بلوچستان میں زیتون کی کاشت کا ایک اہم سنگِ میل عبور

بلوچستان میں زیتون کی کاشت کا ایک اہم سنگِ میل عبور

زیتون ایک بار لگا کر تقریباً 40 سے 50سال تک پیداوار دیتا ، ماہرین ’’بلوچستان کا زیتون‘‘عالمی معیار کی پہچان بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے

لورالائی(نامہ نگار )بلوچستان میں زیتون کی کاشت نے ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے ، لورالائی زیتون کی پیداوار کا نیا مرکز بنے گا تقریباً 26 لاکھ زیتون کے پودے اب باقاعدہ پیداوار کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ صوبے کے مختلف اضلاع میں جاری  اس زرعی انقلاب نے نہ صرف مقامی معیشت کو تقویت دی ہے بلکہ پاکستان کو عالمی زیتون مارکیٹ میں ایک ابھرتی ہوئی قوت کے طور پر بھی متعارف کروانا شروع کر دیا ہے ۔ماہرین زراعت کے مطابق ضلع لورالائی زیتون کی کاشت کا مرکزی حب بن کر سامنے آیا ہے ، جہاں پیدا ہونے والے زیتون میں تیل کی شرح 25 سے 32 فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے ۔ یہ شرح بین الاقوامی معیار کے مطابق نہایت اعلیٰ تصور کی جاتی ہے۔

جو اس خطے کی زمین اور موسمی حالات کی موزونیت کو ظاہر کرتی ہے خشک سالی کا مؤثر متبادل بلوچستان جیسے خشک سالی سے متاثرہ خطے میں زیتون کی کاشت ایک پائیدار اور مؤثر متبادل کے طور پر ابھر رہی ہے ۔ زرعی ماہرین کے مطابق زیتون کا پودا کم پانی میں بھی نشوونما پا سکتا ہے اور ایک بار لگانے کے بعد تقریباً 40 سے 50 سال تک مسلسل پیداوار دیتا ہے ۔ یہی خصوصیات اسے موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں ایک سٹر ٹیجک فصل بناتی ہیں۔کاشتکاروں کے لئے معاشی خوشحالی کی نوید زیتون کی بڑھتی ہوئی پیداوار کے ساتھ ساتھ اس کہ پراسیسنگ، پیکجنگ اور ویلیو ایڈیشن کے شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کے مواقع بڑھ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جدید مشینری اور مارکیٹنگ کے نظام کو فروغ دیا جائے تو کاشتکاروں کی آمدن میں کئی گنا اضافہ ممکن ہے ۔

مقامی سطح پر آئل ایکسٹریکشن یونٹس کے قیام سے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔مکمل پیداوار کی جانب پیش رفت حکام کے مطابق بلوچستان2028-29 تک مکمل پیداواری مرحلے میں داخل ہو جائے گا، جس کے بعد نہ صرف ملکی ضروریات پوری کی جا سکیں گی بلکہ برآمدات کے ذریعے قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل ہونے کی توقع ہے ۔قومی و عالمی تناظرعالمی سطح پر زیتون کے تیل کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ، خصوصاً صحت بخش غذا کے رجحان کے باعث اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے ۔ ایسے میں بلوچستان کا زیتون عالمی منڈی میں اپنی جگہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے ۔ وائس آف بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ صوبے کے محنتی کسانوں کی کاوشوں کو قومی و بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرے گا ان کے مطابق،یہ زیتون صرف ایک پودا نہیں بلکہ بلوچستان کی خوشحالی، خودکفالت اور روشن مستقبل کی علامت ہے بلوچستان میں زیتون کی کاشت نہ صرف زرعی ترقی کی ایک روشن مثال ہے بلکہ یہ موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے ، دیہی معیشت کو مستحکم کرنے اور پاکستان کو زرعی برآمدات میں خود کفیل بنانے کی جانب ایک اہم قدم بھی ہے ۔ مستقبل قریب میں’’بلوچستان کا زیتون‘‘عالمی معیار کی پہچان بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں