شہباز شریف ،سعودی ولی عہد کی امارات پر حملوں کی مذمت
حملے بلاجواز:فرانسیسی صدر،ایران مذاکرات کی میز پر واپس آئے :جرمن چانسلر پاکستانی سفارتی کوششوں کی حمایت،ٹرمپ کی تجویز کا جائزہ لے رہے :جنوبی کوریا
اسلام آباد ، ریاض(نامہ نگار، مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امارات پر حملو ں کی شدید مذمت کی ہے ۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا پاکستان گزشتہ رات متحدہ عرب امارات میں شہری انفراسٹرکچر پر ہونے والے میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے ۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس مشکل وقت میں اپنے اماراتی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات کی حکومت کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی ضروری ہے کہ جنگ بندی کو برقرار رکھا جائے اور اس کا احترام کیا جائے ، تاکہ مذاکرات کیلئے ضروری سفارتی گنجائش پیدا ہو سکے ، جو خطے میں دیرپا امن اور استحکام کی طرف لے جائے۔سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ زاید بن النہیان سے ٹیلی فونک گفتگو میں امارات پر تازہ حملوں کی مذمت کی اور امارات کی سلامتی اور استحکام کیلئے امارات کی حمایت کا اعادہ کیا۔
دونوں رہنماؤں نے خطے کی حالیہ صورتحال، علاقائی سلامتی اور استحکام بڑھانے کی کوششوں پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے ایران کے امارات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں سنگین جارحیت اور کشیدگی میں اضافہ قرار دیا۔سعودی عرب نے خطے میں فوجی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا اور کشیدگی میں کمی کی اپیل کرتے ہوئے ملکوں پر زور دیا کہ وہ سیاسی حل تک پہنچنے کیلئے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت کریں۔جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے تہران سے اپیل کی کہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آئے اور خطے اور دنیا کو یرغمال بنانا بند کرے ۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں نے بھی امارات پر حملوں کو بلاجواز اور ناقابلِ قبول قرار دیا ہے ۔دریں اثنا جنوبی کوریا کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ جنوبی کوریا اہم آبی گزرگاہ سے متعلق صدر ٹرمپ کی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے۔