ٹرمپ کا ایران کیساتھ معاہدے پر دستخط کیلئے اسلام آباد آنے کا اعلان
ایران تمام باتیں مان چکا ، اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو حوالے کرنے پر بھی تیار ،جنگ بندی کو بڑھایا جاسکتا ، ممکن ہے کہ اس کی ضرورت ہی پیش نہ آئے ،فیلڈمارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہبا ز شریف نے زبر دست کام کیا لبنان، اسرائیل میں 10روز ہ جنگ بندی ،اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ، لبنانی صدر جوزف عون معنی خیز بات چیت کیلئے وائٹ ہاؤس مدعو ،دونوں امن چاہتے ، یہ جلد ہوجائیگا، 10جنگیں رکوادیں،پوپ لیو سے ملاقات ضروری نہیں:امریکی صدر
واشنگٹن (رائٹرز ، اے ایف پی )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کیلئے کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے اور اسے اسلام آباد میں دستخط کیا جاتا ہے تو وہ ممکنہ طور پر خود بھی وہاں جا سکتے ہیں، اور ان کے مطابق ایران تقریباً تمام نکات پر رضامند ہو چکا ہے ۔وائٹ ہاؤس کے لان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ، روانگی سے قبل انہوں نے ایران کے حوالے سے ایک پرامید لہجہ اختیار کیا۔ وہ اس موقع پر نیواڈا اور ایریزونا کے دورے پر جا رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی، جو اگلے ہفتے ختم ہونے والی ہے ، کو بڑھایا جا سکتا ہے ، تاہم ممکن ہے کہ اس کی ضرورت ہی پیش نہ آئے ۔امریکی صدر نے کہا کہ ایران نے اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو حوالے کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان چھ ہفتوں سے جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک معاہدہ قریب ہے۔
انہوں نے کہا: انہوں نے ہمیں ’نیوکلیئر ڈسٹ‘ واپس دینے پر اتفاق کیا ہے، یہ اصطلاح وہ افزودہ یورینیم کے لیے استعمال کر رہے تھے ، جس کے بارے میں امریکا کا کہنا ہے کہ اسے جوہری ہتھیار بنانے میں استعمال کیا جا سکتا ہے ۔انہوں نے مزید کہا: اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ ہم ایک معاہدہ کرنے جا رہے ہیں جبکہ اگلی ملاقات رواں ہفتے کے آخر میں متوقع ہے ۔مذاکرات کیلئے فیلڈمارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہبا ز شریف نے زبر دست کام کیا ۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہو سکا تو دوبارہ جنگ چھڑنے کا خدشہ موجود ہے ، تاہم وہ امید رکھتے ہیں کہ بات چیت کامیاب ہوگی۔صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی نیوی اور فضائیہ ختم ہوچکی ہے اور ہم ایران کو اچھے طریقے سے ڈیل کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں نیچے آ رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ ان کے خیال میں پوپ لیو سے ملاقات ضروری نہیں، البتہ یہ اہم ہے کہ پوپ لیو اس بات کو سمجھیں کہ ایران عالمی سطح پر ایک خطرہ بن چکا ہے ۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان ، اسرائیل میں 10روز ہ جنگ بندی کا اعلان بھی کردیا،ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا میری لبنان کے صدر جوزف عون اور اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ شاندار گفتگو ہوئی اور یہ دونوں ممالک امن کے حصول کیلئے 10 دن کی جنگ بندی پر اتفاق کر چکے ہیں جوکہ امریکی مشرقی وقت کے مطابق شام پانچ بجے سے نافذ ہوگی،انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ ان کیلئے اعزاز کی بات ہے کہ وہ اب تک 9 جنگیں ختم کرواچکے ہیں اوریہ 10ویں ہوگی۔اپنی ایک اور پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ نیتن یاہو اور جوزف عون کو اسرائیل اور لبنان کے درمیان ‘معنی خیز بات چیت’ کیلئے وائٹ ہاؤس مدعو کریں گے اور یہ دونوں ممالک کے درمیان 1983 کے بعد پہلے مذاکرات ہوں گے ۔دونوں فریق امن چاہتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ جلد ہی ہو جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی میں حزب اللہ بھی شامل ہوگی۔
ادھر دوسری جانب امریکی محکمۂ خارجہ نے جنگ بندی کے معاہدے کا متن بھی جاری کر دیا جس کے مطابق اسرائیل اور لبنان جمعرات کو شام 5 بجے (پاکستانی وقت کے مطابق رات 2 بجے )سے 10 روزہ جنگ بندی نافذ کریں گے تاکہ مستقل سکیورٹی اور امن کے معاہدے کی جانب مذاکرات ممکن بنائے جا سکیں۔باہمی اتفاق سے جنگ بندی کی مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے ۔جنگ بندی کے نافذ ہوتے ہی لبنانی حکومت ایسے اقدامات کرے گی تاکہ حزب اللہ اور دیگر تمام غیر ریاستی مسلح گروہ اس کی سرزمین سے اسرائیل کے خلاف کسی بھی حملے سے باز رہیں۔تمام فریق اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ لبنان کی خودمختاری اور قومی دفاع کی مکمل ذمہ داری صرف اس کی سکیورٹی فورسز کے پاس ہے ؛ کوئی اور ملک یا گروہ لبنان کی خودمختاری کا ضامن ہونے کا دعویٰ نہیں رکھتا،معاہدے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل جنگ بندی کے دوران منصوبہ بند، فوری یا جاری حملوں کے خلاف اپنے دفاع میں ضروری اقدامات کر سکتا ہے ، تاہم اس نے 10 دنوں کے دوران لبنان میں کسی بھی جارحانہ فوجی کارروائی نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے ۔جنگ بندی کے معاہدے کے مطابق دونوں ممالک نے امریکا سے درخواست کی ہے کہ وہ ان کے درمیان براہِ راست مزید مذاکرات میں سہولت فراہم کرے تاکہ بین الاقوامی زمینی سرحد کی حد بندی سمیت باقی تمام مسائل حل کیے جا سکیں۔