جنگ بندی بدھ کو ختم : ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کردیا، ہمیں بلیک میل نہیں کیا جاسکتا : ٹرمپ

جنگ بندی بدھ کو ختم : ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کردیا، ہمیں بلیک میل نہیں کیا جاسکتا : ٹرمپ

ایرانی بحریہ اپنے دُشمنوں کو ’ نئی عبرت ناک شکست‘ دینے کے لیے تیار :مجتبیٰ خامنہ ای ،2انڈین جہازوں پر فائرنگ ، ایران کے سفیر کی بھارتی وزارت خارجہ میں طلبی ،امریکا کی نئی تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں :سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل امن مذاکرات کے اگلے دور کی کوئی تاریخ طے نہیں ، پہلے فریم ورک پر متفق ہونا ضروری : ایرانی نائب وزیر ، بہت اچھی اورذہین شخصیت وائٹ ہاؤس آرہی ، کوئی سرپرائز ہوسکتا ،امن معاہدہ نہ ہوا تو لڑائی دوبارہ شروع : امریکی صدر

تہران ،وا شنگٹن ( نیوز ایجنسیاں )ایران نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول سخت کر رہا ہے اور بحری جہازوں کو خبردار کیا ہے کہ یہ اہم توانائی گزرگاہ ایک بار پھر بند کر دی گئی ہے ۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ تہران اس آبی راستے کو بند کر کے امریکہ کو بلیک میل نہیں کر سکتا۔تہران کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کے تسلسل کے جواب میں کیا گیا ہے جسے ایران نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے ۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ناکہ بندی کے بعد 23 جہازوں کو واپس جانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش سے قبل ایک درجن سے زائد آئل ٹینکرز جن میں تین پابندیوں کا شکار جہاز بھی شامل تھے، گزرنے میں کامیاب ہوئے ،دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ٹیلی گرام چینل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ایرانی بحریہ اپنے دُشمنوں کو ‘نئی عبرت ناک شکست’ دینے کے لیے تیار ہے۔

بھارت نے آبنائے ہرمز میں دو انڈین جہازوں پر فائرنگ کر کے ان کا رخ تبدیل کرنے کے واقعہ پر ایران سے شدید تشویش کا اظہار کیا۔ بھارتی وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز انڈیا میں تعینات ایرانی سفیر محمد فتحلی کو طلب کیا اور ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے فائرنگ کے واقعہ پرسخت احتجاج ریکارڈ کرایا۔ایران نے کہا ہے کہ وہ جنگ بندی کے حوالے سے امریکہ کی نئی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے ۔ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے ایک بیان میں بتایا کہ یہ امریکی تجاویز پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے پیش کی گئیں۔ پاکستان کے آرمی چیف ایران اور امریکہ کے درمیان ایک ثالث کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں اور انہوں نے اپنے حالیہ دورۂ تہران کے دوران یہ تجاویز ایران کو پیش کیں جن کا تاحال جائزہ لیا جا رہا ہے ۔تاہم ایرانی حکام کی جانب سے اس بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان تجاویز میں کیا ہے ۔ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا کہنا ہے کہ ایران نے تاحال ان تجاویز کا کوئی جواب نہیں دیا تاہم مزید بات چیت کے لیے ضروری ہے کہ امریکہ زیادہ مطالبات ترک کرے اور زمینی حقائق کے مطابق درخواستیں کرے۔
ایران آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت پر اس وقت تک مکمل کنٹرول برقرار رکھے گا جب تک جنگ مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتی اور خطے میں دیرپا امن قائم نہیں ہو جاتا۔سکیورٹی کونسل کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران آبنائے ہُرمز میں سے گزرنے والے جہازوں کی تفصیلی معلومات جمع کرے گا انہیں ٹرانزٹ سرٹیفکیٹ جاری کرے گا اور اُن پر ٹول بھی عائد کرے گا ۔ ایک ایرانی سفارتی ذرائع نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ میرا نہیں خیال کہ پیر کو مذاکرات ہو رہے ہیں۔ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے ایران-امریکہ امن مذاکرات کے اگلے دور کی کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی کیونکہ پہلے دور کی ناکامی کے بعد ابھی تک کسی حتمی پیش رفت پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ سعید خطیب زادے نے ترکی کے جنوبی صوبے انطالیہ میں ہونے والے سالانہ سفارتی فورم کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ہم متفق نہیں ہو جاتے ہم تاریخ طے نہیں کر سکتے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی فریق بہت زیادہ ٹویٹس اور بہت زیادہ باتیں کرتا ہے۔ کبھی یہ بیانات الجھا دینے والے ہوتے ہیں اور کبھی ایک دوسرے سے متضاد ہوتے ہیں۔اس سے چند گھنٹے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے کچھ اچھی خبروں کا ذکر کیا تھا تاہم انہوں نے اس کی مزید تفصیل بتانے سے گریز کیا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر بدھ تک کوئی امن معاہدہ طے نہ پایا تو لڑائی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے کیونکہ اس روز دو ہفتوں پر مشتمل جنگ بندی کی مدت ختم ہو رہی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران سے متعلق ہمارے پاس اچھی خبر ہے ، آج (اتوار کو)کوئی سرپرائز ہو سکتا ہے۔ ایک بہت اچھی اورذہین شخصیت وائٹ ہاؤس آرہی ہے ، ایک ایسی شخصیت جسے اپنے ملک اور ملک سے باہر کی بہت فکر ہے، ہم صبح ایک غیرمعمولی نیوزکانفرنس کرنے جا رہے ہیں۔ ایران کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بتایا کہ ملک کے مشرقی حصے سے گزرنے والی بین الاقوامی پروازوں کے لیے ایرانی فضائی حدود جزوی طور پر دوبارہ کھول دی گئی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں