امریکی فوج نے ایک اور جہاز روک لیا: عظیم معاہدہ ہو گا ورنہ حملے کیلئے تیار: ٹرمپ ، دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات قبول نہیں : ایران

امریکی فوج نے ایک اور جہاز روک لیا: عظیم معاہدہ ہو گا ورنہ حملے کیلئے تیار: ٹرمپ ، دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات قبول نہیں : ایران

ایران مذاکرات کی کامیابی کیلئے 8خواتین رہا کرے ، تہران فوجی ضروریات پوری کرنا چاہتا ،چین کا بھیجا ‘‘تحفہ ’’روک دیا،امارات کیساتھ کرنسی تبادلہ زیر غور:امریکی صدر ٹرمپ جنگ بندی کی خلاف ورزی ،ناکہ بندی سے مذاکرات کو ہتھیار ڈالنے کی میز میں تبدیل کرنا چاہتے :قالیباف،حملے کا زیادہ سخت جواب دینگے :ایرانی حکومت

تہران،واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی فوج نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے دوران ایک اور جہاز روک لیا ، صدر ٹرمپ نے کہا مجھے لگتا ہے ہمارے درمیان عظیم معاہدہ ہوگا،ورنہ حملے کیلئے تیار ہیں، ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے کہا دھمیکوں کے سائے میں مذاکرات قبول نہیں ہیں۔پینٹاگون کے مطابق امریکی فوج نے انڈو پیسفک خطے میں پابندی زدہ ٹینکر ایم ٹی ٹیفانی کو روک کر جانچ کی کارروائی کی، ایکس پر جاری کی گئی ویڈیو میں ایک امریکی ہیلی کاپٹر کو ایرانی کمپنی سے منسلک تیل بردار جہاز پر اترتا ہوا بھی دکھایا گیا گیا،امریکی محکمہ جنگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ بغیر کسی واقعے کے بے وطن اور پابندی زدہ جہاز ایم ٹی ٹیفانی کی جانچ،  سمندری روک تھام اور اس پر سوار ہونے کی کارروائی کی۔جس کا مقصدایران کی حمایت کرنے والے غیر قانونی نیٹ ورکس میں خلل ڈالنا تھا۔

ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق جہاز نے آخری بار اپنی پوزیشن منگل کی صبح بحر ہند میں سری لنکا کے قریب ظاہر کی تھی ،جو کہ خام تیل سے مکمل طور پر بھرا ہوا تھا اور اس نے اپنی منزل سنگاپور ظاہر کی تھی۔میرین ٹریفک کے اعداد و شمار کے مطابق خام تیل بردار ٹینکر ٹیفانی کی گنجائش تقریباً تین لاکھ ٹن ہے ، اس ٹینکر پر امریکا کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثوں کے کنٹرول کی جانب سے پابندیاں عائد ہیں اور اس کا تعلق ایک انڈین شپنگ کمپنی سے ہے جس پر ایران سے روابط کے باعث امریکی پابندیاں ہیں۔یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی جب دو ہفتے کی جنگ بندی اپنے اختتام کے قریب تھی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا موجودہ ایرانی رہنما عقل مند ہیں، امریکا بہت بڑا معاہدہ کرنے والا ہے ، سی این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا وہ ایک ایسی عظیم ڈیل چاہتے ہیں جو امریکا کیلئے قابل قبول ہو اور ایران کو مستقبل میں مدد دے گی۔ ایران ڈیل کر لیتا ہے تو وہ خود کو بہتر پوزیشن میں لاسکتا ہے ، میں ایک عظیم ڈیل کرنا چاہتا ہوں مجھے اس معاملے میں جلدی نہیں۔امریکا کی مذاکراتی پوزیشن بہت مضبوط ہے ، ان کے نمائندے مشرق وسطیٰ کے تنازع کے خاتمے کیلئے پاکستان میں ایران کے ساتھ مذاکرات کی تیاری کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا دو ہفتوں تک جاری جنگ بندی کے دوران امریکا نے خطے میں اپنی فورسز کو مضبوط کیا ہے اور وہ دوبارہ ضرورت پڑنے پر بمباری کرنے کیلئے تیار ہیں۔انہوں نے مزید کہا میں جنگ بندی میں توسیع نہیں کرنا چاہتا،ہمارے پاس اتنا وقت نہیں۔انہوں نے کہا ایران کے پاس مذاکراتی وفد بھیجنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے ،ٹرمپ نے کہا مجھے لگتا ہے کہ ہمارے درمیان ایک عظیم معاہدہ ہوگا۔امریکا مذاکرات کیلئے اچھی پوزیشن میں ہے اورہم آبنائے ہرمز کو کنٹرول کر رہے ہیں،ایران کے پاس ‘یہی راستہ ہے ’ اور انھیں ‘مذاکرات کرنا ہوں گے ،اگر ایران معاہدہ کر لیتا ہے تو وہ دوبارہ مضبوط اور ایک عظیم قوم بن سکتا ہے ،اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر دوبارہ بمباری شروع ہو سکتی ہے ۔ٹرمپ سے براہِ راست پوچھا گیا کہ اگر اسلام آباد میں ہونے والے آئندہ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو کیا وہ دوبارہ حملے شروع کریں گے ،اس پر ٹرمپ نے کہا کہ میری توقع ہے کہ بمباری ہو گی کیونکہ میرے خیال میں اسی ذہنیت کے ساتھ آگے بڑھنا بہتر ہے ،لیکن آپ جانتے ہیں، ہم تیار ہیں،میرا مطلب ہے کہ فوج پوری طرح تیار ہے۔انہوں نے کہا مجھے کم عقل اور غدار لوگوں کی پرواہ نہیں، ہم نے وینزویلا پر 45 منٹ میں قبضہ کر لیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں صدر ہوتا تو فوری طور پر ویت نام پر قبضہ کر لیتا، میں صدر ہوتا تو عراق جنگ میں بھی فوری کامیابی حاصل کر لیتا۔ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں الزام لگایا کہ ایران نے جنگ بندی کے معاہدے کی متعدد بار خلاف ورزی کی ہے ، انہوں نے کہا گزشتہ برس آپریشن مڈ نائٹ ہیمرکے تحت ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کے بعد اب وہاں سے یورینیم نکالنا ایک طویل اور مشکل مرحلہ ہو گا۔وائٹ ہاؤس کی طرف سے ایکس پر ٹرمپ کے جاری بیان میں کہا گیا کہ اگر کوئی ڈیل ہوتی ہے تو یہ صرف اسرائیل یا مشرق وسطیٰ میں نہیں بلکہ یورپ، امریکا اور ہر جگہ پر امن، سکیورٹی اور حفاظت کی ضامن ہو گی۔ٹرمپ نے سی این این کو دئیے گئے انٹرویو میں کہا متحدہ عرب امارات کے ساتھ کرنسی کا تبادلہ زیرغور ہے ،اُنھوں نے کہا کہ امارات ان غیر معمولی حالات میں ہمارا بہت اچھا اتحادی رہا ہے ۔ تاہم، ٹرمپ نے واضح طور پر تسلیم کیا کہ ایک امیر ملک کی مالی معاونت کرنے سے امریکا کے اندر ردعمل ہو سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ سعودی عرب اس وقت ہم سے کچھ نہیں مانگ رہا، اُنھوں نے بطور اتحادی سعودی عرب کی تعریف بھی کی۔ٹرمپ نے کہا وہ لڑ رہے ہیں، وہ ہماری مدد کر رہے ہیں، وہ آبنائے پر ہماری مدد کر رہے ہیں۔ٹرمپ نے ایک بار پھر یورپی اتحادیوں اور نیٹو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو مدد نہیں کر رہے ، وہ نیٹو ممالک ہیں۔ ہمیں ان کی کبھی ضرورت نہیں ہو گی۔ درحقیقت انھیں ہماری ضرورت ہو گی۔ کیونکہ وہ کاغذی شیر ہیں۔ٹرمپ نے کہا ایران امریکا کے ساتھ امن مذاکرات کی کامیابی کے امکانات بہتر بنانے کیلئے آٹھ خواتین کو رہا کرے ، جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ انہیں سزائے موت کا سامنا ہے ۔انہوں نے کہا میں ان خواتین کی رہائی کو بہت سراہوں گا۔ یہ ہمارے مذاکرات کے آغاز کیلئے ایک بہترین قدم ہوگا۔ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسی پوسٹ کے جواب میں سامنے آیا جو امریکا میں ایک اسرائیل نواز نوجوان سرگرم کارکن نے ایکس پر شیئر کی تھی،اس پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ آٹھ خواتین کو پھانسی دئیے جانے کا خطرہ ہے ۔ تاہم اس دعوے کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی، اور نہ ہی ان خواتین کے نام واضح طور پر بتائے گئے تھے ، صرف ان کی تصاویر شامل تھیں۔ ٹرمپ نے مزید کہا امریکی افواج نے ایک ایسے بحری جہاز کو روک لیا ہے جو چین کی جانب سے ایران کے لیے  تحفہ  لے کر جا رہا تھا، جبکہ تہران جنگ بندی کے دوران اپنی فوجی ضروریات دوبارہ پورا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ٹرمپ نے سی این بی سی کو بتایا کہ اس جہاز پر چین کی طرف سے ایک تحفہ موجود تھا جو اچھا نہیں تھا۔ انہوں نے کہا: مجھے اس پر کچھ حیرت ہوئی، اور مزید کہا کہ ان کا خیال تھا کہ ان کے اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان ایک سمجھوتا موجود ہے ۔ایک ہفتہ قبل ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ شی جن پنگ نے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ چین ایران کو کوئی اسلحہ فراہم نہیں کرے گا، جو کئی برسوں سے بیجنگ کا قریبی شراکت دار رہا ہے ۔ادھر دوسری جانب ایران نے کہا کہ اس نے ابھی تک امریکا کے ساتھ نئے امن مذاکرات کیلئے کوئی وفد نہیں بھیجا، جبکہ مشرق وسطیٰ میں جنگ روکنے کیلئے کیا گیا عارضی جنگ بندی معاہدہ ختم ہونے کے قریب ہے ۔ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف نے کہا ایران کو دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات قبول نہیں۔ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا ٹرمپ جنگ بندی کی خلاف ورزی اور ناکہ بندی کے ذریعے مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے کی میز میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں یا اپنی اشتعال انگیزی کا جواز پیش کرنا چاہتے ہیں۔ہمیں دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات قبول نہیں اور پچھلے دو ہفتے میں ہم نے میدان جنگ میں نئے پتے لانے کی تیاری کی ہے ۔ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہاہم دوبارہ حملے نہیں چاہتے ، لیکن اگر ایسا ہوا تو ہم پہلے سے زیادہ سخت جواب دیں گے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں