لبنان اسرائیل جنگ بندی امریکا ایران مذاکرات کا حصہ : دفتر خارجہ

لبنان اسرائیل جنگ بندی امریکا  ایران مذاکرات کا حصہ : دفتر خارجہ

اسلام آباد میں21گھنٹے کا مذاکراتی عمل تعمیری رہا، پاکستان ذمہ دار ریاست کے طور پر کردار جاری رکھے گا اعلیٰ عسکری قیادت کے دورۂ ایران سمیت مختلف سفارتی روابط پالیسی کا تسلسل ،ترجمان کی ہفتہ وار بریفنگ

اسلام آباد (دنیا نیوز ) ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان امریکا ایران کے درمیان ثالثی میں اہم کردار ادا کر رہا ، 21 گھنٹے پر مبنی مذاکراتی عمل مجموعی طور پر تعمیری رہا، پاکستان لبنان میں اسرائیلی جارحیت اور حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے ، اسرائیل لبنان جنگ بندی امریکہ ایران مذاکرات کا حصہ ہے ، اسے اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے ، پاکستان پیچیدہ جغرافیائی سیاسی چیلنجز اور تنازعات کے حل کے لئے اصولی، مکالمہ پر مبنی اور سفارتی پالیسی پر عمل پیرا ہے جو فریقین کے درمیان رابطے برقرار رکھے ہوئے ہے ۔پاکستان خطے میں امن کیلئے پر عزم ہے ، پاکستان عالمی سطح پر ایک تعمیری اور ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے گا اور تمام تنازعات کے حل کے لئے بات چیت ، سفارت کاری کو ہی واحد مؤثر راستہ سمجھتا ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ اسلام آباد مذاکرات کے انعقاد میں وزیر اعظم شہبازشریف نے بھرپور کردار ادا کیا، پاکستان کی امریکہ اور ایران کے درمیان سفار ت کاری کو سراہا جارہا ہے ، وزیراعظم ریجنل ممالک کے دورے پر ہیں، فیلڈ مارشل کل تہران پہنچے ہیں ۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے اس کردار کو دنیا بھر کے سفارتی حلقوں میں سراہا جارہا ہے ، دورے سے پہلے وزیر اعظم نے دنیا کے مختلف ممالک کے سربراہان سے رابطے کئے ، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم امن مذاکرات کے انعقاد کے لئے کوشاں رہی ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کوششوں سے ایران امریکا جنگ بندی ممکن ہوئی، وزیراعظم شہباز شریف کو دیگر ممالک کی قیادت کی ٹیلی فون کالز موصول ہوئیں، ایران امریکا مذاکرات 21 گھٹنے جاری رہے ، مجموعی طور پر یہ پراسس تقریباً 30 گھنٹے تک رہا، مذاکراتی عمل مجموعی طور پر تعمیری رہا ، پاکستان نے بطور سہولت کار اور ثالثی کردار کے تحت متعلقہ فریقین کے ساتھ رابطے جاری رکھے ہیں تاکہ خطے میں کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور تنازعات کے پرامن حل کی راہ ہموار ہو۔

ترجمان کے مطابق نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور اعلیٰ عسکری قیادت کے رابطوں اور سفارتی کوششوں کا مقصد خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینا ہے ، پاکستان کا مؤقف ہمیشہ یہ رہا ہے کہ تنازعات کا حل صرف بات چیت اور تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کی اعلیٰ عسکری قیادت کے دورۂ ایران سمیت مختلف سفارتی روابط بھی اسی پالیسی کا تسلسل ہیں، جن کا مقصد علاقائی امن کے لئے مشاورت اور رابطوں کو مزید مؤثر بنانا ہے ۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت خطے اور عالمی سطح پر سفارتی روابط کو مسلسل فعال رکھے ہوئے ہے تاکہ پیچیدہ جغرافیائی و سیاسی چیلنجز سے نمٹا جا سکے اور معاشی و سفارتی تعاون کو فروغ دیا جا سکے ، پاکستان کی سفارت کاری کا محور مسلسل رابطہ، مذاکرات اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا ہے اور یہی پالیسی خطے میں استحکام اور معاشی بہتری کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں