرنے کے لیے ناکافی تھا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ صادق آباد اور رحیم یار خان میں مانیٹرنگ افسروں کی اسامیاں خالی تھیں جبکہ ریٹیلر نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی۔ بی آئی ایس پی کے ڈپٹی ڈائریکٹر کی جانب سے مکمل تعاون، انتظامی گرفت کا فقدان تھا۔ مزید برآں مائیکرو فنانس بینک کی جانب سے حفاظتی اقدامات کے حوالے سے کوئی واضح ہدایات جاری نہیں کی گئیں جبکہ نجی ایجنٹ واقعے کے بعد موقع سے فرار ہو گیا۔انکوائری کمیٹی نے اپنی سفارشات دیتے ہوئے کہا ہے کہ امداد کی تقسیم کے لیے کھلی اور محفوظ جگہوں کو ترجیح دی جائے تاکہ رش اور بھگدڑ سے بچا جا سکے جبکہ کارڈ سسٹم کے ذریعے ادائیگی کو فروغ دینے ، مؤثر ہجوم کنٹرول پلان تشکیل دینے اور ہنگامی سہولیات جیسے ایمبولینس اور فرسٹ ایڈ کی فراہمی کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے ۔کمیٹی نے مزید کہا ہے کہ ذمہ دار افسروں اور متعلقہ ایجنٹ کے خلاف محکمانہ اور فوجداری کارروائی عمل میں لائی جائے اور آئندہ ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے واضح گائیڈ لائنز جاری کی جائیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں