آئی ایم ایف :پاکستان کیلئے 1ارب 20کڑور ڈالر قرض کی منظوری
پاکستان کی معاشی اصلاحات ، مالیاتی نظم و ضبط کی تعریف،اگلی قسط کیلئے 14 نئی شرائط،12مئی سے بجٹ مشاورت
اسلام آباد ، واشنگٹن ( نمائندہ دنیا ،دنیا نیوز، ایجنسیاں)آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے واشنگٹن میں منعقدہ اہم اجلاس کے دوران پاکستان کے لیے 1اعشاریہ 2ارب ڈالر کی قسط جاری کرنے کی حتمی منظوری دے دی ہے ،یہ منظوری پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ہونے والے حالیہ معاشی جائزوں کی کامیاب تکمیل کے بعد دی گئی ،وزارت خزانہ کے مطابق قرض کی یہ قسط ای ایف ایف اور آر ایس ایف پروگرامز کے تحت فراہم کی جائے گی، منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت (EFF) پروگرام کے تحت ایک ارب ڈالر جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ریزی لینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (RSF) کے تحت 20کروڑ ڈالر اضافی موصول ہوں گے ،آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کی جانب سے کی گئی معاشی اصلاحات، بشمول سخت مانیٹری پالیسی، مالیاتی نظم و ضبط اور ٹیکس نیٹ میں اضافے کی کوششوں کو سراہا ہے ، اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان کو پائیدار ترقی کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھنا ہوگا، خاص طور پر توانائی کے شعبے میں گردشی قرضوں پر قابو پانے اور نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کی ضرورت ہے ، ذرائع کے مطابق یہ رقم اگلے چند روز میں پاکستان کو موصول ہونے کی توقع ہے جس سے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملے گا اور بیرونی ادائیگیوں کے حوالے سے دباؤ میں نمایاں کمی آئے گی۔
ملکی معیشت پر مارکیٹ کے اعتماد میں مزید اضافہ ہوگا،یاد رہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 27 مارچ کو سٹاف لیول معاہدہ طے پایا تھا ،ایگزیکٹو بورڈ نے اسی معاہدے کی روشنی میں قرض قسط کی حتمی منظوری دی، جائزہ مشن نے پاکستان کی معیشت کا جائزہ لینے کے بعد قرض جاری کرنے کی سفارش کی تھی ، اگلی قسط کیلئے آئندہ اقتصادی جائزہ سے قبل 14 نئی شرائط پوری کرنا ہونگی اور معاشی استحکام کیلئے موجودہ پیٹرن پر عملدرآمد جاری رکھنا ہو گا ،قرض منظوری کے بعد پاکستان کو اب تک آئی ایم ایف سے مجموعی طور پر 4 اعشاریہ 5 ارب ڈالر موصول ہو چکے ہیں،پاکستان کو قسط ملنے کے بعد سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے ،یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ قرض پروگرام کے دوران طے شدہ اہداف کو مکمل کرے گی، حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ کیلئے مشاورت آئندہ ہفتے شروع ہو گی ، بجٹ تیاری کیلئے آئی ایم ایف وفد 12 مئی کو پاکستان پہنچے گا جس کے بعد آئندہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ آئی ایم ایف کی مشاورت کیساتھ تیار کیا جائے گا تاکہ مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھا جا سکے ، آئی ایم ایف کی نئی شرائط میں یہ شق بھی شامل ہے کہ پارلیمنٹ سے آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق بجٹ کی منظوری ہو گی ، ٹیکس مراعات کو مرحلہ وار ختم کرنا، منافع پر مبنی مراعات کے بجائے لاگت پر مبنی نظام متعارف کرانا شامل ہے ۔