جنگ بندی برقرار : امریکا، ہم پر حملے ہورہے ہیں : امارات ، پاکستان کی ثالثی جاری : ایران
ایرانی فوج کھلونا ہتھیاروں سے فائرنگ تک محدود،انہیں معلوم جنگ بندی کی خلاف ورزی کیلئے کیا نہیں کرنا، وہ کھیل کھیلتے ہیں لیکن معاہدہ کرنا چاہتے ہیں:ٹرمپ محفوظ راستہ بنا لیا،سیکڑوں جہاز قطار میں کھڑے :ہیگستھ،صورتحال امریکا کیلئے ناقابل برداشت:قالیباف،امریکا ،امارات دلدل میں نہ پھنسیں:عراقچی، چین چلے گئے
واشنگٹن،قاہرہ (رائٹرز)متحدہ عرب امارات نے منگل کو کہا کہ اس پر ایرانی میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا جا رہا ہے ، جبکہ واشنگٹن کا کہنا تھا کہ ایک غیر مستحکم جنگ بندی برقرار ہے ، حالانکہ ایک دن قبل فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا جب امریکی افواج آبنائے ہرمز کو کھلوانے کی کوشش کر رہی تھیں۔امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے یہ کارروائی عارضی ہے اور چار ہفتے پرانی جنگ بندی ختم نہیں ہوئی۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا، "ہم لڑائی نہیں چاہتے ۔ اس وقت جنگ بندی یقینی طور پر برقرار ہے ، لیکن ہم بہت، بہت قریب سے نگرانی کریں گے۔ہیگستھ نے کہا کہ امریکا نے اس تنگ آبی راستے سے کامیابی کے ساتھ ایک محفوظ راستہ بنا لیا ہے اور سیکڑوں تجارتی جہاز گزرنے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی فوج اب صرف کھلونا ہتھیاروں (پی شوٹرز) سے فائرنگ کرنے تک محدود ہو گئی ہے اور تہران، عوامی دھمکی آمیز بیانات کے باوجود، امن چاہتا ہے ۔ انہوں نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، وہ کھیل کھیلتے ہیں، لیکن میں آپ کو بتا دوں، وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کے لیے ایران کو کیا کرنا ہوگا، تو انہوں نے کہا: انہیں معلوم ہے کہ کیا نہیں کرنا۔ منگل کو ہیگستھ کے بیان کے فوراً بعد، متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام ایک بار پھر ایران کی جانب سے آنے والے میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ اس سے قبل ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا تھا کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں آبنائے ہرمز سے گزرنے والی جہاز رانی کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔
جہاں سے دنیا کے تیل اور کھاد کی فراہمی کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے ۔انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا،ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ موجودہ صورتحال کا جاری رہنا امریکا کے لیے ناقابلِ برداشت ہے ، جبکہ ہم نے ابھی تک واقعی آغاز بھی نہیں کیا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی میں امن مذاکرات اب بھی جاری ہیں، اور انہوں نے امریکا اور متحدہ عرب امارات کو خبردار کیا کہ وہ خود کو کسی "دلدل" میں نہ پھنسائیں۔ وہ منگل کو اپنے چینی ہم منصب سے بات چیت کے لیے بیجنگ چلے گئے ، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ بھی اسی ماہ چین کا دورہ کرنے والے ہیں۔مذاکرات میں شامل ایک سینئر پاکستانی عہدیدار نے کہا: ہم نے بہت زیادہ کوششیں کی ہیں ۔ درحقیقت دونوں فریقوں نے بیشتر معاملات پر اپنے اختلافات کم کر لیے ہیں۔