مذہبی جذبات سے تشدد بھڑکانے نہیں دینگے : کسی دوسرے ملک کے واقعات پر پاکستان میں تشدد ہرگز برداشت نہیں : فیلڈ مارشل
افغان طالبان اپنی سرزمین کا پاکستان کیخلاف استعمال روکیں، دہشتگرد کہیں بھی ہوں ان کیخلاف کارروائیاں کی جائینگی،اتحاد مضبوط بنا کرانتہاپسندی کا مقابلہ کریں:عاصم منیر ،اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علما سے گفتگو 5جی سروسز کا آغاز، لائسنس جاری،نیلامی انتہائی شفاف،یہ جدید ٹیکنالوجی پاک چین دوستی کی اہم جھلک :شہبازشریف، شاہ اردن، ترک صدر سے ٹیلیفونک رابطہ، خطے کی صورتحال پر گفتگو،عید کی مبارکباد
راولپنڈی(خصوصی نیوزرپورٹر،دنیا نیوز،نیوز ایجنسیاں)فیلڈ مارشل سید عاصم منیرنے کہا بیرون ملک واقعات پر پاکستان میں تشدد ناقابلِ برداشت، مذہبی جذبات سے تشددبھڑکانے نہیں دیں گے ،علمائے کرام اتحاد کو مضبوط بنائیں اور انتہاپسندی کا مقابلہ کریں۔ دہشت گردوں اور ان کے ڈھانچے کے خاتمے کیلئے درست اور انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کی جائیں گی ۔ پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیرسے اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علمائے کرام نے ملاقات کی، جس میں قومی سلامتی اور معاشرتی ہم آہنگی میں علمائے کرام کے کردار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔فیلڈ مارشل نے اتحاد، برداشت اور قومی یکجہتی کے فروغ خصوصامس انفارمیشن، فرقہ وارانہ بیانیے اور بیرونی سرپرستی میں ہونے والی عدم استحکام کی کوششوں کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے علمائے کرام کے اہم کردار پر زور دیا۔
آپریشن غضب لِلحق کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اپنی سرزمین کے خلاف دہشت گردی کیلئے افغان سرزمین کے استعمال کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا، دہشت گردوں اور ان کے ڈھانچے کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چاہے وہ کہیں بھی موجود ہوں، اور اس کے لیے درست اور انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کی جائیں گی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ افغان طالبان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال ہونے سے روکیں۔فیلڈ مارشل نے شرکا کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان کی کوششوں اور فعال سفارتکاری سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے علمائے کرام کے اہم کردار پر زور دیا کہ وہ اتحاد کو مضبوط کریں اور انتہاپسندی کا مقابلہ کریں اور اس بات کا اعادہ کیا کہ مذہبی جذبات کو ملک میں تشدد بھڑکانے کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔
کسی دوسرے ملک میں پیش آنے والے واقعات کی بنیاد پر پاکستان میں تشدد ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔علمائے کرام نے امن و استحکام کی خواہش کا اظہار کیا اور مذہب کے نام پر تشدد کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھرپور حمایت کا یقین دلایا۔مولانا زاہد عباس کاظمی نے کہا وحدت علمائے اسلام کے چیئرمین کی حیثیت سے ہم اپنے ادارے پاکستان آرمی کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ ہم آپ کے شانہ بشانہ ہر محاذ پر کھڑے ہیں، گلگت بلتستان میں فوجی املاک کو نقصان پہنچانے کی شدید مذمت کرتے ہیں، ایسے عناصر سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔علامہ شبیر حسن میثمی نے کہا پاکستان ہمارا ملک ہے ، ہم ہر قسم کی داخلی و خارجی سازشوں کے خلاف ثابت قدمی سے ملک کے ساتھ کھڑے ہیں۔علامہ عارف واحدی نے کہا پوری قوم افغانستان کی بلااشتعال جارحیت پر پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
مولانا الطاف حسین نے کہا ہم نے اپنے مرکز میں فیصلہ کیا ہے کہ ہر گاؤں سے 20 افراد محاذ پر افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ لڑیں گے ۔علامہ مرزا علی نے نوجوانوں کو پیغام دیا کہ وہ کسی بھی ریاست مخالف سرگرمی کا حصہ ہرگز نہ بنیں اور ملکی استحکام کیلئے مثبت کردار ادا کریں۔علامہ ناظر عباس نقوی نے کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں ملوث ہیں۔علامہ توقیر عباس نے کہا کہ پاکستان ہمارا ملک ہے اور اس کی سالمیت کیلئے ہم افواج پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔علامہ محمد حسین نجفی نے کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ مسلمان اور اسلام محفوظ رہیں تو پاکستان کو کبھی کمزور نہ ہونے دینا۔مولانا بشارت امامی نے کہا کہ ہم دفاع وطن کیلئے لازوال قربانیاں دینے والے شہدائاوران کے لواحقین کوخراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
اسلام آباد(نامہ نگار،دنیا نیوز )وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت اجلاس میں حکومت نے پٹرول،ڈیزل کی بچت کی اپیل کرتے ہوئے کہا عوام غیر ضروری سفر سے گریز کریں، کار پولنگ اپنائیں، شہباز شریف نے کہا حالات کی بہتری تک تمام متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں۔بچت اور کفایت شعاری کی پالیسی اپنانے کے نتیجے میں عوام کو ریلیف مہیا کرنا ممکن ہوا۔ خطے کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات کے نفاذ پر جائزہ اجلاس میں ملکی موجودہ ذخائر، کھپت اور کارگوز پر بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے پٹرولیم مصنوعات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے اور مزید بھی انتظام کیا جا رہا ہے ۔وزیراعظم کے بر وقت عملی اقدامات اور ہدایات جاری کرنے سے ایندھن کے ذخائر کے حوالے سے انتظامات کیے جا سکے۔
مشرق وسطیٰ اور خطے کی غیر مستحکم صورتحال کے پیش نظر ایندھن کی ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے ، اس سے نمٹنے کے لیے آئندہ دنوں میں بچت کے مزید اقدامات اٹھانے ہونگے ۔وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ صوبوں کے ساتھ مل کر ایک جامع لائحہ عمل مرتب کیا جائے تاکہ ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے .اجلاس کو کفایت شعاری اور بچت کے اقدامات پر عملدرآمد کی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے ، انٹیلی جنس بیورو کی جانب سے نگرانی بھی کی جا رہی ہے ۔اشرافیہ آگے بڑھ کر ایثار اور قربانی کے جذبے کو اپناتے ہوئے بچت اور کفایت شعاری کی مثال قائم کرے ۔ حکومت نے عوام سے پٹرول اور ڈیزل کی بچت کے اقدامات کو اپنانے کی بھی اپیل، تاکہ آئندہ دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کی دستیابی متاثر ہونے کے خطرے سے بچا جا سکے ۔اجلاس کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا ہو گا اور بدلتے حالات کے مطابق طرز عمل اپنانا ہو گا۔ پٹرول بچانے کیلئے کار پولنگ اپنائی جائے ، نقل و حرکت اجتماعی طور پر کی جائے ۔
غیر ضروری سفر سے اجتناب کیا جائے اور تیل بچانے کے لیے آمد و رفت کو محدود رکھا جائے ۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ تمام صورتحال کی نگرانی کی جارہی ہے ، اور پٹرولیم مصنوعات کا ریکارڈ رکھا جارہا ہے ، تاکہ کسی قسم کی بے قاعدگی کی فوری نشاندہی ہوسکے اور سد باب کیلئے اقدامات اٹھائے جا سکیں ۔اجلاس میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک ، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر خزانہ اورنگزیب، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ ، وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک ، وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسروں نے شرکت کی۔دریں اثنا ملک بھر میں فائیو جی سروس کا باضابطہ آغاز ہوگیا ، پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے )نے 3 بڑی کمپنیوں کو لائسنس جاری کردئیے ہیں۔
لائسنس کے اجرا کے بعد تینوں کمپنیاں ملک میں باقاعدہ طور پر 5 جی سروسز کا آغاز کر سکیں گی جس سے صارفین کو تیز رفتار انٹرنیٹ اور جدید ڈیجیٹل سہولیات میسر آئیں گی اور ڈیجیٹل سروسز، کاروبار اور آن لائن معیشت کو فروغ ملے گا۔فائیو-جی سپیکٹرم کے لائسنسوں کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا جدید ٹیکنالوجی کا فروغ صنعت،زراعت اور آئی ٹی کے شعبوں میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ،فائیو جی سپیکٹرم لائسنس کی نیلامی انتہائی شفاف انداز میں کی گئی ہے ، چین اور پاکستان کی دوستی منفرد ہے ،دوستی کی ایک اہم جھلک یہ جدید ٹیکنالوجی ہے ، نوجوان اے آئی سمیت جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا کر آئی ٹی شعبے میں ملک کا نام روشن کریں گے ۔علاوہ ازیں وزیراعظم نے اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے عید کی مبارکباد دی اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
شہباز شریف نے اردن پر حملوں کی شدید مذمت کی اور مشکل وقت میں پاکستان کا اردن کے عوام سے اظہار یکجہتی کیا ، وزیراعظم نے کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیا ۔ اس دوران پاکستان اور اردن کے درمیان برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا، تجارت، سرمایہ کاری اور دفاع کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ اور علاقائی امور پر رابطے میں رہنے کا فیصلہ کیا ۔شہباز شریف نے ترکیہ پر میزائل حملوں کی بھی مذمت کی اور کہا پوری پاکستانی قوم ان مشکل حالات میں اپنے ترک بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑی ہے ۔دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ علاقائی صورتحال کا حل صرف مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ دونوں رہنماؤں نے افغانستان کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔وزیراعظم نے عارضی جنگ بندی کے حوالے سے ترکیہ کے تعمیری کردار کا اعتراف کیا ۔ مزید برآں شہباز شریف سے چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر ڈاکٹر روبینہ خالد نے ملاقات کی ،انہوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حوالے سے وزیراعظم کو آگاہ کیا اور مستحقین میں رمضان پیکیج کی تقسیم میں پیشرفت کے متعلق بھی بتایا۔