پاکستان کی امریکا،ایران میں مذاکرات کی کوششیں جاری
سعودی عرب نے جوابی کارروائی کی تو مذاکرات ختم ، صورتحال انتہائی نازک :ذرائع
اسلام آباد (رائٹرز )پاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کروانے کی کوششیں جاری ہیں۔ دو پاکستانی ذرائع نے بتایا ہے کہ پسِ پردہ سفارتی رابطے تیز ہو گئے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے ۔تاہم ایک سینئر سکیورٹی اہلکار نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی جانب سے رات کے وقت سعودی عرب کی صنعتی تنصیبات پر کیے گئے حملے ، جو امریکی کمپنیوں سے منسلک تھیں، ان مذاکراتی کوششوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ان حملوں کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے اور سفارتی پیش رفت خطرے میں پڑ سکتی ہے ۔ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو خطے میں بڑے تصادم کا خدشہ بڑھ سکتا ہے ، جبکہ پاکستان کی ثالثی کی کوششیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔اگر سعودی عرب نے جوابی کارروائی کی تو مذاکرات ختم ہو سکتے ہیں، ذریعے نے خبردار کیا، اور کہا کہ ایسی صورت میں پاکستان بھی اس تنازع میں شامل ہو سکتا ہے کیونکہ ریاض کے ساتھ اس کے دفاعی معاہدے کے تحت جنگ کی صورت میں دونوں ممالک ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے پابند ہیں۔مذاکرات سے باخبر دوسرے ذریعے نے کہا کہ ایران اس وقت "انتہائی نازک صورتحال" میں ہے اور اگلے چند گھنٹے مذاکرات کے مستقبل کے لیے نہایت اہم ہیں۔پاکستان دونوں ممالک کے درمیان تجاویز کے تبادلے میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے ، تاہم اب تک کسی سمجھوتے کے آثار نظر نہیں آئے ۔ایک پاکستانی سکیورٹی ذریعے کے مطابق:"ہم ایرانی حکام سے رابطے میں ہیں۔ حالیہ دنوں میں انہوں نے کچھ لچک دکھائی ہے اور وہ مذاکرات میں شامل ہونے پر آمادہ ہو سکتے ہیں، لیکن ساتھ ہی وہ مذاکرات سے پہلے سخت شرائط بھی پیش کر رہے ہیں۔"ذرائع کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد تہران کو بغیر کسی پیشگی شرط کے مذاکرات میں شامل ہونے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے پیر کے روز کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ثالثوں کے ذریعے اب بھی پیغامات کا تبادلہ جاری ہے ۔